سکھ چھاونی سے کشیدگی کو ختم کرنے اور دفعہ 144 کو ہٹانے پر زور

تشدد واقعہ پر تشکیل کمیٹی کی کمشنر سائبر آباد و ایڈیشنل کمشنر سے نمائندگی ، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

تشدد واقعہ پر تشکیل کمیٹی کی کمشنر سائبر آباد و ایڈیشنل کمشنر سے نمائندگی ، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

حیدرآباد۔15مئی(سیاست نیوز) سکھ چھاونی ‘ کشن باغ میںپیش آئے فرقہ وارانہ تشدد اور مابعد پولیس فائرنگ میںہوئی ہلاکتوں کے متعلق مختلف رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے تشکیل دی گئی حقائق سے آگاہی کمیٹی کے وفد نے ایڈیشنل کمشنر ٹی گنگادھرسے ملاقات کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی ۔ بعدازاں وفد نے مختلف دواخانوں میںزیر علاج متاثرین سے ملاقات کرکے معلومات حاصل کئے۔ نائب صدر واسٹیٹ کوآرڈینٹر تلنگانہ پرجافرنٹ کے علاوہ نانک سنگھ نشتر، منیر الدین مجاہد‘ پروفیسر انور خان‘ خالد رسول خان‘ ثناء اللہ خان‘ محمد مظہر حسین‘ حیات حسین حبیب‘ علی بن سعید الگتمی نے کمشنر پولیس سائبرآباد سی وی آنند‘ ایڈیشنل کمشنر پولیس ٹی گنگادھرسے ملاقات کرتے ہوئے سکھ چھاونی ‘ کشن باغ میں پولیس فائرنگ سے ہوئی ہلاکتوں کے بعد سے شہر حیدرآباد کے اقلیتی طبقے میں پولیس کے متعلق پیدا ہونے والے عدم اعتماد کو بحال کرنے واقعہ کی تحقیقات میںغیرجانبداری برتنے کی اپیل کی۔بعدازاں میڈیا سے با ت کرتے ہوئے مسٹر ویدا کمار نے کہاکہ امن وامان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بحالی اور سکھ چھاونی سے کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے متاثرہ علاقہ سے دفعہ144کو ہٹانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشن باغ میں سکھ طبقے کے مقدس پرچم کو نذرآتش کرنے کا واقعہ یقیناً قابلِ مذمت ہے مگر واقعہ کے پیدا ہونے والے حالات پر قابو پانے کے نام پر پولیس کا اقدام ‘ بالخصوص ہجوم پر راست فائرنگ مسلمانوں کو مزید دہشت زدہ بنارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایڈیشنل کمشنر گنگادھر کی جانب سے فائرنگ کے متعلق دی گئی وضاحت کو غیر تشفی بخش قراردیا ۔ انہوں نے کہاکہ کمیٹی کاوفد عنقریب سکھ اور مسلم سماج کے مقامی دس دانشواروں سے ملاقات کرے گا اور وقفہ وقفہ سے سکھ چھاونی میںپیدا ہونے والے حالات کا مستقل حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے سکھ طبقے کے مقدس پرچم کو نذرآتش کرنے اور اس کے بعد سکھ چھاونی میںپھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فساد کے علاوہ پولیس فائرنگ میںہوئی ہلاکتوں کی برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ نانک سنگھ نشتر نے بھی واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔جناب منیر الدین مجاہد نے بھی پولیس کی وضاحت کو غیر تشفی بخش قراردیا انہوں نے کہاکہ تصادم میں شدت پید ا کرنے کے خدشات کو دور کرنے کے لئے پولیس کے زائد دستوں کی موجودگی کے باوجود ہجوم پر بے دریغ فائرنگ بے قصور مسلم نوجوانوں کی موت کا سبب بنی۔ انہوں نے کہاکہ سکھ چھاونی میں پیش آئے واقعات کی اعلی سطحی کمیٹی کے ذریعہ فاسٹ ٹریک تحقیقات ناگزیر ہے۔ پروفیسر انور خان نے سکھ چھاونی واقعہ کو افسوس ناک قراردیا انہوں نے کہاکہ علاقہ میں ہونے والی کشیدگی کا مستقل حل ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT