Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / سکیورٹی تعاون کیلئے طریقہ کار سے ہند ۔ آسٹریلیا کا اتفاق

سکیورٹی تعاون کیلئے طریقہ کار سے ہند ۔ آسٹریلیا کا اتفاق

کینبرا۔18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور آسٹریلیا نے آج مختلف شعبوں دفاع، سائبر اور میری ٹائم سکیورٹی، دہشت گردی سے نمٹنے بشمول غیرملکی جنگجوؤں کے انتہا پسند گروپس میں شمولیت سے لاحق خطرات کے معاملے میں تاریخی سکیورٹی تعاون کے طریقہ کار سے اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم ہند نریندر مودی اور آسٹریلیا کے ہم منصب ٹونی اباٹ کی آج چوٹی ملاق

کینبرا۔18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور آسٹریلیا نے آج مختلف شعبوں دفاع، سائبر اور میری ٹائم سکیورٹی، دہشت گردی سے نمٹنے بشمول غیرملکی جنگجوؤں کے انتہا پسند گروپس میں شمولیت سے لاحق خطرات کے معاملے میں تاریخی سکیورٹی تعاون کے طریقہ کار سے اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم ہند نریندر مودی اور آسٹریلیا کے ہم منصب ٹونی اباٹ کی آج چوٹی ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ دونوں ممالک نے طویل عرصہ سے زیرتصفیہ آزادانہ تجارت معاہدہ کے بارے میں آئندہ ختم سال تک قطعی فیصلہ سے اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ سیول نیوکلیئر معاملت پر بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا تاکہ ہندوستان کو یورینیم کی درآمد میں سہولت ہوسکے۔ نریندر مودی نے سکیورٹی تعاون میں توسیع پر زور دیا اور اس علاقہ میں بین الاقوامی پارٹنرشپ کو فروغ دینے کی ضرورت ظاہر کی۔ وزیراعظم آسٹریلیا سے ملاقات کے بعد آسٹریلیائی پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشنس سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا اور دوسروں کو بھی اس میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ایک ایسا ماحول تیار ہوسکے جس میں باہمی بقاء و تعاون کو فروغ ملے۔

ایسے ماحول میں تمام ممالک خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، بین الاقوامی قوانین کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے ترقی کے فوائد سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی تنازعہ درپیش ہو تو بھی اسے بین الاقوامی قانون کے تحت حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ کی سکیورٹی کے معاملے میں ہمیں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ سمندر اور دیگر بین الاقوامی فورمس میں ہم مل کر کام کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں بین الاقوامی قانون اور عالمی قواعد کا احترام بھی رکھنا ضروری ہے۔ مودی کے اس تبصرہ کو چین پر بالواسطہ تنقید کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ ہندوستان اور آسٹریلیا دونوں چین کی بڑھتی جارحیت اور بحری تنازعات کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ یہ باہمی تعاون کا معاہدہ ایسے وقت کیا گیا جبکہ صدر چین شی جن پنگ یہاں سے تسمانیہ کے لئے روانہ ہوئے جہاں ان کی ملاقات پھر ٹونی اباٹ سے ہوگی۔ نریندر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے سیول نیوکلیئر معاہدہ کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے سے اتفاق کیا ہے۔

اس کے ذریعہ آسٹریلیا کو انتہائی محفوظ نیوکلیئر توانائی پروگرام میں شراکت کا موقع ملے گا۔ نریندر مودی اور ٹونی اباٹ نے گزشتہ ماہ دہلی میں چوٹی ملاقات کی تھی اور اس وقت ہندوستان اور آسٹریلیا نے سیول نیوکلیئر معاملت کو قطعیت دی تھی۔ آسٹریلیا میں دنیا کے یورینیم ذخائر کا 40 فیصد پایا جاتا ہے اور وہ سالانہ تقریباً 7 ہزار ٹن یورینیم برآمد کرتا ہے۔ ہندوستان اور آسٹریلیا نے 2012ء کے اوائل میں یورینیم کی فروخت کے لئے بات چیت شروع کی تھی۔ بعدازاں پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران نریندر مودی نے کہا کہ یہ علاقہ امن و استحکام کی بنیاد پر کافی ترقی کرچکا ہے، لیکن ہم اسے یونہی نظرانداز نہیں کرسکتے اور اس امن و استحکام کا تحفظ ہمارا سب سے اہم کام ہوگا۔ اس معاملے میں ہندوستان اور آسٹریلیا سکیورٹی تعاون میں اضافہ کے ذریعہ اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ٹونی اباٹ نے کہا کہ اگر تمام اُمور بہتر طور پر انجام پائیں تو آسٹریلیا موزوں حفاظتی اقدامات کے تحت ہندوستان کو یورینیم برآمد کرے گا،

کیونکہ صاف ستھری توانائی ایک ایسا اہم رول ہوگا جو آسٹریلیا دنیا بھر میں ادا کرسکتا ہے۔ اباٹ نے کہا کہ آئندہ سال کے ختم تک ہم آزادانہ تجارت معاملت کو بھی قطعیت دیں گے، اس کے ذریعہ یہ دنیا کی ایک بڑی مارکٹ بن سکتی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان، آسٹریلیا کو ترقی اور خوشحالی کے معاملے میں ایک اہم پارٹنر کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ نریندر مودی پہلے ہندوستانی وزیراعظم ہیں جو 28 سال بعد اس ملک کا دورہ کررہے ہیں۔ اس سے پہلے 1986ء میں راجیوگاندھی نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا۔ نریندر مودی آسٹریلیائی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ویژن میں آسٹریلیا کا مقام مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم متحدہ طور پر جمہوری نظریہ کے حامل ہیں۔ ہند ۔ آسٹریلیا روابط کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ دونوں ممالک کو مختلف شعبوں میں پارٹنرشپ کے وافر مواقع فراہم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT