Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / سکیولر ووٹوں کو تقسیم سے بچانے جامع حکمت عملی کی ضرورت

سکیولر ووٹوں کو تقسیم سے بچانے جامع حکمت عملی کی ضرورت

حکومت وعدوں کی تکمیل میں ناکام ۔ عوام کی توجہ ہٹانے فرقہ پرستانہ مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ جے ڈی یو لیڈر شرد یادو کا انٹرویو

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔12نومبر۔ہندستان میں وسط مدتی انتخابات ممکن نہیں ہیںکیونکہ موجودہ حکومت اقتدار کی حریص ہے اور ایک دن کی حکمرانی بھی نہیں چھوڑسکتی ۔ برسراقتدار جماعت ملک کے جمہوری نظام کیلئے خطرہ بن چکی ہے اور اس صورتحال میں عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کریں۔ ہندستان کی اقلیتیں بالخصوص مسلمان بی جے پی کے حق میں ووٹ کا استعمال نہیں کر سکتے لیکن انکے ووٹوں کو تقسیم کرکے ریاستوں میں اقتدار حاصل کیا جا رہا ہے ۔ جنتادل (یونائٹیڈ) کے سینیئر قائد شرد یادو نے اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک میں مشترکہ تہذیب کے تحفظ کیلئے مہم میں شدت ضروری ہے کیونکہ ملک کی تہذیب اور اس کے دستور کو بچانے ضروری ہے کہ سیکولر قوتیں متحد ہو جائیں۔ شردیادو نے کہا کہ ملک میں موجودہ حکومت نے جو انتخابی وعدہ کئے تھے انہیں پورا کرنے میں ناکامی ہوگئی ‘ اسی لئے صورتحال کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر ایسے مسائل میں عوام کو الجھا رہی جن کے ذریعہ تعصب پھیلتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندستانی مسلمان اور اقلیتیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ووٹ کا استعمال کر ہی نہیں سکتیں اور اس بات کا اندازہ بی جے پی کو بھی ہے اسی لئے وہ انکے ووٹوں کو تقسیم کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں سیکولر قوتوں کے ایک دوسرے سے مقابلہ کے نتیجہ میں بھی ووٹوں کی تقسیم ہو رہی ہے ۔ 2014 عام انتخابات میں 31 فیصد ووٹ لینے والی سیاسی جماعت نے اقتدار حاصل کیا جبکہ 69فیصد رائے دہندوں نے رائے دہی میں حصہ لیا تھا ۔ شرد یادو نے کہا کہ ملک میں سیکولر ووٹ کو متحد کرنے عوامی شعور اجاگر کرنا اور اپوزیشن کو مستحکم بنا کر ملک کے دستور کے تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست قوتیں ملک کے دستور میں بالواسطہ تبدیلی کی خواہاں ہیں انہیں ناکام بنانا عوام کی ذمہ داری ہے ۔ ملک میں جاری گھر واپسی‘ لوجہادجیسے مسائل ہوں یا ٹیپو سلطان اور تاج محل کو صرف اس لئے چھیڑا جا رہا ہے تاکہ عوام میں تفریق پیدا کی جائے ‘ بنیادی مسائل اور انتخابات سے قبل کئے گئے وعدوں سے توجہ ہٹائی جائے اور مذہبی خطوط پر رائے دہی میں اضافہ ہو ۔ شرد یادو نے کہا کہ ملک بھر میں گذشتہ 50 برسوں کے دوران اعلی ذات والوں نے پچھڑے اور پسماندہ طبقات کو کچل کر رکھا ہوا ہے

اور آج آر ایس ایس پسماندہ طبقات کو رجھانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ 2014 کے انتخابات کے دوران پسماندہ اور پچھڑے طبقات نے بی جے پی کی تائید نہیں کی ۔ انہوںنے بتایا کہ مودی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور اس ناکامی کو چھپانے کئی کوششیں کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے حالات انتہائی پیچیدہ ہیںاور سابق میں ہندستان کو کبھی اس طرح کے حالات کا سامنا نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر ریاستوں میں کسان پریشان حال ہیںاور انہیں ان کی پیداوار کی اقل ترین قیمت حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ تجارتی برادری ایک سال سے پریشانیوں کا سامنا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے ہندستانی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ بیرون ملک موجود کالا دھن لایاجائے گا لیکن گذشتہ برس 8نومبر کو کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے ذریعہ ملک کے عوام کے پاس موجود دولت چھین لی گئی ۔ نوٹ بندی کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ان سے ہر شہری متاثر ہوا لیکن حکومت کو احساس نہیں ہے۔شرد یادو نے کہا کہ ہندستان کثیر لسانی‘ کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی مملکت ہے اور ان سب کو نظر میں رکھتے ہوئے ہندستان کی دستور سازی ہوئی تھی جس میں جامع ثقافتی اصولوں کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسلم مملکت کا اعلان کرکے اس کے اعتبار سے اپنا قانون تیار کیا لیکن ہندستان نے جامع ثقافت اور ہندستان میں موجود کثرت میں وحدت کے نظریہ کو سامنے رکھ کر دستور مدون کیا جو آج خطرہ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندستانی جامع ثقافتی تہذیب اور دستور کے تحفظ کیلئے چلائی جانے والی مہم میں ملک کی بیشتر اپوزیشن جماعتیں بالخصوص کانگریس شامل ہے اور اجلاس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ‘ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے علاوہ کئی سرکردہ شخصیتیں شریک ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے بہار چیف منسٹر نتیش کمار کو دھوکہ باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں بہار کے عوام کو دھوکہ دیا ہے کیونکہ بہار کے عوام نے صرف جنتا دل (یو) کو نہیں بلکہ عظیم اتحاد کو ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے نتیش کمار کے یہ کہے جانے پر کہ لالوپرساد یادو کے فرزند پر مقدمات کے سبب انہوں نے علحدگی اختیار کی تو شرد یادو نے کہا کہ انتخابات سے پہلے بھی ان کے خلاف تحقیقات جاری تھیں۔ مسٹر شرد یادو نے کہا کہ ملک میں پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے اتحاد اور سیکولر ہندو کو ساتھ لیکر ہی فرقہ پرستوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور اگر ووٹ کی تقسیم کی سازش کا شکار ہوتے رہے تو صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئیگی اسی لئے اپوزیشن جماعتوں کو اپنی مضبوط حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT