Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / سگریٹ نوشی کی عادت سے نوجوانوں میں بھی قلب کے امراض میں اضافہ

سگریٹ نوشی کی عادت سے نوجوانوں میں بھی قلب کے امراض میں اضافہ

ذہنی تناؤ اور ناقص غذائی عادات بھی وجوہات میں شامل ۔ بچاؤ کیلئے عادتوں میں تبدیلی کی ضروری : ڈاکٹرس

ذہنی تناؤ اور ناقص غذائی عادات بھی وجوہات میں شامل ۔ بچاؤ کیلئے عادتوں میں تبدیلی کی ضروری : ڈاکٹرس
حیدرآباد۔ 8 ستمبر (سیاست نیوز) تناؤ اور مسلسل سگریٹ نوشی نوجوانوں میں قلب کے عارضہ کا باعث بنتی جارہی ہے۔ 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں میں امراض قلب کے پائے جانے پر ماہرین جو تحقیق کی ہے، اس کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران 20 تا 30 سال کی عمر کے نوجوانوں میں امراض قلب کی شکایات تیزی سے بڑھی ہیں اور کئی واقعات میں نوجوان قلب پر حملے کا شکار ہوئے ہیں۔ جو نوجوان قلب کے عارضوں کا شکار ہورہے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد ذہنی تناؤ کا شکار ہونے والے نوجوانوں کے علاوہ آئی ٹی صنعت سے وابستہ نوجوانوں کی ہے جن کے غذائی عادات و اطوار میں تیزی سے تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ علاوہ ازیں جو نوجوان مسلسل سگریٹ نوشی کے عادی ہیں ، وہ بھی ان کے لئے مہلک ثابت ہورہی ہے۔ ملک کے ترقی یافتہ شہر کہلائے جانے والے شہروں بالخصوص حیدرآباد، بنگلور، دہلی، پونے کے علاوہ گڑگاؤں وغیرہ میں جہاں آئی ٹی صنعت تیزی سے فروغ پارہی ہے، ان شہروں کے نوجوانوں میں عارضہ قلب بھی بڑھتا جارہا ہے۔ جو نوجوان قلب کے عارضہ میں مبتلا ہورہے ہیں، ان کے خاندانی امراض کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ خاندان میں کسی کو اس کا عارضہ نہ ہونے کے باوجود نوجوانوں میں ان بیماریوں کی وجہ تیزی سے تبدیل ہورہے عادات و اطوار کے علاوہ اوقات کار میں آرہی تبدیلیاں ہیں۔ اسی طرح جو لوگ کثرت سے مئے نوشی یا سگریٹ نوشی کے عادی ہیں، ان میں امراض قلب کی علامات تیزی سے رونما ہورہی ہیں۔ ماہر اطباء بھی اب یہ مشورہ دینے لگے ہیں نوجوان اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھیں اور وقت بروقت معائنے کرواتے رہیں تاکہ کسی بھی طرح کے خدشات باقی نہ رہیں۔ ملک بھر کے کئی شہروں میں خدمات انجام دے رہے خانگی دواخانوں سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 20 تا 35 سال کی عمر کے نوجوانوں میں عارضہ قلب کے پائے جانے کی تعداد میں 4 برسوں کے دوران تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ بعض خانگی دواخانوں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں میں امراض قلب کا فیصد تقریباً 18 تا 20 ہوچکا ہے۔ جو مریض ان بیماریوں کے باعث دواخانہ سے رجوع ہوتے ہیں، ان میں نوجوانوں کی بڑھتی تعداد ڈاکٹرس کیلئے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ماہرین امراض قلب نے اس رجحان میں فوری تبدیلی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے جو مشورے دیئے ہیں، ان میں صحت مند غذاؤں کے استعمال کے علاوہ چکناہٹ سے پاک غذاؤں کا استعمال شامل ہے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹرس کے بموجب بے پناہ مصروفیات اور ذہنی دباؤ والے کام مسلسل نہ کئے جائیں۔ افرادِ خاندان کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے ذہنی تناؤ کو دُور کرنے کی کوشش کی جائے۔ کھیل کود سے دلچسپی اور جسمانی ورزش تناؤ میں کمی کا ثابت ہوسکتی ہے۔ روزانہ 30 منٹ کی چہل قدمی کے ذریعہ امراض قلب سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ زندگی میں مصروفیات و آرام کے درمیان توازن کی برقراری کو ضروری قرار دیتے ہوئے ہر 6 تا 8 ہفتے کے بعد کچھ دن کی تفریح کو لازمی کرلیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT