Tuesday , December 11 2018

سہارنپور میں مسلم ۔ سکھ فسادات ، 3 ہلاک ، کرفیو نافذ

سہارنپور / لکھنؤ ۔ 26 ۔ جولائی : ( نافع قدوائی کی رپورٹ ) : اترپردیش کے سہارنپور میں آج دو فرقوں کے مابین اراضی کے تنازعہ پر جھڑپ ہوگئی جس میں تین افراد ہلاک اور 19 دیگر بشمول ملازمین پولیس زخمی ہوگئے ۔ پر تشدد جھڑپوں میں سنگباری ہوئی اور کافی لوٹ مار مچائی گئی جس کے بعد حکام نے غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کردیا ہے اور دیکھتے ہی گولی مارن

سہارنپور / لکھنؤ ۔ 26 ۔ جولائی : ( نافع قدوائی کی رپورٹ ) : اترپردیش کے سہارنپور میں آج دو فرقوں کے مابین اراضی کے تنازعہ پر جھڑپ ہوگئی جس میں تین افراد ہلاک اور 19 دیگر بشمول ملازمین پولیس زخمی ہوگئے ۔ پر تشدد جھڑپوں میں سنگباری ہوئی اور کافی لوٹ مار مچائی گئی جس کے بعد حکام نے غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کردیا ہے اور دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ سہارنپور کے والا روڈ پر ایک گردوارہ کی تعمیر ہورہی ہے جس اراضی پر اسے تعمیر کیا جارہا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اراضی ایک قدیم مسجد کی ہے ۔ جو مدتوں ہوئے مسمار کردی گئی تھی ۔ گردوارہ بندھک کمیٹی کے ذمہ داروں نے 2002 میں یہ اراضی خریدی تھی تب سے وہ اس پر گردوارہ کی تعمیر کرنے کی کوشش میں تھی ہر مرتبہ علاقہ کے مسلمانوں کے اعتراض پر یہ معاملہ رک جاتا تھا لیکن گذشتہ برس مقامی عدالت نے اراضی کی ملکیت کے سلسلے میں سکھ فرقہ کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد سے یہ گردوارہ بننا شروع ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کل شب مسلمانوں کے ایک گروہ نے اس اراضی پر قبضہ کر کے اس پر گردوارہ کی تعمیر روکنے کی کوشش کی ۔ نتیجہ میں دونوں فرقہ کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے جم کر مار پیٹ ، پتھراؤ ، نعرے بازی کی ۔ آج صبح بھی علاقہ میں لوٹ مار ہوئی درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا ۔ پورے شہر میں افراتفری سراسیمگی کا ماحول ہے ۔

اس دوران ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس مکل گوئیل نے بتایا کہ سہارنپور جھڑپوں میں تین افراد بشمول تاجرین کے لیڈر ہریش کوچر ، عارف اور ایک نامعلوم شخص ہلاک ہوگئے ۔ پانچ ملازمین پولیس ، سٹی مجسٹریٹ اور 13 دیگر زخمی ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہجوم تشدد پر آمادہ ہوگیا اور کئی دکانات کو آگ لگادی گئی تب پولیس نے ربر کی گولیاں فائر کی ۔ متاثرہ علاقوں میں پی اے سی ، آر اے ایف اور سی آر پی ایف کی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں ۔ یو پی میں بعد مدت کے سکھ مسلم مخالف فساد ہوا جس نے سنگین نوعیت اختیار کر رکھی ہے ۔ ابھی تک یو پی میں ہندو مسلم فساد ہوتے رہتے تھے لیکن اب مسلم سکھ فساد ہوا ہے ۔ دارالعلوم دیوبند اور دیگر مسلم قائدین نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشتعل نہ ہوں اور معاملے کو آپسی بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کریں ۔

سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی نے آج اپنے جلسے کو ملتوی کردیا ہے ۔ سکھ فرقہ کے ایک وفد نے آج لکھنؤ میں ریاست کے گورنر رام نائک سے ملاقات کے انہیں پوری صورتحال سے آگاہ کیا ۔ دوسری طرف مراد آباد کے کانٹھ میں لاوڈ اسپیکر نکلوانے کے معاملے کو بھڑکانے کی غرض سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے کانٹھ پہونچ کر ہنگامہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی ان تمام کوششوں کو ضلع حکام نے ناکام بنادیا ۔ بی جے پی نے ریاست گیر سطح پر احتجاج کی بھی کوشش کی اور کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ۔ اترپردیش کے بی جے پی صدر لکشمی کانت باجپائی کانٹھ جارہے تھے انہیں روک لیا گیا ۔ حکام نے علاقہ میں امکانی کشیدگی کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کردیا تھا کیوں کہ وی ایچ پی اور بی جے پی دونوں نے بھی کانٹھ میں احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT