Saturday , May 26 2018
Home / Top Stories / سہراب الدین انکاونٹر کیس کی سنوائی میں ڈرامہ ہنوز جاری‘ مزید دوگواہوں نے نے بدلہ بیان

سہراب الدین انکاونٹر کیس کی سنوائی میں ڈرامہ ہنوز جاری‘ مزید دوگواہوں نے نے بدلہ بیان

ممبئی۔منگل کے روز سال 2005کے مبینہ طور پر سہراب الدین فرضی انکاونٹر کیس کی سنوائی کے دوران مزید دوگواہوں کو بیان بدلنے والا قراردیا گیا۔اسی کے ساتھ 55گواہوں کی فہرست میں 38گواہوں نے اس کیس میں اپنا بیان بدلہ ہے۔سنوائی کے لئے مذکورہ دونوں گواہ گجرات سے ائے تھے جو پنچ نامہ کے گواہ بھی ہے ‘ جنھیں شیخ پر کئے گئے’’ہینڈ واش‘‘ کے دوران شامل کیاگیاتھا۔

مذکورہ ہینڈواش کا عمل اس وقت کیاجاتا ہے جب کسی کے ہاتھ میں بندوق ہونے کی بات کو ثابت کرنے کے لئے پاؤڈر کا استعمال کیاجاتا ہے۔یہ مبینہ طور پر کہاجاتا ہے کہ2005میں شیخ کے ہاتھ میں انکاونٹر کے وقت بندوق تھی۔

وکیل استغاثہ نے اس وقت گواہ کو گمراہ کرنے والا قراردیا جب عدالت میں گواہ نے کہاکہ اصل پنچ نامہ کے وقت سامنے تھے ہی ہیں بعد میں انہیں طلب کرکے دستخط لی گئی ہے۔سال2010میں سی بی ائی کے سامنے گواہوں کی جانب سے پیش کئے گئے بیان کے برخلاف یہ بیان ہے۔

سی بی ائی کے نومبر26سال2005میں در ج کئے گئے بیان کے مطابق ‘ دونوں گواہ مند رجارہے تھے ‘ جب انہیں سادہ لباس میں پولیس والوں نے روک کر اس بات کی اطلاع دی کہ ملزم’’ سہراب الدین ‘‘ پولیس کاروائی میں مارا گیاہے۔

بیان میںیہ بات بھی کہی گئی تھی کہ دونوں کو ہینڈ واش عمل کے دوران پنچ نامہ گواہ بننے کے لئے بولاگیاتھا۔

یہ بھی بتایاگیا تھا کہ مذکورہ دونوں گواہوں کو شیخ کی نعش دیکھنے کے لئے‘ سیول اسپتال کے پوسٹ مارٹم روم میں لے جایاگیا۔قبل ازیں گواہوں نے سی بی ائی کو بتایا تھا کہ ہینڈ واش کے دوران ایک پولیس افیسر نے گیلا کاٹن لے کر شیخ کے دائیں ہاتھ پر رگڑا اور اسی طرح دوسرے ہاتھ بھی کیا۔

مبینہ طور پر کہاگیاتھا کہ دونوں وقت کے کاٹن کو ایک پلاسٹک کی تھیلی میں رکھ کر اسکو سیل کردیاگیا‘ اور ان کی دستخط پر مشتمل پرچی اس پر چسپاں کردی گئی۔جب منگل کے روز گواہوں سے پوچھاگیا کہ اسپتال میں کوئی پولیس افیسر موجودتھا تو گواہوں نے کسی کو پہچاننے سے انکارکردیا۔

درایں اثناء عدالت نے وکیل دفاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ کورٹ میں آنے والے دیگردو گواہوں کو دوہزار روپئے اداکرے جو ان کی موجودگی کے باوجود نہیں ٹک سکے۔ پیسوں کی بازادائیگی کا مقصد گجرات شہر سے یہاں پر آنے کے دوران خرچ سفر اور یومیہ اجرات کے طور پر ادائیگی ہے۔

عدالت کے اندر ہی گواہوں کو پیسے ادا کئے گئے۔ آج بھی کیس کی سنوائی کا سلسلہ جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT