Wednesday , April 25 2018
Home / ہندوستان / سہراب الدین مقدمہ :آئی پی ایس عہدیداروں کو ہائیکورٹ کی نوٹس

سہراب الدین مقدمہ :آئی پی ایس عہدیداروں کو ہائیکورٹ کی نوٹس

3عہدیداروں کے رہائشی و سرکاری پتے بھائی رباب الدین کو فراہم کرنے سی بی آئی کو حکم ‘ درخواست نظرثانی پر سماعت
ممبئی ۔ 2نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بامبئے ہائیکورٹ نے آج آئی پی ایس آفیسرس ڈی جی ونزارا ( ریٹائرڈ ) ‘ راجکمار پانڈین اور دنیش ایم این کو سہراب الدین شیخ اور تلسی رام پرجا پتی کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر مقدمہ میں تازہ نوٹس جاری کی ہے ۔ جسٹس اے ایم بدر نے جو سہراب الدین کے بھائی رباب الدین کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کررہے ہیں ‘ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی ) کو یہ ہدایت دی ہے کہ ان تین عہدیداروں کے رہائشی اور سرکاری پتے رباب الدین کو فراہم کریں ‘ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ فی الفور انہیں نوٹس ملے ۔ رباب الدین نے اس مقدمہ میں ان تین عہدیداروں کو بری کردیئے جانے کے فیصلہ کو چیلنج کیا ہے اور انہوں نے درخواست نظرثانی داخل کی ۔ ٹرائیل کورٹس نے اگسٹ 2016 اور اگسٹ 2017ء کے درمیان ان تین عہدیداروں کو مقدمہ میں بری کردیا ہے ۔ رباب الدین نے اپنی درخواست نظرثانی میں یہ بھی خواہش کی ہے کہ اس مقدمہ میں مابقی ملزمین کے خلاف سماعت اُس وقت تک روک دی جائے جب تک ان کی اس درخواست نظرثانی کے بارے میں ہائیکورٹ فیصلہ نہیں کرتی ۔ جسٹس بدر نے قانونی چارہ جوئی پر التواء سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے کے نتیجہ میں مابقی ملزمین پر اثر پڑے گا ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ جیسے ہی ان تین عہدیداروں کو نوٹس مل جائے‘ رباب الدین کی درخواست نظرثانی پر عاجلانہ سماعت یقینی بنائے گی ۔ خصوصی سی بی آئی عدالت ممبئی میں اس فرضی انکاؤنٹر مقدمہ کی سماعت اُس وقت شروع کی گئی جب سپریم کورٹ نے قانونی چارہ جوئی کا یہ عمل گجرات کے باہر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا ۔

عدالت نے اس مقدمہ میں مذکورہ تین عہدیداروں کو اس بنیاد پر بری کردیا کہ سی بی آئی اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے خصوصی اجازت یہ قبل از وقت منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔ عدالت نے کہا کہ وہ قانونی چارہ جوئی نہیں کرسکتی ۔ اس مقدمہ کے 38 ملزمین کے منجملہ خصوصی عدالت نے 15 کو بری کردیا ہے اور ان 15ملزمین میں 14 آئی پی ایس عہدیدار ہیں ۔ سی بی آئی نے ان 14کے منجملہ صرف ایک این کے امین کو بری کئے جانے کے فیصلہ کو چیلنج کیا ۔ این کے امین سہراب الدین ‘ ان کی اہلیہ کوثر بی اور عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر مقدمات میں بھی ملزم ہیں۔ رباب الدین کی درخواست نظرثانی کی گذشتہ 29ستمبر کو سماعت کے دوران ہائیکورٹ کی ایک اور بنچ نے سی بی آئی سے سوال کیا تھا کہ اس نے اس مقدمہ میں سینئر آئی پی ایس عہدیداروں کو بری کرنے ٹرائیل کورٹ کے احکامات کو چیلنج کیوں نہیں کیا ۔ جسٹس ریوتی موہیتے۔ ڈیرے نے کہا تھا کہ سی بی آئی کو بھی ٹرائیل کورٹ کی جانب سے بری کرنے کے احکامات پر رباب الدین کی طرح سرگرم ہونا چاہیئے تھا ۔ انہوں نے تحقیقاتی ایجنسی سے جاننا چاہا کہ کیا وہ ٹرائیل کورٹ کے احکامات کو چیلنج کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ؟ ۔29ستمبر کو جسٹس موہیتے ڈیرے نے یہ بھی کہا تھا کہ سی بی آئی کو چاہیئے کہ وہ خصوصی عدالت سے یہ خواہش کرے کہ مقدمہ کے دیگر ملزمین کے خلاف الزامات وضع کرنے کا عمل عارضی طور پر ملتوی رکھے۔

TOPPOPULARRECENT