Wednesday , April 25 2018
Home / مضامین / سہراب کا فرضی انکاؤنٹر کیس خصوصی سی بی آئی جج کی پُراسرار موت ۔ حکام کی خاموشی معنی خیز

سہراب کا فرضی انکاؤنٹر کیس خصوصی سی بی آئی جج کی پُراسرار موت ۔ حکام کی خاموشی معنی خیز

نرنجن ٹاکلے
یکم ڈسمبر 2014 کی صبح 48 سالہ جسٹس برج گوپال ہرکشن لویا جو ممبئی میں سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کی خصوصی عدالت کی صدارت کررہے جج تھے، اُن کی فیملی کو اطلاع دی گئی کہ وہ ناگپور میں انتقال کرگئے، جہاں وہ ایک رفیق کار کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لئے گئے تھے۔ جسٹس لویا ملک کے ایک مشہور زمانہ کیس کی سماعت کررہے تھے جو 2005ء کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں سہراب الدین شیخ کی ہلاکت سے متعلق ہے۔ امیت شاہ اس کیس میں اصل ملزم رہے جو سہراب کی ہلاکت کے وقت گجرات کے مملکتی وزیر داخلہ تھے اور جسٹس لویا کی موت کے وقت اور ہنوز بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر ہیں۔ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جسٹس لویا قلب پر حملے سے فوت ہوئے۔
جسٹس لویا کی فیملی نے اُن کے موت کے بعد میڈیا سے بات نہیں کی۔ لیکن نومبر 2016 میں جسٹس لویا کی بھانجی نُپور بالاپرساد بِیانی پونے کو میرے سفر کے دوران مجھ سے رجوع ہوئی اور کہا کہ اسے اپنے اَنکل کی موت سے قبل کے حالات کے تعلق سے شکوک و شبہات ہیں۔ اس کے بعد نومبر 2016 اور نومبر 2017 کے درمیان جسٹس لویا کے متعلقین سے کئی ملاقاتیں ہوئیں؛ میں نے نپور کی ماں اور جسٹس لویا کی بہن انورادھا بیانی (گورنمنٹ سرویس سے وابستہ میڈیکل ڈاکٹر)، جسٹس لویا کی ایک اور بہن سریتا مندھانے، اور متوفی کے والد ہرکشن سے بات چیت کی۔ میں نے ناگپور میں ان سرکاری ملازمین کا بھی پتہ چلا کر اُن سے بات کی، جو جج کی موت کے بعد ان کے پوسٹ مارٹم کے بشمول مختلف سرکاری کارروائیوں کے وقت موجود تھے۔ان تمام باتوں سے جسٹس لویا کی موت کے تعلق سے نہایت پریشان کن سوالات اُبھر آئے ہیں: ایسے سوالات جو ان کی موت کے بارے میں دیئے گئے بیان میں بے ربطگی سے متعلق ہیں؛ جو اُن کی موت کے بعد اختیار کردہ طریقہ کار سے متعلق ہیں؛ اور جج کی نعش کی فیملی کو حوالگی کے وقت والی حالت سے متعلق سوالات بھی ہیں۔ حالانکہ لویا فیملی نے جج کی موت کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا، لیکن اس سلسلہ میں کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے۔

30 نومبر 2014 کو رات 11 بجے ناگپور سے جسٹس لویا نے اپنی بیوی شرمیلا سے اپنے موبائل فون کے ذریعے بات کی۔ تقریباً 40 منٹ کی گفتگو میں انھوں نے اپنے مصروف دن کے بارے میں بتایا۔ وہ اپنی ساتھی جج سپنا جوشی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لئے ناگپور میں تھے۔ ابتدا میں وہ جانا نہیں چاہتے تھے، لیکن اُن کے دو ساتھی ججوں نے انھیں ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ جسٹس لویا نے اپنی بیوی سے اپنے بیٹے انوج کے تعلق سے بھی دریافت کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سیول لائنز، ناگپور میں وی آئی پیز کے لئے مختص گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس ’روی بھون‘ میں اپنے ہمراہ آئے ججوں کے ساتھ مقیم ہیں۔
یہی آخری کال رہا جو معروف طور پر انھوں نے کیا، اور آخری گفتگو جو انھوں نے فون پر کسی کے ساتھ کی۔ اُن کی فیملی کو اگلی صبح اُن کی موت کی خبر وصول ہوئی۔ جسٹس لویا کے والد ہرکشن لویا نے اپنے آبائی گاؤں گاٹیگاؤں نزد لاتور سٹی میں نومبر 2016 میں ہماری پہلی ملاقات کے دوران بتایا: ’’اُس کی بیوی کو ممبئی میں، مجھے لاتور سٹی میں اور میری بیٹیوں کو دھولے، جلگاؤں اور اورنگ آباد میں فون کالز پر یہ اطلاع یکم ڈسمبر 2014 کی صبح کو موصول ہوئی۔‘‘ انھوں نے مجھے مطلع کیا: ’’برج (گوپال ہرکشن لویا) کا رات میں انتقال ہوگیا، اُن کا پوسٹ مارٹم کیا جاچکا اور اُن کی نعش ہمارے آبائی مقام گاٹیگاؤں ، ضلع لاتور کو بھیج دی گئی ہے۔ مجھے یوں لگا کہ جیسے میری زندگی زلزلے کے جھٹکے سے دہل گئی۔‘‘لویا فیملی کو بتایا گیا کہ جسٹس لویا کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی۔ ہرکشن نے کہا: ’’ہمیں بتایا گیا کہ اُسے سینے میں تکلیف ہوئی، اور ناگپور کے خانگی اسپتال ڈانڈے ہاسپٹل کو آٹو رکشا کے ذریعے لیجایا گیا، جہاں کچھ علاج ہوا۔‘‘ جسٹس لویا کی بہن انورادھا نے ڈانڈے ہاسپٹل کو دقیانوسی مقام قرار دیا اور کہا کہ انھیں بعد میں معلوم ہوا کہ وہاں ECG (الیکٹرو کارڈیو گرافی) یونٹ کام نہیں کررہا تھا۔ ہرکشن نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد برج کو وہیں ایک اور خانگی اسپتال میڈیٹرینا ہاسپٹل منتقل کیا گیا، جہاں معلوم ہوا کہ اُسے مردہ حالت میں پہنچایا گیا۔
سہراب الدین کیس ہی واحد معاملہ تھا جس کی جسٹس لویا اُس وقت سماعت کررہے تھے، اور اُس وقت ملک میں جاری نہایت توجہ طلب کیسوں میں تھا۔ 2012ء میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اس کیس کا ٹرائل گجرات سے مہاراشٹرا منتقل کردیا جائے، اور بیان کیا تھا کہ ’’وہ مانتے ہیں کہ اس ٹرائل کے اعتبار کا تحفظ کرنے کے لئے اسے بیرون ریاست کو منتقل کرنا ضروری ہے‘‘۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ معاملے کی سنوائی شروع سے آخر تک ایک ہی جج کریں۔ لیکن اس حکمنامہ کی خلاف ورزی میں جے ٹی اُتپت جنھوں نے اس ٹرائل کی سماعت شروع کی تھی، اُن کا سی بی آئی اسپیشل کورٹ سے وسط 2014ء میں تبادلہ کردیا گیا، اور جسٹس لویا جانشین بنائے گئے۔جسٹس اُتپت نے 6 جون 2014ء کو امیت شاہ کو عدالت میں حاضری سے استثنا چاہنے پر ڈانٹ پلائی تھی۔ اگلی تاریخ 20 جون کو بھی عدالت میں امیت کی حاضری نہ ہوئی تو جسٹس اُتپت نے 26 جون کو سماعت مقرر کی تھی۔ تاہم، 25 جون کو موصوف کا تبادلہ کردیا گیا۔ 31 اکٹوبر 2014ء کو جسٹس لویا جنھوں نے امیت شاہ کو شخصی حاضری سے استثنادیا تھا، انھوں نے دریافت کیا کہ کیوں امیت شاہ اُس تاریخ کو ممبئی میں موجود رہنے کے باوجود عدالت میں حاضر ہونے میں ناکام رہے۔ انھوں نے سماعت کے لئے اگلی تاریخ 15 ڈسمبر طے کی تھی۔

یکم ڈسمبر کو جسٹس لویا کی موت کی اگلے روز چند معمول کی خبروں میں نشر و اشاعت ہوئی، اور میڈیا کی خاص توجہ حاصل نہیں کرپائی۔ ’انڈین اکسپریس‘ نے اس رپورٹ کے ساتھ کہ جسٹس لویا کی موت ’’قلب پر حملہ سے ہوئی‘‘ ، یہ نشاندہی بھی کی کہ ’’ اُن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس لویا طبی اعتبار سے خاصے صحت مند تھے‘‘۔ میڈیا کی توجہ کچھ حد تک3 ڈسمبر کو بڑھی جب ترنمول کانگریس کے ایم پیز نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا، جبکہ سرمائی اجلاس چل رہا تھا، اور جسٹس لویا کی موت کی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا۔ اگلے روز سہراب الدین کے بھائی رُباب الدین نے سی بی آئی کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے جسٹس لویا کی موت پر اپنے صدمہ کا اظہار کیا۔ تاہم، ارکان پارلیمان کے احتجاجوں یا رباب الدین کے مکتوب سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ جسٹس لویا کی موت سے متعلق حالات کے بارے میں پھر کچھ سننے یا پڑھنے میں نہیں آیا۔جسٹس لویا کے فیملی ممبرز کے ساتھ کئی بار گفتگو میں مجھے لرزہ خیز روداد کا پتہ چلا کہ سہراب ٹرائل کی صدارت کرتے ہوئے جسٹس لویا کو کن حالات سے گزرنا پڑا، اور اُن کی موت کے بعد کیا کیا ہوا۔ انورادھا نے جسے پابندی سے ڈائری لکھنے کی عادت ہے، جسٹس لویا کی موت کے واقعہ کے کئی پہلوؤں کی نشاندہی کی جن سے وہ مضطرب ہوئی۔ میں نے جسٹس لویا کی بیوی اور اُن کے بیٹے سے بھی رابطہ کیا، لیکن انھوں نے اس معاملے میں لب کشائی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنی زندگیوں کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔دھولے میں رہنے والی انورادھا نے مجھے بتایا کہ اسے یکم ڈسمبر 2014 کی صبح کسی نے جو خود کو جج بنام برڈے بتارہا تھا، فون کیا اور اس سے گاٹیگاؤں کا سفر کرنے کے لئے کہا جو لاتور سے 30 کیلومیٹر کی دوری پر ہے، جہاں جسٹس لویا کی نعش بھیج دی گئی۔ فون کرنے والے اُسی شخص نے انورادھا اور دیگر ارکان خاندان کو اطلاع دی کہ نعش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، اور موت کا سبب قلب پر حملہ ہے۔ جسٹس لویا کے والد عام طور پر گاٹیگاؤں میں قیام کرتے ہیں، لیکن اُس وقت لاتور میں اپنی ایک بیٹی کے مکان پر تھے۔ انھیں بھی فون کال وصول ہوا، جس میں بتایا گیا کہ اُن کے بیٹے کی نعش گاٹیگاؤں کو منتقل کی جارہی ہے۔ انورادھا نے مجھے بتایا: ’’آر ایس ایس ورکر ایشور باہیتی نے والد ہرکشن کو مطلع کیا کہ وہ نعش کی گاٹیگاؤں کو منتقلی کا انتظام کردے گا۔ کوئی نہیں جانتا کہ کیوں، کس طرح اور کب اُسے (آر ایس ایس ورکر کو) برج لویا کی موت کے تعلق سے جانکاری مل گئی۔‘‘

جسٹس لویا کی ایک اور بہن سریتا مندھانے جو اورنگ آباد میں ٹیوشن سنٹر چلاتی ہے اور اُس وقت لاتور میں تھی، اُس نے مجھے بتایا کہ اسے برڈے نے صبح 5 بجے فون پر اطلاع دی کہ جسٹس لویا فوت ہوگیا۔ ’’انھوں نے کہا کہ برج کا ناگپور میں انتقال ہوا اور ہم کو فوری ناگپور پہنچنے کے لئے کہا۔‘‘ چنانچہ سریتا نے اپنے ایک بھانجہ کے ہمراہ جانے کا فیصلہ کیا جو لاتور کے ایک اسپتال میں تھا، لیکن ’’جب ہم اسپتال سے نکل رہے تھے کہ یہی شخص ایشور باہیتی وہاں آیا۔ مجھے ہنوز نہیں معلوم کہ کس طرح اسے علم ہوا کہ ہم شاردا ہاسپٹل میں تھے۔‘‘ سریتا کے مطابق ایشور نے کہا کہ وہ رات سے ہی ناگپور کے لوگوں سے ربط میں ہے، اور زور دیا کہ ناگپور جانے کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ نعش کو وہاں سے امبولنس کے ذریعے گاٹیگاؤں بھیجا جارہا ہے۔ سریتا نے مزید کہا: ’’وہ (ایشور) ہمیں اپنے گھر لے گیا اور کہنے لگا کہ وہ ہر چیز میں تعاون کرے گا۔‘‘ (وہ سوالات جو میں نے ایشور باہیتی کو بھیجے ، اُن کے جواب اِس تحریر کی اشاعت تک وصول نہیں ہوئے)۔
انورادھا کی ڈائری کے اندراجات کے مطابق جب وہ گاٹیگاؤں پہنچی تب دیگر ارکان خاندان وہاں پہنچ چکے تھے۔ تاہم، پوری فیملی کو حیرت ہوئی کہ جسٹس لویا کا کوئی بھی رفیق کار ناگپور سے اُس کی نعش کے ساتھ نہیں پہنچا۔ نعش کے ساتھ آنے والا واحد شخص امبولنس ڈرائیور تھا۔ یہ جان کر صدمہ ہوا کہ جن دو ججوں نے انھیں شادی میں شرکت کے لئے ناگپور کے سفر پر راضی کیا تھا، وہ بھی امبولنس کے ساتھ نہیں آئے۔ فیملی کو جسٹس لویا کی موت کی اطلاع دینے والے ’جج برڈے‘ بھی غائب تھے۔ ’’وہ سی بی آئی کورٹ جج تھا، اُس کے ساتھ سکیورٹی ہونا چاہئے تھا اور ناگپور سے امبولنس گاڑی کے ساتھ کوئی تو ذمہ دار شخص ہمراہ ہونا چاہئے تھا۔‘‘ تاہم، جسٹس لویا کی بیوی شرمیلا اور بیٹی اپوروا اور بیٹا انوج ممبئی سے گاٹیگاؤں چند ججوں کے ہمراہ پہنچے۔ اُن میں سے ایک جج وقفے وقفے سے انوج اور دیگر کو تاکید کئے جارہا تھا کہ کسی سے بھی اس بارے میں بات نہ کریں۔

انورادھا کی ڈائری میں لکھا ہے، ’’اُس کے کالر پر خون تھا۔ اُس کا بیلٹ مختلف سمت میں موڑا گیا تھا، اور پینٹ کا کلپ ٹوٹا ہوا تھا۔ یہ سب کچھ مشتبہ معلوم ہورہا تھا۔‘‘ ہرکشن نے مجھے بتایا کہ کپڑوں پر خون کے دھبے تھے۔ سریتا نے کہا کہ اُس نے بھی گردن پر خون دیکھا ہے۔ سر پر اور پیٹھ پر بھی زخم تھا۔اور اُس کے شرٹ پر خون کے دھبے تھے۔ ہرکشن نے کہا کہ اُس کے شرٹ پر بائیں کندھے سے کمر تک خون تھا۔ لیکن گورنمنٹ میڈیکل کالج ہاسپٹل ناگپور کی جاری کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہاتھ کی تحریر سے درج ہے کہ نعش کے کپڑے ’’خشک‘‘ پائے گئے۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے انورادھا کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے دوران نعش سے خون نہیں نکلتا کیونکہ قلب اور پھیپھڑے کام نہیں کررہے ہوتے ہیں۔ یہ تمام مشکوک حالات دوسری بار پوسٹ مارٹم کے متقاضی تھے لیکن جسٹس لویا کے وہاں جمع دوست احباب نے فیملی پر زور دیا کہ معاملے میں زیادہ پیچیدہ نہ بنائیں۔ چنانچہ ہرکشن کے مطابق جسٹس لویا کی آخری رسومات انجام دے دی گئیں۔
جسٹس لویا تو اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ڈھیر سارے سوالات پیدا ہوگئے جن کا جواب ملنا باقی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب پوسٹ مارٹم کا حکم ہوا تو پھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ موت کا معاملہ مشتبہ تھا اور جب ایسا ہی تھا تو پنچ نامہ بھی ہونا چاہئے تھا لیکن فیملی کو پنچ نامہ کی کوئی کاپی نہیں دی گئی۔ مزید اچنبھا ہوا جب جسٹس لویا کا موبائل فون تیسرے یا چوتھے روز پولیس نے نہیں بلکہ ایشور باہیتی نے فیملی کے حوالے کیا۔ فون کی میموری سے سب کچھ حذف تھا، سوائے ای ایس ایم ایس کہ ’’سَر، ان لوگوں سے بچ کر رہئے‘‘۔ انورادھا نے مجھے بتایا کہ اُس کے بھائی کی موت پر دی گئی سرکاری طبی وضاحت اُس کے لئے ناقابل یقین ہے۔ ’’میں خود ڈاکٹر ہوں، اور برج مجھ سے معمولی شکایتوں جیسے ایسیڈیٹی (معدے کی جلن) یا کھانسی کے لئے تک مشورہ کیا کرتا تھا۔ اُسے قلب کا کوئی عارضہ نہ تھا اور نہ ہماری فیملی میں سے کسی کو ایسی کوئی شکایت لاحق ہے۔‘‘ سہراب الدین کے فرضی انکاؤنٹر کے اہم کیس کی سنوائی کرنے والے جسٹس برج لویا کی یوں یکایک موت ہوگئی۔ پورا خاندان حیرت و صدمہ میں مبتلا ہوا۔ بلکہ عام شہریوں کو بھی گہرا تاسف ہے۔ تاہم ، سرکاری حکام کی طویل خاموشی معنی خیز ہے!

TOPPOPULARRECENT