Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / سیاحتی مقامات کی ترقی پر بلند بانگ دعوے

سیاحتی مقامات کی ترقی پر بلند بانگ دعوے

اعلانات کا انبار ، قابل عمل بنانے اقدامات نظر انداز
حیدرآباد۔2اپریل(سیاست نیوز) شہر کے سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے حکومت کے اعلانات کو اقدامات میں تبدیل ہونے میں وقت لگے گا لیکن کتنا وقت کوئی کہہ نہیں سکتا کیونکہ حکومت کی جانب سے گذشتہ 4 برسوں کے دوران کئے گئے اعلانات میں بیشتر اعلانات کو قابل عمل بنانے کے لئے تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے جا سکے بلکہ ان اعلانات کے متعلق کوئی عہدیدار بات کرنے بھی تیار نہیں ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہر حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقوں کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کے اعلانات کئے گئے ہیں لیکن ان اعلانات کو قابل عمل اسی وقت بنایاجا سکتا ہے جب پرانے شہر کے علاقوں میں موجود تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں لیکن ریاستی حکومت نے ریاست تلنگانہ کے تاریخی عمارتوں کی فہرست کو ہی کالعدم قراردے دیا ہے تو ایسی صورت میں کس طرح ان عمارتوں کا تحفظ ممکن ہوگا ؟ آثار قدیمہ کے تحفظ اور تاریخی عمارتوں کے نگران عہدیداروں کی جانب سے واضح طور پر کہا جا نے لگا ہے کہ جب حکومت کی جانب سے تاریخی عمارتوں کی فہرست کو ہی کالعدم قرار دے دیا گیاہے تو کس طرح سے امید کی جا سکتی ہے کہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے۔ شاہ گنج کے علاقہ میں موجود دیوڑھی خورشید جاہ‘ دیوڑھی اقبال الدولہ ‘ افضل گنج میں دواخانہ عثمانیہ ‘ کتب خانہ آصفیہ ‘ دارالشفاء میں عزاء خانہ زہرا‘ قدیم قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا دفتر‘ مدینہ بلڈنگ کے علاقہ میں بادشاہی عاشور خانہ ‘ حسینی علم کے علاقہ میں حسینی علم عاشور خانہ اور اس جیسی کئی تاریخی عمارتیں ہیں جن کا تحفظ کیا جانا ناگزیر ہے لیکن حکومت کی جانب سے تاریخی چارمینار کے اطراف کے علاقہ اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے اقدامات کے نام پر شہر کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کے منصوبہ کے اعلانات کو صرف اعلانات کی حد تک محدود رکھا گیا ہے ۔ لاڈ بازار میں موجود جلوخانہ کی کمان بھی شہر کی تاریخی عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے لیکن اس عمارت کی خستہ حالی کے باجود اس اس کمان کی مرمت کے سلسلہ میں کوئی حکمت عملی یا منصوبہ تیار نہیں کیا گیا۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں موجود کلاک ٹاؤرس کی درستگی کے اعلانات کئے گئے ہیں لیکن ان اعلانات کا مشاہدہ کیاجائے تو ترقیاتی کام صرف محبوب چوک گھڑیال پر نظر آرہے ہیں اور شاہ علی بنڈہ لب سڑک پر موجود مہاراجہ کشن پرشاد کی دیوڑھی کے باب الداخلہ کی گھڑیال جو کہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے اور اس گھڑیال کی خصوصیت یہ ہے کہ اس گھڑیال کے چاروں طرف علحدہ زبانوں میں ہندسے تحریر ہیں ۔ حکومت کی جانب سے پرانے شہر کو استنبول کے طرز پر ترقی کے دینے کے لئے سب سے پہلے پرانے شہر کی تاریخی عمارتوں کی مرمت اور ان کی آہک پاشی کے اقدامات کرنے چاہئے اور فوری طور پر تاریخی عمارتوں کی فہرست کا اعلامیہ جاری کرنے کے اقدامات کئے جانا ناگزیر ہے۔

TOPPOPULARRECENT