Friday , April 20 2018
Home / جرائم و حادثات / سیاحتی و ویزٹ ویزا کے نام انسانی سوداگری کاریاکٹ بے نقاب

سیاحتی و ویزٹ ویزا کے نام انسانی سوداگری کاریاکٹ بے نقاب

پانچ افراد گرفتار ، کمشنر راچہ کنڈہ مہیش مرلی بھگوت کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 19 جنوری ۔ ( سیاست نیوز) سیاحتی و ویزٹ ویزا کے نام پر جاری انسانی سودگرای کے ایک بڑے ریاکٹ کا راچہ کنڈہ پولیس نے پردہ فاش کردیا ۔ ایڈیشنل ڈی سی پی اسپیشل آپریشن ٹیم سید رفیق کی نگرانی میں اس بڑے ریاکٹ کو بے نقاب کیا اور پولیس نے ا س سلسلہ میں 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔ یہ بات کمشنر راچہ کنڈہ مسٹر مہیش مرلی دھر بھگوت نے بتائی جو آج یہاں ایک پریس کانفرنس کو مخاطب تھے ۔ تاہم سخت ڈسپلین کیلئے مشہور کمشنر راچہ کنڈہ نے درخواست گذاروں کی شکایتوں پر لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے ایک سب انسپکٹر شوبھن بابو کو معطل کردیااور انسپکٹر اور اے سی پی کو چارج میمو جاری کیا تھا ۔ دو ہفتہ قبل محکمہ جاتی کارروائی کے بعد کمشنر نے اس کیس کی تحقیقات ایس او ٹی کے حوالے کی تھی جس میں بڑے ریاکٹ کاانکشاف ہوا ہے ۔ پولیس نے اس سلسلہ میں 5 افراد 32 سالہ یو تر مورتلو عرف مورتی ساکن گوداری ، 26 سالہ ایم تاسامی عرف نانی گوداوری ،30 سالہ پی واسو ساکن چنتل جیڈی مٹلہ ، 40 سالہ جی پرما راؤ ساکن گوداوری اور37 سالہ ایس مرلی ساکن کاماریڈی ضلع کو گرفتار کرلیا ۔ ایس او ٹی نے ان کے قبضہ سے ایک لاکھ 60ہزار روپئے نقد رقم ویزا کے دستاویزات اور موبائیل فونس ضبط کرلئے جبکہ اس ریاکٹ میں مزید درجنوں افراد کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ اس ریاکٹ کے سرغنہ افراد 35 سالہ دوبئی سینو جس کااصل نام شیوبابو ہے کہ علاوہ مریا اماں 35 سالہ ساکن گوداوری جو فی الحال مسقط میں رہتی ہے ۔ کریم ، الفانسو ، ستیاوتی ، لکشمی اور سرینواس گوڑ جو مسقط میں رہتے ہیں ۔ یہ ٹولیاں بڑے پیمانے پر انسانی سوداگری میں ملوث ہیں اور منصوبہ بند طریقہ سے ایسی سازشوں پر رازدارانہ انداز میں عمل کیا جارہا ہے ۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ یہ ٹولی ویزٹ اور ٹورسٹ ویزا پر خواتین اور مرد شہریوں کو خلیجی ممالک روانہ کرتے اور وہاں پہونچنے کے بعد شہریوں کو اس بات کااندازہ ہوتا ہے کہ وہ دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں اور انھیں مجبوراً ایجنٹوں کے اشارے پر کام کرنا پڑتا تھا اور جو ان کی دھوکہ دہی کاشکار ہوئے انھیں غیرقانونی طورپر زندگی بسر کرنی پڑتی تھی اور اس کا بھی یہ ٹولی فائدہ اُٹھاکر ان سے رقم لیا کرتی تھی ۔ اور خواتین کو گھریلو ملازمہ اور دیگر ویزا پر روانہ کرنے کے بعد انھیں زبردستی جسم فروشی کے لئے مجبور کیا جاتا تھااور کئی خواتین کو اسی ٹولی نے قحبہ گیری کے ٹھکانوں پر فروخت کردیا۔کمشنر پولیس راچہ کنڈہ نے بتایا کہ بہت جلد اس ٹولی کے دیگر افراد کو گرفتار کیاجائے گا اور ایسی شکایتوں پر فوری عدم توجہہ پر پولیس عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈی سی پی ایس او ٹی سید رفیق اور دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT