Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / سیاستدانوں کو اُردو صرف انتخابات کے وقت یاد آتی ہے

سیاستدانوں کو اُردو صرف انتخابات کے وقت یاد آتی ہے

نئی دہلی ، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اردو کی شیرینی اس کی کشش اور اس کی ترقی و ترویج کا خیال عین انتخابات کے وقت ہی سیاست دانوں کے ذہنوں میں اجاگر ہوتا ہے۔ ایک نامور شاعر نے لیڈروں پر ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ صرف انتخابات کے دوران ہی اردو کو یاد کیا جاتا ہے، ماباقی برسوں میں یہ زبان اُن کیلئے غیرمانوس بن جاتی ہے۔

نئی دہلی ، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اردو کی شیرینی اس کی کشش اور اس کی ترقی و ترویج کا خیال عین انتخابات کے وقت ہی سیاست دانوں کے ذہنوں میں اجاگر ہوتا ہے۔ ایک نامور شاعر نے لیڈروں پر ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ صرف انتخابات کے دوران ہی اردو کو یاد کیا جاتا ہے، ماباقی برسوں میں یہ زبان اُن کیلئے غیرمانوس بن جاتی ہے۔

پدم شری شاعر گلزار دہلوی نے ایک مشاعرہ کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات کے دنوں میں ہم سیاسی پارٹیوں کو اردو کے حق میں اپنی محبت کے اظہار اس کی ترقی و ترویج کی باتیں کرتے ہوئے سنتے اور دیکھتے ہیں۔ اردو کی عزت کرنے کا خیال بھی انہی دنوں آتا ہے، ماباقی دنوں میں اردو ان سے کوسوں دور رہتی ہے۔ 89 سالہ اردو شاعر نے کل رات منعقدہ عالمی اردو مشاعرہ 16 ویں جشن بہاراں کے موقع پر کہا کہ سیاست دانوں کو اردو سے دلچسپی نہیں ہوتی، یہ لوگ ووٹ لینے کیلئے ہی اردو کا نام لیتے ہیں۔ اس مشاعرہ میں ہندوستان، پاکستان، جاپان کے علاوہ دیگر ملکوں کے ممتاز شعرا نے شرکت کی تھی۔ ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے دیگر شعرائے کرام نے کہا کہ اردو کی تمام تر اہمیت اور افادیت کو انتخابات کے موقع پر یاد کیا جاتا ہے۔ ایک بار ووٹ لے لیا جائے تو پھر اس زبان کو بری طرح نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اردو کی خوبصورتی بھی انھیں یاد نہیں رہتی۔

اردو ایک عام فہم زیادہ ہے۔ عوام الناس کو آسانی سے سمجھ میں آنے والی زبان کو عام کرنے سے کوتاہی کی جاتی ہے۔ تاہم اردو کے مستقبل سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے گلزار دہلوی نے کہا کہ اردو زبان بہت ہی اچھے دور سے گزر رہی ہے، اس کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اردو سیکھ رہے ہیں۔ امریکہ میں شکاگو سے لیکر کیلی فورنیا تک آپ کو ایسے کئی اسکولس ملیں گے جہاں اردو سکھائی جاتی ہے۔ فرانس، اسپین، چیک چمہوریہ کے بشمول یورپی یونین میں اردو کو پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔ ان کی پاکستانی ہم منصب شاعرہ فہمیدہ ریاض نے بھی اردو کے مستقبل کے روشن امکانات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اردو کا مستقبل شاندار ہے۔ برصغیر ہند کے باہر بھی ملکوں میں اردو پڑھی اور بولی جارہی ہے۔ لوگوں کی روزمرہ کی زبان اردو ہی ہے۔

ساری دنیا میں اردو سے دلچسپی رکھنے والے عوام کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس مشاعرہ کو نامور صحافی اور مصنف خشونت سنگھ کی یاد میں منعقد کیا گیا جن کا گزشتہ ماہ انتقال ہوا۔ خشونت سنگھ نے انگریزی میں تصنیف کیا ہے مگر اردو سے محبت رکھتے تھے۔ وہ مشاعرہ جشن بہاراں منعقد کرانے والوں میں بھی شامل تھے۔ مشاعرہ میں مہمان خصوصی جسٹس ٹی ایس نائر نے تجویز رکھی کہ قانون کی پریکٹس کرنے والوں کو یہ خوبصورت زبان اردو سیکھنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT