Monday , June 25 2018
Home / اداریہ / سیاستداں اور بیوریو کریٹس

سیاستداں اور بیوریو کریٹس

یہ سچ ہے ہم خلوص کے بدلے خلوص ہیں
تم تیر بن کے آؤ تو تلوار ہم بھی ہیں
سیاستداں اور بیوریو کریٹس
سیاستدانوں کو اپنے اندر دیانتداری، اخلاص، تہذیب و تمدن کا پیکر ہونے کی صلاحیتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوام کی خدمت کا جذبہ انہیں دیگر شہریوں سے منفرد بناتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے لئے خود کو وقف کرنے کے جذبہ سے میدان سیاست میں سرگرم ہوتے ہیں۔ جب کوئی سیاستداں اقتدار کی ذمہ داریوں کو سنبھالتا ہے تو اس کی عوامی خدمات کے جذبہ میں مزید اضافہ ہونا چاہئے۔ سرکاری کاموں کی انجام دہی اور سیاستدانوں کے منصوبوں کو انجام دینے کے لئے تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور خاص شعبہ میں مہارت رکھنے والے بیوریوکریٹس ہی میدان عمل میں سرگرم رہتے ہیں۔ سیاستدانوں اور بیوریوکریٹس کا ساتھ عوام کی بہتر خدمت کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں جو کچھ سیاسی حالات پیدا ہوتے ہیں اس کا مشاہدہ سارا ملک کرتا ہے۔ ان دنوں دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت کے تعلق سے جو واقعات اور حالات سامنے آرہے ہیں، یہ سیاسی زندگی سے وابستہ افراد اور سرکاری ذمہ داریوں پر فائز بیوریوکریٹس کے لئے لمحہ فکر ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کی حرکتیں ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہیں۔ اس مرتبہ ان ارکان اسمبلی پر الزام ہیکہ انہوں نے دہلی کے چیف سکریٹری انشوپرکاش کو زدوکوب کیا۔ چیف منسٹر اروند کجریوال کی رہائش گاہ پر ہوئی ہاتھا پائی کے واقعہ نے عام آدمی پارٹی کی حکومت کو سیاسی دھکہ پہنچایا ہے۔ اب حکومت اور بیوریو کریٹس کے درمیان چھڑجانے والی جنگ ایک معیوب صورتحال کو جنم دے رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر کا الزام ہیکہ دہلی سکریٹریٹ میں ان کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی۔ انہوں نے دہلی پولیس کو بھی کال کرکے سکریٹریٹ طلب کیا جس کے بعد مسئلہ سنگین ہوتا گیا۔ قومی دارالحکومت میں بیوریو کریٹس نے جب سیاستدانوں کے رویہ کے خلاف مورچہ بنالیا تو عام آدمی پارٹی حکومت کو اب اپنا سرکاری کام کاج انجام دینا مشکل ہوجائے گا۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا بیوریوکریٹس نے سرکاری کام انجام دینے سے انکار کردیا ہے۔ سیاستدانوں کی جانب سے بہتر آفیسرس کی توہین کرنا انہیں برا بھلا کہنا ایک عام چلن ہوتا جارہا ہے جیسا کہ آئی اے ایس کرنے والے بیوروکریٹس اس ملک کے ایڈمنسٹریشن کے ماہر ہوتے ہیں لیکن انہیں میٹرک فیل سیاستداں اپنے اشاروں کا غلام بنانے کی کوشش کرے تو یہ اختیارات کا بیجا استعمال کہلاتا ہے۔ اے آئی اے اسوسی ایشن دہلی کے سکریٹری منیشا سکسینہ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ دہلی میں گذشتہ چند برس سے سینئر عہدیداروں کی بے عزتی کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ عام آدمی پارٹی حکومت میںدہلی کے چیف سکریٹری نے پارٹی ارکان اسمبلی پر جو الزامات عائد کئے ہیں ان پر غور کرکے چیف منسٹر کو سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اپنے وزراء اور رفقاء اور ارکان اسمبلی کو ڈسپلن کا پابند بنانے پر فوری توجہ دینی چاہئے۔ دہلی سکریٹریٹ میں اگر بیشتر عہدیدار اور دیگر سرکاری محکموں میں دہلی نظم و نسق کے ماتحتین ہڑتال پر چلے جاتے ہیں تو اس سے سرکاری کام کاج ٹھپ ہوجائیں گے اور عوام کے مسائل پیدا ہوں گے۔ یہ مسئلہ لیفٹننٹ گورنر سے رجوع کیا گیا ہے تو انہیں فوری مداخلت کرتے ہوئے احتجاجی سینئر عہدیداروں کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے خاطی ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے لیکن سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہیکہ بیوریو کریٹس نے اپنے حدود پار کرلئے ہیں اور انہوں نے سیاستدانوں کے خلاف خراب زبان کا استعمال کرنا شروع کیا ہے اور وہ عوام کی اہمیت کے حامل مسائل پر ارکان اسمبلی کو کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ سیاستدانوں اور بیوریوکریٹس میں یہ ایک ایسی جنگ ہے جس سے صرف عوام کا ہی خسارہ ہوگا۔ پہلے ہی سے کئی مسائل سے دوچار عوام کو تو اب بیوریوکریٹس اور سیاستدانوں کی لڑائی سے مزید دیگر مسائل کا شکار ہونا پڑے گا۔ سرکاری محکموں میں انجام دیئے جانے والی عوامی خدمات پہلے ہی تعطل کا شکار ہوتے ہیں اب اس مسئلہ کے حوالے سے کام کو درہم برہم کردیا جائے تو یہ بہتر نظم و نسق کے لئے اختیار کئے جانے والے اصولوں کے مغائر واقعات ہوں گے۔ یہ بات قابل غور ہیکہ عام آدمی پارٹی حکومت کو ہر زاویہ سے پریشان کرنے کیلئے بی جے پی کی ایماء پر یہ سب شور مچایا جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بی جے پی ایک قومی پارٹی ہے اسے اس طرح کے حربے استعمال کرنا زیب نہیں دیتا۔ عام آدمی پارٹی حکومت نے بی جے پی کے تعلق سے جو الزامات عائد کئے گئے ہیں انہیں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT