Monday , June 25 2018
Home / سیاسیات / سیاستداں خدا نہیں ہوتے اور نہ ہی قانون سے بالاتر : بمبئے ہائیکورٹ

سیاستداں خدا نہیں ہوتے اور نہ ہی قانون سے بالاتر : بمبئے ہائیکورٹ

بی جے پی اور شیوسینا کے کارپوریٹرس کے خلاف کارروائی کرنے پولیس کو عدالت کی ہدایت
ممبئی ۔ 22 فروری (سیاست ڈاٹ کام) بمبئے ہائیکورٹ نے اس بات کا احساس ظاہر کرتے ہوئے کہ سیاستداں ’’خدا نہیں‘‘ ہوتے اور نہ ہی وہ قانون سے بالاتر کیا ہے۔ عدالت نے مہاراشٹرا پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ناجائز طور پر قبضہ کرنے والے دو مقامی کارپوریٹرس کے خلاف کارروائی کرے۔ جسٹس ایس سی دھرم ادھیکاری اور بھارتی ڈینگرے پر مشتمل ایک بنچ نے میرا رائد پولیس اسٹیشن کو ہدایت دی کہ وہ بی جے پی کے پرشورام مہاترے اور شیوسینا کے انیتا پاٹل کے خلاف کیس درج کرے۔ یہ دونوں مقامی کارپوریٹرس ہیں۔ ان پر الزام ہیکہ انہوں نے تحفظ ماحولیات قانون کے تحت خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ سیاسی قائدین قانون سے بالاتر نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ خدا ہوتے ہیں یا کوئی بھی جو یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ قانون سے متصادم کا حق رکھتا ہے۔ آخر میونسپل کارپوریشن اور مقامی پولیس ان خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے خائف کیوں ہے؟ آپ کو طاقتور اور جرأتمند ہونا چاہئے اور کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ بنچ کا یہ تاثر اس وقت سامنے آیا جب بنچ نے ایک کارکن بھارت مکل کی جانب سے اپنے وکیل ڈی ایس ہیشکر کے ذریعہ داخل کردہ مفادعامہ کی درخواست کی سماعت کی۔ اس درخواست کے مطابق دونوں بی جے پی لیڈر مہاترے اور پاٹل نے درختوں کو کاٹ کر اس جگہ پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر اپنے رہائشی بنگلے اور دفاتر تعمیر کرلئے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مارچ 2016ء میں مقامی تحصیلدار نے متعلقہ مقام کی معائنہ کی رپورٹ بھی داخل کی ہے جس میں ان مذکورہ بالا دو مقامی کارپوریٹرس کے نام شامل ہیں۔ ان کے ساتھ دیگر چار کو بھی درختوں کو کاٹ کر اس زمین پر قبضہ کرنے والوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی درخواست گذار نے اس سال پولیس میں ان کے خلاف شکایت درج کروائی۔ پولیس نے اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ انہیں سیاسی تائید حاصل ہے۔ دوسری جانب پولیس نے عدالت سے کہا کہ اس کو اس معاملہ کا جائزہ لینے کیلئے مزید وقت درکار ہے جس کے بعد ہی وہ تحفظ ماحولیات قانون کے کارآمد واقعات کا جائزہ لے کر کارروائی کرسکے جس پر بنچ نے کہا کہ اس قانون میں واضح کہا گیا ہیکہ تمام خاطی مستوجب سزاء ہیں۔ قانون کی دفعہ 17 اور 18 کے تحت ان پر مقدمہ چلایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT