Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / سیاست ، ایم ڈی ایف کی توسط سے تقریباً 5000 شادیاں

سیاست ، ایم ڈی ایف کی توسط سے تقریباً 5000 شادیاں

رجسٹریشن کے اندرون 3 یوم بھی رشتے طئے ، جناب زاہد علی خاں کی تحریک کے موثر نتائج
حیدرآباد ۔ 22 ۔ ستمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : ریاست تلنگانہ بالخصوص ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں لڑکیوں کی شادی ایک مسئلہ بن گئی ہے ۔ حالانکہ دین اسلام میں شادیوں کو آسان بنانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’’ نکاح کو اتنا آسان کردو کہ زنا مشکل ہوجائے ‘‘ ۔ عام طور پر مسلم معاشرہ میں ہونے والی شادیوں کے بارے میں یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ ان میں بہت زیادہ اسراف کیا جاتا ہے ۔ گھوڑے جوڑے کی لعنت نے بھی مسلم سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس لعنت میں بڑے چھوٹے سب مبتلا ہیں ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں ایسے لوگ بھی ہیں جو شادیوں میں بیجا اسراف اور گھوڑے جوڑے سے پاک شادیوں کے حق میں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ شادیوں میں غیر ضروری رسومات کی ادائیگی پر کئے جانے والے خرچ کو غریب مسلم طلباء و طالبات کی تعلیم کے لیے مختص کردیا جائے یا پھر ملت کے ان گھرانوں کی مدد کی جائے جو سود خوروں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے ملت کو شادیوں میں بیجا اسراف سے روکنے اور دختران ملت کی شادیوں کے لیے جو مہم شروع کی ہے اس کے بہترین نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ سیاست اور میناریٹی ڈیولپمنٹ فورم نے سال 2007 سے مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے مسائل حل کرنے کے مقصد سے دوبدو پروگرام کا آغاز کیا ۔ جس میں تاحال ایس ایس سی سے لے کر پی ایچ ڈی لڑکے و لڑکیوں کے بے شمار رشتے طئے پائے ہیں ۔ صدر ایم ڈی ایف جناب عابد صدیقی اور نائب صدر ایم ڈی ایف جناب عبدالقدیر کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران صرف شہر کے مختلف مقامات پر تقریبا 50 دوبدو پروگرامس کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں کئی رشتے طئے پائے ۔ احاطہ سیاست میں واقع دفتر ایم ڈی ایف میں بھی ہر روز لڑکے لڑکیوں کے سرپرستوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں سال 2007 سے اب تک زائد از 4767 شادیاں انجام پائیں ۔ ان شادیوں کی خوبی یہ تھی کہ گھوڑے جوڑے اور جہیز وغیرہ سے گریز کیا گیا ۔ اس طرح مسلمانوں میں ایک صحت مند انقلاب برپا ہوا ۔ جناب عابد صدیقی اور جناب عبدالقدیر کے مطابق صرف ماہ رمضان المبارک میں سیاست ایم ڈی ایف کے ذریعہ 137 شادیاں انجام پائیں ۔ بعض مرتبہ تو ایم ڈی ایف میں لڑکے لڑکیوں کے رجسٹریشن کے اندرون 2 یا 3 یوم بھی رشتے طئے پاچکے ہیں ۔ اس ضمن میں واحد کالونی یاقوت پورہ کے ساکن محمد عبدالغنی عرف جمیل ساکن واحد کالونی یاقوت پورہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے انجینئر لڑکے لیے لڑکی کی تلاش شروع کی اور 16 ستمبر کو ایم ڈی ایف میں رجسٹریشن کروایا اور صرف 3 یوم میں شادی طئے پا گئی ہے ۔ محمد عبدالغنی نے جوپولٹری سپلائی کرتے ہیں اور جن کا کاروبار مہاراشٹرا تک پھیلا ہوا ہے ۔ بتایا کہ ان کے فرزند محمد عبدالباقی عرف نبیل نے بی ٹیک کیا ہے ۔ اور دمام کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے ہیں ۔ 16 ستمبر کو ایم ڈی ایف میں رجسٹریشن کروایا گیا ۔ 17 ستمبر کو لڑکی کو دیکھے اور 19 کو بات چیت ہوگئی ۔ لڑکی نے بی کام تک تعلیم حاصل کی ہے اور ان کے والد محمد عبدالصمد بھی ایک تاجر ہیں ۔ محمد عبدالغنی نے بتایا کہ ایڈیٹر سیاست نے جہیز کی لعنت کے خلاف جو مہم شروع کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے بھی لڑکی والوں سے کوئی مانگ نہیں کی ہے ۔ دوسری طرف جناب عبدالقدیر نے بتایا کہ جاریہ سال 1485 لڑکوں اور 3218 لڑکیوں کے ناموں کا اندراج عمل میں آیا ہے ۔ ایم ڈی ایف میں والدین لڑکے لڑکیوں کی تصاویر دیکھ کر رشتے طئے کرسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ سیاست ایم ڈی ایف میں ایس ایس سی ، انٹر ، بی اے ، بی کام ، بی ایس سی ، فارمیسی ، ڈاکٹرس ، انجینئرس ، ایم بی اے ، ایم سی اے لڑکے لڑکیوں کے رشتے موجود ہیں ۔۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT