Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / سیاست شاپنگ دھوم بمپر ڈرا کی یادگار تاریخی تقریب

سیاست شاپنگ دھوم بمپر ڈرا کی یادگار تاریخی تقریب

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے پہلے انعام کا ڈرا نکالا ، صوفیانہ کلام کے شائقین کی کثیر تعداد شریک

 

حیدرآباد ۔ 13 ۔ فروری : ( دکن نیوز ) : سیاست شاپنگ دھوم بمپر ڈرا کی یادگار اور تاریخی تقریب ہر سال کی طرح اس سال بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ للیتا کلاتھورانم باغ عامہ نامپلی میں منعقد ہوئی ۔ جس سے لطف اندوز ہونے کے لیے شہر اور مضافاتی علاقوں کے فیملز اور نوجوان ، کمسن بچے ، بڑے بڑی تعداد میں دیکھے گئے ۔ سیاست شاپنگ دھوم کے پروگرام کی خاص بات ہر سال یہ رہا کرتی ہے کہ شائقین کے دل کو لبھانے کے لیے شام موسیقی کے ذریعہ ایک نیا رنگ دیا جاتا ہے جس کا موسیقی کے شائقین سیاست شاپنگ دھوم کو اگلے سال تک اپنے ذہنوں میں تازہ رکھتے ہیں ۔ ہر سال سیاست شاپنگ کے ذریعہ صارفین کو اپنی ضرورت اور پسند کے لحاظ سے ہر قسم کی خریداری کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ۔ جس کا دوگنا فائدہ عوام کو ان کی خریداری پر قیمتی انعامات کے ذریعہ دیا جاتا ہے ۔ اس 9 ویں سالانہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ نے شرکت کی ۔ جن گاہکوں نے سیاست شاپنگ دھوم کے ذریعہ خریداری کرتے ہوئے کوپن حاصل کئے تھے اُن کوپنس میں سے محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر نے انعام اول کے طور پر نسان ڈاٹ سن GO کے لیے گوتھیس جویلرس کے خریدار کا کوپن نمبر 1027305 کا قرعہ نکالا ۔ دوسرے انعام ( ہیرو گلامیر ) کے لیے جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کوپن نمبر 842464 کا قرعہ نکالا اس خوش نصیب گاہک نے اسمارٹی فیملی فیشن اسٹور سے خریداری کی تھی ، تیسرے انعام کے طور پر ممبئی کی مشہور گلوکارہ اندرا نائک نے کوپن نمبر 817929 کا قرعہ نکالا اس خوش نصیب گاہک نے کرشمہ دی ویڈنگ مال سے خریداری کی تھی ۔ ان تینوں خوش نصیبوں کو ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے مبارکباد پیش کی ۔ بمپر ڈرا کا مرحلہ تکمیل پانے کے بعد بھی شائقین صوفی موسیقی اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے ۔ اندرا نائک اور عرش محمد خان نے اپنے فن کا جادو جگایا ۔ اندرا نائک جو صوفیانہ کلام کی پیشکشی میں غیر معمولی شہرت کے لیے اپنا ثانی نہیں رکھتی انہیں حیدرآباد کی عوام دوبدو سن کر مسرت محسوس کررہے تھے ۔ خصوصیت کے ساتھ نوجوان عرش محمد خاں نے اپنی مدھور و سریلی آواز میں گیت و نغمے گاکر شائقین کے دل کو بھادیا ۔ گلوکارہ اندرا نائک نے بھی مسلسل 2 گھنٹے مختلف شعراء کا صوفیانہ کلام پیش کیا ۔ خصوصیت کے ساتھ خواجہ جی ، یا غریب نواز کے تحت ’ خواجہ میرے خواجہ دل میں سماجا ‘ اور محبت اپنے ہی رنگ میں رکھ دے ‘ جسے کافی پسند کیا گیا ۔ غزل و صوفی کلام کے درمیان میں صوفی ڈانس کے ذریعہ شائقین کے دل کو لبھایا جارہا تھا ۔ صوفی ڈانس کے بہترین فنکار سندیپ کولکنڈے دیویا اور گڑیا اور ان کے ہمنواؤں نے اس حسن و خوبی کے ساتھ اسٹیج پر سولو ڈانس پیش کیا کہ ان کے ڈانس کے دوران تالیاں ہی تالیاں سنائی دے رہی تھیں ۔ اس کے علاوہ اندرا نائک نے ’ تیرے نام سے جیوں اور تیرے نام سے مرجاؤں ‘ ’ تیری دیوانی ، دیوانی ‘ سناکر داد حاصل کی ۔ ان کے سنائے گئے صوفی کلام ’ مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ ‘ اور ایک اور کلام ’ تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو ۔ تم کو غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دو ‘ اور ’ من کتم مولا ‘ کو کافی پسند کیا گیا ۔ ان دونوں مہمان گلوکار کے گائے ہوئے صوفیانہ کلام و گیت کو سنگیت سے مزین کرنے کے لیے بالی ووڈ میوزیشن راشد خان ، طبلہ پر ثمر خان ، گیٹار پر امر سنگھ ، کی بورڈ پر گائیکواڑ تھے ۔ اس یادگار رنگا رنگ موسیقی پروگرام اور بمپر ڈرا میں وی ہنمنت راؤ رکن راجیہ سبھا ، محمد فاروق حسین ایم ایل سی ، افتخار حسین ( فیض عام ٹرسٹ ) ، پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری اردو اکیڈیمی ، سید حامد قادری ، تقی الدین شجیع ، حیات حسین حبیب ، ایم اے ذیشان کے علاوہ سیاست اسٹاف میر شجاعت علی جنرل منیجر ، زاہد حسین ، احمد قادری ، محمد اسماعیل ، سعید بن ناصر ، محمد عبدالبصیر ، مظہر علی خان ، شیخ محی الدین ، محمد بشیر موجود تھے ۔ گلوکار خان اطہر نے کارروائی چلائی ۔۔

TOPPOPULARRECENT