Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / سیاست میں داخلے کا فیصلہ اٹل : شرمیلا

سیاست میں داخلے کا فیصلہ اٹل : شرمیلا

امپھال ۔ 14اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنی 16سالہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے چند دن بعد منی پور کی ’’خاتون آہن‘‘ اروم شرمیلا نے آج کہاکہ سیاست میں حصہ لینے کے ان کے فیصلہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ‘ حالانکہ اس فیصلہ کی مخالفت کی جارہی ہے لیکن انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ وہ ایک بار پھر اپنی مہم کا آغاز کرنا چاہتی ہے اور فوج کے خصوصی اختیارات متنازعہ قانون کی ریاست سے برخواستگی کا دوبارہ مطالبہ کرنا چاہتی ہیں ۔ 44سالہ انسانی حقوق کارکن جنہوں نے اچانک خود کو بے یار و مددگار محسوس کیا اور انہیں اپنے حامیوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑا ‘ تسلیم کیا کہ لوگ عام طور پر بھوک ہڑتال ختم کرنے اور سیاست میں داخلے کے ان کے فیصلوں پر ناراض ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کا کوئی اچھا خیرمقدم نہیں ہوا ۔ سماجی تنظیموں اور عوام میں جو ان سے ہمدردی رکھتے تھے اب اُن سے ترک تعلق کرچکے ہیں ‘ ان کے ارکان خاندان سے لیکر قریبی دوستوں یہاں تک کہ پڑوسیوں نے بھی ان سے دوری اختیار کی ۔ شرمیلا کو مقامی عوام کے احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مبینہ طور پر بعض عسکریت پسند گروپس نے انہیں دھمکیاں بھی دیں اور یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ہاسپٹل سے 16سال بعد اپنے گھر واپس آنے پر انہیں استقبال کے بجائے احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا ۔ منی پور میں اسمبلی انتخابات 2017ء میں مقرر ہے ۔ شرمیلا نے کہا کہ اگر لوگ میری تائید نہ کریں تو میں اپنے طریقہ پر عمل پیرا ہوجاؤں گی ۔
تاہم انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ انہیں انتخابی کوشش پر عوام کی تائید حاصل ہوگی ۔ انہوں نے ان قیاس آرائیوں سے اتفاق نہیں کیا کہ  کوئی بھی سیاسی پارٹی ان کی مدد نہیںکرے گی ‘ وہ مسلح افواج خصوصی اختیارات قانون منسوخ کرنے کا عرصہ سے مطالبہ کررہی ہے ۔ 2000ء میں جب 10شہری فوج کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے اس وقت سے انہوں نے اس قانون کے خلاف بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا ۔ شرمیلا نے کہا کہ ان کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کا مطلب ان کی تحریک کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک نیا آغاز ثابت ہوگا ۔ انہوں نے ایک مقامی عدالت میں جہاں سے انہیں شخصی مچلکہ پر رہا کیا گیا اپنی بھوک ہڑتال ختم کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT