Tuesday , February 20 2018
Home / مضامین / سیاست میں چندرابابو نائیڈو کے 40 سال کھویا کم پایا زیادہ

سیاست میں چندرابابو نائیڈو کے 40 سال کھویا کم پایا زیادہ

محمد ریاض احمد
سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) انقلاب کا نقیب مانا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں عالمی سطح پر ہندوستان کا جو مقام ہے اس میں آنجہانی راجیو گاندھی کا اہم رول رہا ہے۔ لیکن ہمارے مطالعہ میں Long Revolution: The Birth and Growth of Indias IT Industry” نامی ایک کتاب آئی جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سافٹ ویر اکسپورٹ کے آغاز کا کریڈٹ راجیو گاندھی کی والدہ آنجہانی اندرا گاندھی کو جاتا ہے۔ ہندوستان میں اگرچہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بنیاد ڈالی اور ملک کو اس شعبہ میں آگے بڑھانے کے اقدامات کئے لیکن آج عالمی سطح پر سافٹ ویر پاور کی حیثیت سے ہمارے ملک کی جو شناخت بنی ہے اس میں چندرابابو نائیڈو جیسے IT SAVY سیاستدانوں کا بھی اہم کردار ہے۔ 67 سالہ چندرابابو نائیڈو نے اپنی سیاسی زندگی کے 40 سال مکمل کرلئے ہیں اور اُمید ہے کہ وہ کامیابی سے سیاسی کیرئیر کے 50 سال کی جانب کامیابی سے گامزن رہیں گے۔ ایک دور ایسا بھی تھا جب چندرابابو نائیڈو کو متحدہ آندھراپردیش کے عہدہ چیف منسٹری پر فائز رہنے کے باوجود مشرق وسطیٰ اور دیگر ملکوں کے حکمراں، وزراء اعلیٰ عہدہ دار اور خاص طور پر صنعتکار مستقبل کے ہندوستانی وزیراعظم کی حیثیت سے دیکھا کرتے تھے۔ چندرابابو نائیڈو کے بارے میں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ان میں کمال کی خود اعتمادی تھی لیکن متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم اور علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل نے ان کے حوصلوں اور سیاسی عزائم کو کافی متاثر کیا۔ تاہم آندھراپردیش میں اقتدار کے حصول نے ان میں آندھراپردیش کو سجانے، سنوارنے اور زندگی کے ہر شعبہ میں آگے لانے کا ایک نیا جذبہ و حوصلہ پیدا کردیاہے۔ اب چندرابابو نائیڈو نے آندھراپردیش کے دارالحکومت امراوتی کی تعمیر پر اپنی ساری توجہ مرکوز کردی ہے۔ وہ نہ صرف امراوتی بلکہ سارے آندھراپردیش کو سنگاپور، جاپان اور دوبئی کے طرز پر ترقی دینے کا تہیہ کرچکے ہیں اور اس منصوبہ کے تحت کام کررہے ہیں۔ انھوں نے ریاست کے تعمیری پراجکٹ کے لئے ڈرونس استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے جو سارے ملک بلکہ کئی ملکوں میں اپنی طرز کا منفرد اقدام ہوگا۔ امراوتی کے جو بلیو پرنٹس وغیرہ منظر عام پر آئے ہیں ان کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ امراوتی ایک خوابوں کا شہر بننے جارہا ہے۔ چندرابابو نائیڈو آندھراپردیش میں اب پانی، بجلی، گیاس، فئبر آپٹکس، تغذیہ، نگہداشت صحت، امکنہ، تعلیم، حفظان صحت، سماجی تحفظ و طمانیت، مالیاتی شمولیت، انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولتوں پر خصوصی توجہ مرکوز کردی ہے۔ آندھراپردیش کو ہائی ٹیک کمرشیل انکلیو اور جنوبی ایشیاء کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں اندازہ ہے کہ ہندوستان کی 29 ویں ریاست بننے کے اندرون تین ساڑھے تین سال تلنگانہ نے کئی شعبوں میں مثالی ترقی کی ہے۔ خاص طور پر بجلی کے شعبہ میں ریاست تلنگانہ خود مکتفی ہوگئی ہے۔ چندرابابو نائیڈو اور ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور میں آئی ٹی سیکٹر میں حیدرآباد کو جو مقام حاصل تھا اب بھی حیدرآباد اسی مقام پر برقرار ہے اور اس تاریخی شہر اور تلنگانہ کو آئی ٹی شعبہ میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ چندرابابو کو اس بات کا بھی اعزاز ہے کہ انھوں نے نائی بائی بنگلور اور ہیلو حیدرآباد کی ایک نئی اصطلاح متعارف کرواتے ہوئے مائیکرو سافٹ، آئی بی ایم، ڈیل کمپیوٹر اسوسی ایٹس اور اوراکل کو حیدرآباد میں آنے کی کامیاب ترغیب دی۔ انھوں نے ہندوستان میں ای ۔ حکمرانی (ای ۔ گورننس) پر عمل آوری کرنے میں بھی سب سے پہلے پیشرفت کی۔ ای ۔ گورننس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری (بیرونی اور ملکی سرمایہ کاری) ترقی (سماجی و اقتصادی ترقی)، ڈیٹنس لرننگ، ٹیلی میڈیسن، بائیو ٹیکنالوجی کے شعبوں کے فرروغ میں بھی ان کی پالیسیوں کا اہم حصہ رہا ہے۔

سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر جیسی شخصیتوں نے اپنے دور عروج میں حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے آئی ٹی شعبہ میں چندرابابو نائیڈو کی دلچسپی اور ریاست میں اس کی ترقی و ثمرات پر حیرت ظاہر کی تھی۔ مرکزی حکومتوں کو بھی بیرونی راست سرمایہ کاری کے لئے ملک کے دروازے کھول دینے کے لئے چندرابابو نائیڈو نے کامیاب ترغیب دی تھی۔ اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں بھی چندرابابو نائیڈو آئی ٹی شعبہ اور بیرونی راست سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے اثرانداز ہوئے۔ چندرابابو نائیڈو کی ابتدائی زندگی اور سیاسی کیرئیر کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ انھیں اپنی زندگی میں کئی ایک نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ کامیابیوں کے ساتھ ناکامیوں اور شکست سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ متحدہ آندھراپردیش کے سب سے طویل مدت تک عہدہ چیف منسٹر اور عہدہ قائد اپوزیشن پر فائز رہنے والے چندرابابو نائیڈو کی پیدائش 20 اپریل 1951 ء کو ضلع چتور کے ایک چھوٹے سے گاؤں نراواری پلے میں ہوئی۔ ان کے گاؤں میں اسکول تک نہیں تھا۔ چنانچہ انھوں نے پانچویں جماعت تک شپشاپورم اور پھر چھٹویں تا نویں جماعت چندرا گری گورنمنٹ ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اکنامکس سے ماسٹرس کیا اور پی ایچ ڈی کرنے کے دوران (پی ایچ ڈی مکمل نہ کرسکے) سیاست میں داخل ہوگئے اور کانگریس رکن کی حیثیت سے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1975 ء میں جب اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی اس کے بعد وہ یوتھ کانگریس کے اس وقت کے صدر سنجے گاندھی کے قریبی حامیوں میں شمار کئے جانے لگے۔ سنجے گاندھی کی قربت کا انھیں یہ فائدہ ہوا کہ 1978 ء میں کانگریس نے چندرا گری حلقہ سے انھیں اپنا امیدوار بنایا اور کامیابی حاصل کی۔ ٹی انجیا کابینہ میں جس وقت انھیں وزیر فنی تعلیم و سنیماٹو گرافی مقرر کیا گیا ان کی عمر 28 برس تھی۔ وزیر سنیما ٹو گرافی کی حیثیت سے ہی وہ این ٹی راما راؤ کے ربط میں آئے۔ این ٹی راما راؤ چندرابابو نائیڈو کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے اور 1980 ء میں این ٹی آر نے اپنی تیسری بیٹی بھونیشوری سے ان کی شادی کردی۔ 1982 ء میں این ٹی آر نے تلگودیشم قائم کی اور 1983 ء کے اسمبلی انتخابات میں ریاست سے کانگریس کا صفایا کردیا۔ نائیڈو اس وقت کانگریس میں ہی تھے اور چندرا گری سے انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ 1983 ء کے اسمبلی انتخابات میں چندرابابو نائیڈو نے اندرا گاندھی سے کہا تھا کہ وہ اپنے خسر کے خلاف کانگریس امیدوار بننے کے لئے تیار ہیں لیکن اندرا گاندھی نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چندرابابو نائیڈو کو این ٹی آر کے خلاف مقابلہ کرنے سے باز رکھا۔ چندرا گری سے شکست کے بعد بابو نے اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کی لیکن بابو کی سیاست کا ستارہ اُس وقت چمک اُٹھا جب اگسٹ 1984 ء میں ناڈینڈلہ بھاسکر راؤ نے این ٹی آر کے خلاف بغاوت کی۔ چندرابابو نے اس موقع پر اپنی سیاسی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ این ٹی آر کے حامی تلگودیشم ارکان اسمبلی کو ایک مقام پر جمع کرکے دہلی پہونچ کر صدرجمہوریہ کے سامنے ان کی پریڈ کروائی جس پر 31 دن بعد این ٹی آر کا اقتدار بحال ہوا۔ اپنے داماد کی ان صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے این ٹی آر نے انھیں تلگودیشم کا جنرل سکریٹری مقرر کردیا جس کے ساتھ ہی چندرابابو نائیڈو کے متحدہ آندھراپردیش کے مستقبل کے چیف منسٹر بننے کے عمل کا آغاز ہوا۔ 1989-1994 ء تک حلقہ کپم کی اسمبلی میں نمائندگی کرتے رہے۔

1989 ء کے انتخابات میں چندرابابو کو 5000 ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی۔ این ٹی راما راؤ کی زندگی میں جب لکشمی پاروتی آئیں تب این ٹی آر کے خاندان میں اختلافات عروج پر پہنچ گئے۔ کوئی بھی لکشمی پاروتی کو قبول کرنے تیار نہیں تھا۔ ایسے میں قسمت نے چندرابابو نائیڈو کا ساتھ دیا اور این ٹی آر کے تمام ارکان خاندان اور 200 ارکان اسمبلی نے این ٹی آر سے دوری اختیار کرتے ہوئے بابو کو اپنا قائد تسلیم کرلیا۔ 20 اگسٹ 1995 ء کو بابو کی قیادت میں این ٹی آر کے خلاف بغاوت نے عہدہ چیف منسٹری پر فائز ہونے چندرابابو نائیڈو کے لئے راہ ہموار کی۔ 1995-2004 ء چندرابابو نے اپنے دور اقتدار میں آئی ٹی شعبہ معاشی اصلاحات اور تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں ترقی کو اولین ترجیحات میں شامل رکھا لیکن 2004 ء کے انتخابات میں اپنی بعض پالیسیوں کے باعث انھیں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی ایک اہم وجہ بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے کی طرف چندرابابو نائیڈو کا جھکا ؤتھا۔ چندرابابو نائیڈو کو جہاں ایک سلجھا ہوا سیاستداں تصور کیا جاتا ہے، مخالفین ان کی انتظامی صلاحیتوں کے معترف ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی جانب سے آئی ٹی انڈین آف ملینیم ٹائم میگزین کی جانب سے South Asian قرار دیئے جانے اور ورلڈ اکنامک فورم کی Dream Cabinet کی رکنیت کا اعزاز رکھنے والے چندرابابو کے بارے میں یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ انھوں نے اسی طرح متحدہ آندھراپردیش خاص کر حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال برقرار رکھی جس طرح آج چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے برقرار رکھی ہے۔ چندرابابو نائیڈو کا ماننا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ اچھی انگریزی بولتے ہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دوسرے ملکوں سے آگے ہیں اور ان کے یہاں وسائل کی بھرمار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کے ہر چار آئی ٹی پیشہ وارانہ ماہرین میں ایک ہندوستانی اور ہر چار ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلس میں آندھراپردیش کا ایک آئی ٹی پیشہ ور ماہر ہوتا ہے۔ ان کی یہ بات اب ریاست تلنگانہ پر بھی صادق آرہی ہے۔ ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق کے ٹی آر بھی ریاست میں آئی ٹی اور بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے غیرمعمولی اقدامات کررہے ہیں۔ چندرابابو نائیڈو نے تلنگاانہ میں اپنے ہم منصب کے سی آر کی طرح سیاست میں اپنے بیٹے لوکیش کو لایا ہے اور وہ آندھراپردیش کے وزیر آئی ٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT