Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / سیاست کی تحریک کو کامیاب بنانے مسلمانوں پر زور

سیاست کی تحریک کو کامیاب بنانے مسلمانوں پر زور

جائیدادوں پر تقررات سے قبل تحفظات کے اعلان کا مطالبہ ، مرکز سے رجوع کرنے کی مخالفت ،محفل یاد بیگم اختر سے جناب زاہد علی خاں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اکٹوبر : ( نمائندہ خصوصی) : ریاست بھر میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لیے روزنامہ سیاست کی شروع کردہ تحریک کی گونج تلنگانہ کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے ۔ خاص طور پر اضلاع مستقروں اور دیہاتوں میں مسلمان تعلیم اور ملازمتوں میں مسلمانوں کے لیے 12 فیصد تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع کلکٹران ، ایم آر اوز اور آر ڈی اوز کو نمائندگیاں پیش کررہے ہیں ۔ اس تحریک میں بوڑھے جوان ، بچے اور خواتین سب شامل ہیں ۔ تہذیبی و ثقافتی محفلوں میں بھی مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے سے متعلق چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے وعدے اور وعدہ وفا کرانے کے لیے سیاست کی شروع کردہ تحریک کے چرچے ہیں ۔ سیاست کے محبوب حسین جگر ہال میں بیگم اختر کی یاد میں ایک شام بیگم اختر کا اہتمام کیا گیا جس میں ممتاز گلوکار خان اطہر نے بیگم اختر کے نغمے اور غزلیات پیش کرتے ہوئے سماں باندھ دیا ۔ اس موقع پر جناب زاہد علی خاں نے اپنے خطاب میں بیگم اختر اور ان کے فن کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیگم اختر نے اپنی آواز اور انداز کے ذریعہ غزل گائیکی کو ایک نئی بلندی عطا کی ۔ ان کے خیال میں ہندوستان میں اب دوسری بیگم اختر پیدا نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا ’ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان میں دوسری بیگم اختر پیدا ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے اگرچہ ان کے ساتھ رہ کر سیکھنے والی چند گلوکارائیں ان کی نقل کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ بیگم اختر نے مجروح سلطان پوری ، فیض احمد فیض جیسے شعراء کے کلام کواپنی سریلی آواز کے ذریعہ مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچایا ۔ جناب زاہد علی خاں نے یہ بھی کہا کہ جب بیگم اختر غزل سرا ہوتی تو ایسا لگتا کہ غزل خود پر فخر محسوس کررہی ہو ۔ وہ مشکل سے مشکل غزل کو اس آسانی سے گاتی تھیں کہ سننے والے حیرت میں غرق ہوجاتے ۔ ایڈیٹر سیاست نے یہ بھی کہا کہ خان اطہر نے بیگم اختر کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور یہ کام حیدرآبادی فنکار ہی کرسکتے تھے ۔ ابتداء میں ہندوستان اور امریکہ کی دوہری شہریت کے حامل افتخار شریف سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے جسٹس اسمعیل ( ریٹائرڈ ) ، خان اطہر اور دیگر کی شال پوشی کی گئی ۔ جناب زاہد علی خاں نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے انہیں 12 فیصد تحفظات ضروری ہیں ۔ چیف منسٹر مسٹر کے سی آر نے اسمبلی انتخابات سے قبل مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار ملتے ہی مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے ۔ لیکن آج وہ سدھیر کمیٹی کی رپورٹ 9 ویں شیڈول کے تحت مرکزی حکومت کو بھیجنے کی باتیں کررہے ہیں ۔ اگر مسلمانوں کے لیے تحفظات کی رپورٹ کو 9 ویں شیڈول کے تحت مرکز کو بھیجا جائے تو ہمیں تحفظات ملنے کی امید باقی نہیں رہتی ۔ انہوں نے حاضرین محفل اور مسلمانوں سے سیاست کی اس تحریک کو کامیاب بنانے کی درخواست کی اور کہا کہ اگر مسلمان ایم آر او آر ڈی او کے دفاتر میں درخواستیں پیش کریں تب ہی حکومت پر دباؤ قائم کیا جاسکتا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ چند دنوں حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایک لاکھ سے زائد تقررات کئے جانے والے ہیں اگر یہ 12 فیصد تحفظات نہ ملیں تو پھر آئندہ 20 برسوں تک کسی مسلمان کو سرکاری ملازمت حاصل نہیں ہوگی ۔ جائیدادوں پر بھرتیوں سے قبل ہی مسلمانوں کے لیے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا اعلان کیا جانا چاہئے ۔ ایڈیٹر سیاست نے امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ سیاست کی تحریک کامیاب ہوگی اور مسلمانوں کو 12000 ملازمتیں حاصل ہوں گی ۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ہر ضلع میں مسلمان مرد و خواتین 12 فیصد تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے کلکٹروں اور ایم آر او و آر ڈی او کو نمائندگیاں پیش کررہے ہیں لیکن اس معاملہ میں حیدرآباد سے زیادہ موثر آواز نہیں اٹھ رہی ہے ۔ حیدرآباد کے مسلمان تحفظات کے لیے اٹھ کھڑے ہوجائیں تو مسلمانوں کو تحفظات مل سکتے ہیں۔۔

TOPPOPULARRECENT