Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / سیاست کی خبر سچائی پر مبنی، قیادت کے دعویداروں میں بوکھلاہٹ

سیاست کی خبر سچائی پر مبنی، قیادت کے دعویداروں میں بوکھلاہٹ

ڈبل بیڈروم مکانات میں اقلیتوں کی حصہ داری کا دستاویزی ثبوت قارئین کیلئے پیش

حلقہ پارلیمنٹ حیدرآباد اور سکندرآباد کے مسلمانوں کو
مکانات کی فراہمی میں دو فیصد کا نقصان

حیدرآباد ۔ 25۔ اکتوبر (سیاست نیوز) صحافت کا بنیادی اصول دیانتداری اور سچائی ہونا چاہئے۔ اگر صحافت جھوٹ اور الزام تراشی کا سہارا لے تو پھر یہ صحافت نہیں بلکہ زرد صحافت کہلاتی ہے۔ ایسی صحافت پر سے عوام کا بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔ روزنامہ سیاست کی عوامی مقبولیت کا راز یہی ہے کہ قارئین تک جو بھی خبر پہنچائی جاتی ہے ، وہ نہ صرف سچائی اور صداقت پر مبنی ہوتی ہے بلکہ اس کا دستاویزی ثبوت بھی موجود ہوتا ہے۔ سیاست نے جب کبھی سچائی اور بے باکی کے ساتھ عوام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی تو قوم کو سیاہ تاریکیوں اور حقائق سے ناواقف رکھنے کے خواہشمندوں نے نہ صرف مخالفت کی بلکہ بے بنیاد الزام تراشی پر اتر آئے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ دنوں اقلیتی بہبود کے امور پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا تھا۔ اگرچہ یہ اجلاس اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ منعقد کیا گیا لیکن ٹی آر ایس کی حلیف جماعت کے برادران نے شرکت کرتے ہوئے حکومت کے تمام فیصلوں کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ۔ اجلاس میں ڈبل بیڈروم مکانات میں اقلیتوں کی حصہ داری کے سلسلہ میں جو فیصلہ کیا گیا ،

اس کی رپورٹنگ سیاست نے دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر کی ۔ اجلاس میں حکومت نے شہری علاقوں میں ڈبل بیڈروم مکانات اسکیم میں اقلیتوں کو 10 فیصد حصہ داری کا اعلان کیا۔ اجلاس میں موجود مسلمانوں کے نام نہاد ہمدرد برادران اس فیصلہ پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ شاید وہ ڈبل بیڈروم مکانات میں مختلف طبقات کیلئے الاٹ کردہ کوٹہ سے لاعلم ہے۔ رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی میں فلور لیڈر دونوں کی لاعلمی یا پھر تجاہل عارفانہ پر مسلمان ہنس رہے ہیں ۔ سیاست نے حکومت کے جی او ایم ایس 12 مورخہ 26 نومبر 2015 ء کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ جی او میں شہری علاقوں میں اقلیتوں کو 12 فیصد کوٹہ فراہم کیا گیا ہے جبکہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں 10 فیصد کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح کوٹہ میں اضافہ کے بجائے مزید 2 فیصد کی کمی کردی گئی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی بھلائی کے دعویدار برادران ڈبل بیڈروم جیسی اہم اسکیم میں مسلمانوں کی حصہ داری سے واقف تک نہیں ہے۔ جب عوامی نمائندے حکومت کی اسکیمات اور ان کے فوائد سے لاعلم ہوں تو پھر کیا توقع کی جائے گی کہ وہ ڈبل بیڈروم اسکیم میں مسلمانوں کو طئے شدہ حصہ دلا پائیںگے۔

حلیف جماعت کو اسکیم میں مسلمانوں کو حصہ داری سے زیادہ خوش کن اعلانات کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی فکر ہے۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں مزید کئی اعلانات کئے گئے جن میں سے بیشتر اعلانات سوائے مسلمانوں کو خوش کرنے کے سواء کچھ دکھائی نہیں دیتے۔ اگر ان ’’ہمدردانِ قوم‘‘ کو اگر حقیقی معنوں میں غریب مسلمانوں کی فکر ہوتی تو وہ گزشتہ اسمبلی اجلاس میں چیف منسٹر کی جانب سے کئے گئے 15 سے زیادہ اعلانات کے بارے میں ضرور استفسار کرتے۔ اتنا ہی نہیں 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ کو فراموش کردیا گیا ،حالانکہ اس پر عمل آوری سے ایک لاکھ سے زیادہ مسلم نوجوانوں کو فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گزشتہ اسمبلی میں چیف منسٹر کے وعدوں پر عمل آوری کے تعلق سے عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی جاتی لیکن یہاں تو معاملہ محض کان خوش کرنے کا ہے ۔ اسی لئے ہر اجلاس میں نت نئے اعلانات اور خوش کن وعدوں کے ذریعہ بھولے بھالے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT