Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / سیاسی انحراف کے حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے پر زور

سیاسی انحراف کے حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے پر زور

گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے محمد علی شبیر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے صرف نلگنڈہ کے بجائے ہمت ہے تو سیاسی انحراف کے حامل 4 لوک سبھا اور 25 اسمبلی حلقوں پر ضمنی انتخابات کرانے کا چیف منسٹر کے سی آر کو چیلنج کیا ۔ تھوڑی سی بارش سے حیدرآباد میں وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کے وعدوں کی قلعی کھل جانے کا دعویٰ کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر چیف منسٹر تلنگانہ میں حکومت کی ’ فیل گڈ فیاکٹر ‘ کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو صرف حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ کا کیوں ضمنی انتخابات کرانا چاہتے ہیں ۔ اگر کے سی آر حقیقت میں عوامی نبض پڑھنا چاہتے ہیں تو دوسری جماعتوں سے سیاسی انحراف کرتے ہوئے حکمران ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے 4 ارکان پارلیمنٹ اور 25 ارکان اسمبلی سے استعفیٰ دلواتے ہوئے ان حلقوں میں ضمنی انتخابات کرائے ۔ نتائج سے اندازہ ہوجائے گا کہ ریاست کے عوام حکومت کی کارکردگی سے کتنا مطمئن ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ سیاسی انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس کے ارکان تسلیم کرنے کے بجائے اسمبلی سے جاری ہونے والے بلیٹن میں انہیں دوسری جماعتوں کے ارکان ہونے کی توثیق کی جارہی ہے اور شرم کی بات یہ ہے کہ تلگو دیشم کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے سرینواس یادو کو ریاستی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں حکومت نے کامیابی کی صورت میں ترقی کے لیے 100 دن میں ایکشن پلان تیار کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن ابھی تک کوئی پلان تیار نہیں کیا گیا جب کہ کانگریس کے دور حکومت میں شہر حیدرآباد کی ترقی کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپئے خرچ کیا گیا ۔ ٹی آر ایس حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے سی آر اور ان کے فرزند کے ٹی آر نے شہر حیدرآباد کو ڈیلاس اور استنبول کی طرز پر ترقی دینے کا اعلان کیا ہے مگر دو دن قبل صرف 7.5 سنٹی میٹر بارش سے حیدرآباد جھیل میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ گذشتہ سال بارش سے حیدرآباد میں جو تباہی و بربادی ہوئی اس سے ٹی آر ایس حکومت نے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر حیدرآباد کی ترقی کے جو وعدے کرتے ہیں تھوڑی سی بارش سے اس کی قلعی کھل گئی ہے ۔ کے ٹی آر کو ایوارڈس حاصل کرنے میں جتنی دلچسپی ہے اتنی عوامی مسائل پر نہیں ہے ۔ ابھی تک کوئی فلائی اوور تعمیر نہیں کیا گیا اور نہ ہی ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کئے گئے ۔ ٹریفک مسائل کا کوئی حل برآمد نہیں ہوا ہے ۔ انڈر گراونڈ کیبلنگ اور پینے کے پانی کے مسائل جوں کے توں برقرار ہے ۔ محمد علی شبیر نے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اس سے دستبرداری اختیار کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت آئیل کمپنیوں کو لوٹ کھسوٹ کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ تین سال کے دوران پٹرول پر 10 فیصد اور ڈیزل پر 11 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکسوں میں کمی کردی گئی تو پٹرول کی قیمت فی لیٹر 35 روپئے اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 29 روپئے ہوسکتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT