Wednesday , December 19 2018

سیاسی جماعتوں کو جوابدہ بنانے کی تجویز

ترے وعدہ پر جئے ہم نہ تو جان چھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
سیاسی جماعتوں کو جوابدہ بنانے کی تجویز
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس جے اے کیہر نے ملک میں انتخابی سیاست پر ہی توجہ مرکوز کئے جانے پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں انتخابی وعدوں سے انحراف اور ان کی عدم تکمیل کی روایت زور پکڑتی جا رہی ہے اور صرف وعدے کرکے انہیں فراموش کیا جا رہا ہے ۔ جسٹس کیہر نے سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے جوابدہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ہندوستان میں حقیقتا یہ روایت رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل عوام کو سبز باغ دکھاتی ہیں۔ انہیں ہتھیلی میں جنت دکھائی جاتی ہے ۔ ان سے نت نئے وعدے کئے جاتے ہیں۔ انہیں خوش کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملادئے جاتے ہیں لیکن جب انتخابات ختم ہوجاتے ہیں اور جس جماعت کے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے عوام اسے اپنے ووٹ دیتے ہیں وہ جماعت پھر ان انتخابی وعدوں کو فراموش کردیتی ہے ۔ یہ ایک ایسی روایت بن گئی ہے جس سے کوئی بھی سیاسی جماعت متثنی نہیں ہے ۔ ہر جماعت نے یہ روایت بنالی ہے ۔ شائد ہی کچھ جماعتیں ہیں جنہوں نے عوام سے جو وعدے کئے تھے اقتدار ملنے کے بعد ان کا خیال رکھا ہو اور ان کی تکمیل پر توجہ دی ہو۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے اپنی حقیقی تشویش کو ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ملک میں محض انتخابی سیاست کو ہی فروغ دیا جا رہا ہے اور اس مقصد کیلئے ذات پات پر مبنی نظام کو رائج کیا جا رہا ہے ۔ سیاسی جماعتیں جو منشور جاری کر رہی ہیں ان میں کوئی بنیادی اور سماجی مسائل کو شامل کرنے کی بجائے انتخابی سیاست کا رنگ دیتے ہوئے سماجی گروپس کو متحرک کیا جا رہا ہے اور اس کے ذریعہ سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کی تکمیل میں جٹ گئی ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے جو ریمارکس کئے ہیں وہ ملک کے عوام کی اکثریت کی رائے بھی کہے جاسکتے ہیں۔ ملک کے عوام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں محض اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے انتخابی منشور میں وعدے کرکے انہیں بعد میں فراموش کردیتی ہیں اور رائے دہی میں فائدہ حاصل کرنے کیلئے ذات پات کے مسائل کو ابھارا جاتا ہے ۔ ہر سیاسی جماعت اسی رنگ کو اختیار کرتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل میں جٹ گئی ہے ۔
سیاسی جماعتوں کی اسی روش نے ملک کے عوام کو ان جماعتوں سے بیزار کردیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ انتخابات ہوتے بھی ہیں اور کسی نہ کسی سیاسی جماعت کو عوام کی اکثریتی رائے حاصل ہوتی ہے اور وہ اقتدار حاصل کرلیتی ہے لیکن اگر ہم ملک میں ہونے والی رائے دہی کا تناسب اگر دیکھیں اور اس کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عوام کی نصف کے قریب تعداد ایسی ہے جو انتخابی عمل کا حصہ ہی نہیں بنتی ۔ وہ رائے دہی سے بھی گریز کرتی ہے ۔ ہمارے ملک میں رائے دہی کا اوسط اگر دیکھا جائے تو یہ 60 فیصد کے آس پاس ہوتا ہے اور 40 فیصد کے آس پاس لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس انتخابی عمل کا حصہ بننے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کیلئے بھی ہمارے انتخابی نظام کی خامیاں اور نقائص ذمہ دار ہیں۔ اس کیلئے سیاسی جماعتوں کی چال بازیاں اور ان کے زبانی جمع خرچ پر مبنی وعدے ذمہ دار ہیں۔ عوام کی ایک خاطر خواہ تعداد ان جماعتوں پر بھروسہ نہیں کرتی ۔ 60 فیصد رائے دہی میں بھی جو جماعت اقتدار حاصل ہوتی ہے اس کا نصف ہی حاصل کرتی ہے ۔ ایسے میں عملا جو جماعتیں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں وہ بھی ملک کے عوام کی 30 فیصد تائید سے ہی چلتی ہیں۔ یہ حالانکہ ہمارے جمہوری عمل کا حصہ ہے اور ہندوستان میں اب بھی جمہوریت ایک مستحکم روایت ہے اور اس کا استحکام ہر ایک کی ذمہ داری ہونی چاہئے لیکن ساتھ ہی جو حالات ملک میں بن رہے ہیں اور عوام انتخابی عمل سے جس بیزارگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ بھی قابل توجہ ہے اور ہر ایک کو اس تعلق سے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے ۔
چیف جسٹس آف انڈیا کی رائے کا سب کو احترام کرنے کی ضرورت ہے اور ہر گوشہ کو اس سلسلہ میں اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر ملک کی تمام ذمہ دار جماعتوں کو چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں ہوں اس تعلق سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جو وعدے وہ عوام سے اپنے منشور میں کریں ان کو پورا کرنے پر توجہ دی جائے ۔ ذات پات کی سیاست کو ترک کرتے ہوئے سماجی اور قومی ترقی کے مسائل کو اجاگر کیا جائے ۔ ان پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ملک کے عوام کو اس جمہوری عمل کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کی ایک خاطر خواہ تعداد کو اس جمہوری عمل کا حصہ بنایا جاسکے اور ان میں موجودہ انتخابی سیاست سے جو بیزارگی پیدا ہوئی ہے اس کو دور کرتے ہوئے ان میں جمہوریت کے تئیں اعتماد کو بحال کیا جاسکے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT