سیاسی جماعتوں کے عطیات وصولی کیلئے الیکٹورل بانڈس

بدعنوانیوں کو ختم کرنے کی کوشش، مختلف سیاسی جماعتوں سے مخالفت

حیدرآباد۔18مارچ(سیاست نیوز) سیاسی جماعتوں کی جانب سے وصول کئے جانے والے عطیات کو باقاعدہ بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے شروع کردہ الکٹورل بانڈ اسکیم پر عمل آوری شروع کی جا چکی ہے اور یکم تا 10مار چ کے دوران الکٹورل بانڈ کی فروخت کے اعلامیہ کی اجرائی کے بعد اب تک 222 کروڑ مالیتی بانڈ فروخت کئے جاچکے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے اعلامیہ کی اجرائی کے بعد 10دن کے لئے بانڈس کی فروخت اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ذریعہ عمل میں لائی گئی جو کوئی بھی شخص اپنی مکمل تفصیلات والے بینک کھاتہ کے ذریعہ خرید سکتا ہے لیکن اس کے نام کا انکشاف نہیں کیا جائے گا۔ خریدی کرنے والوں کے ناموں کو محفوظ رکھا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ الکٹورل بانڈ کے خریدار ان کی جانب سے خریدے گئے بانڈ کسی بھی رجسٹرڈ سیاسی جماعت کو بطور عطیہ دے سکتے ہیں اور اندرون 15یوم یہ بانڈس سیاسی جماعت کو بطور عطیہ حوالہ کردیئے جانے چاہئے اور سیاسی جماعت کی جانب اپنی جماعت کے کھاتہ میں اس بانڈ کو جمع کرواتے ہوئے رقم حاصل کرسکتی ہے۔ حکومت کے مطابق الکٹورل بانڈس کو روشناس کروانے کا مقصد سیاسی چندوں کے نام پر کی جانے والی بدعنوانیوں کے تدارک کو یقینی بنایا جانا ہے لیکن حکومت کے اس منصوبہ کو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے اس طرح کے بانڈس کی فروخت کے ذریعہ حکومت سیاسی بدعنوانیوں کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے محکمہ فینانس کی جانب سے اپریل‘جولائی اور اکٹوبر کے دوران بھی الکٹورل بانڈس کی فروخت کے اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور یہ فروخت بھی 10دن تک جاری رہے گی لیکن انتخابات کے قریب حکومت کی جانب سے 100 دن تک کی مدت کیلئے الکٹورل بانڈس کی فروخت کا اعلامیہ جاری کرنے کی گنجائش ہے اور انتخابات سے عین قبل جاری کئے جانے والے اس 100 یوم تک کی فروخت کے اعلامیہ کی اجرائی کی گنجائش عام انتخابات کے سال میں ہی ممکن ہے۔ بتایاجاتاہے کہ محکمہ فینانس کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات سے محکمہ مطمئن ہے اور یکم تا10مارچ کے دوران الکٹورل بانڈس کی فروخت کو بھی حوصلہ افزاء تصور کیا جا رہاہے اور کہا جارہا ہے کہ آئندہ مہینوں کے دوران ان بانڈس کی فروخت میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ اس سلسلہ میں عوام اور عطیہ دہندگان میں اب شعور اجاگر ہونے لگا ہے۔

TOPPOPULARRECENT