Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / سیاسی سرپرستی میں کرنسی کی غیرقانونی تبدیلی کا کاروبار عروج پر

سیاسی سرپرستی میں کرنسی کی غیرقانونی تبدیلی کا کاروبار عروج پر

کالے دھن کو جائز بنانے خانگی اور کوآپریٹیو بینک کے ذمہ دار بھی ملوث
حیدرآباد۔13نومبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میں کالے دھن کے طور پر جمع کرنسی کی غیر قانونی تبدیلی کے کاروبار عروج پر ہیں۔ شہر کے کئی علاقو ںمیں جاری اس کاروبار کو سیاسی سرپرستی حاصل ہو نے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اسی طرح کئی مقامات پر بینکرس اور بڑے تاجرین کے ملوث ہونے کے علاوہ خانگی بینکوں اور کو آپریٹیو بینکس کے ذمہ دار کے نام بھی لئے جانے لگے ہیں۔ گھانسی بازار ‘ لال دروازہ‘ مانصاحب ٹینک‘ بنجارہ ہلز ‘ ملک پیٹ ‘ چکڑپلی اور دیگر علاقوں میں اس کاروبارکے عروج پرہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔غیر محسوب دولت جن لوگوں کے پاس موجود ہے وہ لوگ اپنی دولت کو بچانے کیلئے مختلف طریقوں سے کوشش کررہے ہیں اور جن لوگوں کا تعلق بینکوں سے ہے وہ لوگ من مانی میں مصروف ہیں۔ کولکاتہ کے علاقہ سوناگاچی میں بردہ فروش خواتین کی جانب سے چلائے جانے والے اوشا بینک کے کھاتوں میں جمع ہورہی رقومات کو دیکھنے پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ جسم فروشی کرنے والی خواتین کے اس بینک میں ان پیشہ ور خواتین نے اپنی دولت جمع کرنی شروع کردی ہے۔ اسی طرح مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کے اپنے بینک ہیں اور ان بینکوں میں بھی ان طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو فائدہ پہنچائے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ شہر میں 20تا30فیصد پر جاری اس کاروبار کے علاوہ حالیہ عرصہ میں کھولے گئے بینک اکاؤنٹس بھی شک کے دائرے میں ہیں کیونکہ جاریہ سال کے دوران شہر میں کئی کو آپریٹیو بینکوں کی نئی شاخیں کھولی گئی ہیں جبکہ یہ بینک برسہابرس سے چلائے جا رہے تھے لیکن اتنی شاخیں ایک سال کے دوران نہیں کھولی گئی تھیں جتنی اس ایک سال میں کھولی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مخصوص تجارتی برادری جومرکزی حکومت سے قریب سمجھی جاتی ہے اس برادری کی جانب سے چلائے جانے والے بینک کی بھی جاریہ سال شاخیں کھولی گئی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض ایسے بینکوں کی بھی حالیہ عرصہ میں شاخوں کا افتتاح عمل میں آیاجس کے ذمہ داروں کے بی جے پی سے گہرے روابط کے انکشافات ہو رہے ہیں۔ ان کو آپریٹیو بینکوں کے ذریعہ کسی کا فائدہ ہو یا نہ ہو ان بینکو ں کے ذمہ دار یا با اثر سیاستداں جو ان کا حصہ ہیں وہ بہ آسانی اپنی دولت کو تبدیل کر سکتے ہیں ۔ شہریان حیدرآباد اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ حالیہ عرصہ میں کن بینکوں نے اپنی شاخو ں میں اضافہ کیا ہے۔ جن بینکوں نے حالیہ عرصہ میں اپنی شاخوں کا افتتاح کیا ہے ان بینکو ںکے ذمہ داروں کی دولت تو محفوظ ہو ہی جائے گی کیونکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ مودی حکومت نے 1000اور500کے نوٹوں کو بند کرنے کے اپنے فیصلہ سے اپنے ان دوستوں کو واقف کروادیا تھا جن کی دولت انہیں محفوظ کرنی تھی۔ دونوں شہروں میں ایک مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے بینکوں کی شاخیں اچانک کھولی گئیں شہر کے بعض ایسے بینک بھی ہیں جن کی سیاستداں سرپرستی کرتے ہیں ۔کولکتہ میں جسم فروشی کرنے والی عورتیں اپنے بینک کے ذریعہ اپنی دولت کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اسی طرح ملک بھر میں تجارتی برادری کی جانب سے چلائے جانے والے بینک اپنی برادری کی دولت محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیںجبکہ سیاستدانوں کی سرپرستی میں چلائے جانے والے بینک سیاسی دولت کے تحفظ کی کوشش میں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT