Saturday , November 18 2017
Home / سیاسیات / سیاسی صف آرائی کا مالیگاؤں نشانہ بن گیا

سیاسی صف آرائی کا مالیگاؤں نشانہ بن گیا

سپریم کورٹ میں ملزم کرنل پروہت کا بیان، فیصلہ محفوظ
نئی دہلی ۔ 17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج لیفٹننٹ کرنل شریکانت پرساد پروہت کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کردیا جس میں انہوں نے 2008ء کے مالیگاؤں دھماکہ مقدمہ میں ضمانت پر رہائی کی گذارش کی تھی۔ سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے پروہت کی پیروی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 9 سال سے جیل میں ہے لیکن فردجرم کے خلاف ہنوز پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مکوکا فردجرم پہلے ہی واپس لیا جاچکا ہے جو اس کے خلاف تھا۔ چنانچہ وہ عبوری ضمانت کا مستحق ہے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل منیندر سنگھ نے قومی تحقیقاتی محکمہ (این آئی اے) کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ پروہت کے خلاف چند حدود ہیں جن سے فرد جرم عائد کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی ضمانت پر رہائی منسوخ کرنے کی درخواست کے بارے میں عدالت نے مقدمہ کی سماعت 10 اکٹوبر تک ملتوی کردی۔ پروہت نے سپریم کورٹ میں بامبے ہائیکورٹ کے حکم نامہ کو چیلنج کیا ہے جس میں اس کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔ نثار احمد حاجی سید بلال نے جو دھماکے کے مہلوکین میں سے ایک کے والد ہیں، بامبے ہائیکورٹ کے حکمنامہ کو جس نے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی ضمانت پر رہائی منظور کی ہے، چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھاکہ وہ ایک ’’طاقتور شخصیت‘‘ ہے اور مقدمہ کے گواہوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ 25 اپریل کے ضمانت کی منظوری کے ہائیکورٹ کے فیصلہ پر حکم التوا کی خواہش کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھاکہ بادی النظر میں اس کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو حکومت مہاراشٹرا سے اس درخواست پر جواب طلب کیا تھا۔ این آئی اے نے اپنا جواب پروہت کے مقدمہ میں داخل کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT