Friday , January 19 2018
Home / اداریہ / سیاسی صف بندیوں کے اشارے

سیاسی صف بندیوں کے اشارے

بتوں نے توڑ دی خود ہی سے رسم بے مہری صنم کدے میں ایک ایسا بھی انقلاب آیا سیاسی صف بندیوں کے اشارے

بتوں نے توڑ دی خود ہی سے رسم بے مہری
صنم کدے میں ایک ایسا بھی انقلاب آیا
سیاسی صف بندیوں کے اشارے
دو ریاستوں مہاراشٹرا اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کیلئے رائے دہی پوری ہوچکی ہے ۔ اب اتوار کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان باقی ہے ۔ ایسے میں ایگزٹ پولس اور مختلف سروے میں یہ اشارے ملے ہیں کہ ان ریاستوں میں معلق اسمبلی وجود میں آئیگی اور کسی واحد جماعت کو اقتدار ملنا مشکل ہے ۔ مہاراشٹرا اور ہریانہ دونوں ہی ریاستوں میںحالانکہ بی جے پی کو واحد بڑی جماعت کی حیثیت ملنے کے اشارے ملے ہیں لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان ریاستوں میں بی جے پی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوگی تاکہ وہ وہاں اپنے طور پر حکومتیں قائم کرسکے ۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی کو اپنی ربع صدی سے حلیف رہی جماعت شیوسینا سے اتحاد ختم کرنے کے باوجود اچھی کامیابی ملنے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ بی جے پی کووہاں 120 کے آس پاس نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے لیکن وہاں سادہ اکثریت کیلئے 144 ارکان کی تائید کی ضرورت ہے ۔ چونکہ شیوسیناسے بی جے پی کا اتحاد ختم ہوگیا ہے ایسے میں یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ ریاست میں سیاسی جماعتوں کی نئی صف بندیاں ہونگی اور ایک بار پھر ریاست میں مخلوط حکومت ہی تشکیل پائیگی ۔ جس طرح بی جے پی اور شیوسینا کے مابین اتحاد ختم ہوگیا تھا اسی طرح ریاست میں گذشتہ تین معیادوں سے برسر اقتدار کانگریس ۔ این سی پی اتحاد میں بھی پھوٹ پڑ گئی تھی اور دونوں جماعتوں نے اپنے طور پر الگ الگ مقابلہ کیا تھا ۔ اسی وجہ سے یہاں ووٹوں کی تقسیم ہوگئی اور بی جے پی نے اسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں زبردست انتخابی مہم چلائی اور انہوں نے دو درجن سے زیادہ انتخابی جلسوں سے مہاراشٹرا میں خطاب کیا تھا ۔ انہوں نے رائے دہندوں پر زور دیا تھا کہ اگر ریاست کی ترقی چاہتے ہیںتو انہیں بی جے پی کو مکمل اکثریت فراہم کرنی چاہئے ۔ رائے دہندوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ تو دیا ہے لیکن یہ آثار نہیں ہیں کہ بی جے پی کو یہاں واضح اکثریت حاصل ہوجائیگی اور اسے یہاں حکومت تشکیل دینے کسی اور جماعت کی تائید کی ضرورت درپیش نہیں ہوگی ۔ ایگزٹ پولس اور سروے کی رپورٹس کے مطابق مہاراشٹرا میں پھر مخلوط حکومت کے قیام کے حق میں ہی عوام نے ووٹ دیا ہے ۔
یہ امکان بہت کم رہ گیا ہے کہ انتخابات سے قبل علیحدہ ہوجانے والی دونوں جماعتوں شیوسینا اور بی جے پی انتخابات کے بعد دوبارہ اتحاد کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینگی ۔ حالانکہ نظریاتی طور پر دونوں جماعتوں میں زیادہ کچھ فرق نہیں ہے لیکن چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے دونوں جماعتوں کے مابین جو دعویداری ہے اسی وجہ سے دونوں جماعتوں کے مابین اتحاد ٹوٹا تھا ۔ شیوسینا ریاست میں سینئر پارٹنر ہونے کا ادعا کرتے ہوئے وزارت اعلی پر اپنا حق جتا رہی تھی تو بی جے پی نے بھی یہ واضح کردیا تھا کہ مہاراشٹرا میں بی جے پی حکومت تشکیل دیگی ایسے میں کسی بھی فریق نے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے سے انکار کرتے ہوئے الگ راستے اختیار کرلئے تھے لیکن ان راستوں پر چلتے ہوئے کوئی بھی جماعت اپنے طور پر منزل تک نہیں پہونچی ہے ۔ انتخابا ت کے بعد کی صورتحال میں بھی اتحاد اور ایک دوسرے کے ساتھ کی ضرورت پڑسکتی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار کیلئے اب کس عذر اور بہانے کے ساتھ اتحاد کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر تنقیدیں اور جوابی تنقیدیں بہت شدت کے ساتھ کی گئی تھیں اور اب جبکہ عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے تو ان جماعتوں کو اب توڑ جوڑ کے امکانات کا جائزہ لینے کی ضرورت پیش آگئی ہے اور اس عمل میں ملک کی ہر سیاسی جماعت مہارت رکھتی ہے ۔ وہ اپنے مفاد کی خاطر ہر طرح کے اتحاد اور اختلاف کی کوئی نہ کوئی گنجائش نکال لیتی ہیں اور مہاراشٹرا میں اب انہیں ایک بار پھر اپنی اسی مہارت کا کسی معقول بہانے سے استعمال کرنا پڑسکتا ہے ۔
ہریانہ کی صورتحال بھی مختلف نہیں ہے ۔ مہاراشٹرا کی طرح یہاں بھی کانگریس کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بی جے پی حالانکہ یہاں بھی واحد بڑی جماعت بن کر ابھر سکتی ہے لیکن اسے یہاں بھی قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی ہے ۔ اس طرح بی جے پی کو اپنے طور پر اقتدار فراہم کرنے سے رائے دہندوں نے گریز کیا ہے ۔ اس ریاست میں بھی توڑ جوڑ اور اتحادی سیاست کی ضرورت آن پڑی ہے اور پس پردہ اس طرح کی کوششیں شروع بھی ہوگئی ہیں۔ اتوار کو جب ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان کردیا جائیگا تو یہ سرگرمیاں اور بھی شدت اختیار کرلیں گی اور پھر عوام کی رائے کو توڑ مروڑ کر اپنے مفادات کے مطابق پیش کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں نئی صف بندیاں کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرینگی اور کچھ اقتدار میں شراکت پر مطمئن ہوجائیں گی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ توڑ جوڑ کی اس سیاست میں اخلاقیات اور اصولوں کا پاس لحاظ کس حد تک رکھا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT