Tuesday , June 19 2018
Home / اداریہ / سیاسی فنڈنگ کی شفافیت

سیاسی فنڈنگ کی شفافیت

ملک میں ان دنوں سیاسی فنڈنگ کے عمل کو شفاف بنانے کی بات ہو رہی ہے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ سیاسی فنڈنگ کو شفاف اور اسے غیرقانونی دولت سے پاک کرنے کیلئے انتخابی بانڈز بھی جاری کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی فنڈنگ کے عمل کو اور بھی شفاف بنانے کیلئے مختلف گوشوں سے پیش کی جانے والی تجاویز پر غور کرنے کیلئے تیار ہے ۔ سیاسی جماعتوں کا اب تک کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ انہیں انتہائی خطیر رقومات بطور عطیات وصول ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اس کا حساب و کتاب بھی کسی کو پیش کرنے کی پابند نہیں ہیں۔ ان جماعتوں کے جو اخراجات ہوتے ہیں اور جس حد تک بھی ان کا اندراج کیا جاتا ہے وہ بھی نقدی ہی میں ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں سیاسی فنڈنگ ہمیشہ سے غیر شفاف رہی ہے اور سیاسی جماعتیں بھلے ہی عوامی سطح پر ہر کام میںشفافیت کی دہائی دیتی رہی ہوں اور عوام کو کرپشن اور بدعنوانیوں کے خلاف سبق پڑھاتی نظر آتی ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ہی سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے اور عطیات شفاف نہیں ہوتے ۔ ان میں بھی بڑے پیمانے پر کالا دھن استعمال ہوتا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ سب سے زیادہ کالا دھن سیاسی جماعتوں ہی کے پاس ہوتا ہے اور اس کو ختم کرنے کیلئے آزادی کی سات دہائیوں بعد تک بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوسکی ہے ۔ ہندوستان میں سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کا جو معاملہ ہے وہ انتہائی غیرشفاف ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتیں اس سے مطمئن بھی ہیں اور انہیں اس عمل کو شفاف بنانے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے ۔ ملک کی سیاسی جماعتیں جو اخراجات کرتی ہیں وہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جن کے پاس فنڈنگ سے متعلق کوئی شفاف نظام موجود ہو ۔ جو عطیات ان جماعتوں کو ملتے ہیں وہ انتہائی بھاری ہوتے ہیں لیکن کسی کو بھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ عطیات آئے کہاں سے ہیں اور کس نے فراہم کئے ہیں۔ فنڈنگ کے ذرائع غیر معلنہ ہونے سے ہی بدعنوانیوںاور کرپشن کے شبہات کو تقویت ملتی ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہوگی جو خود ان اندیشوں کا شکار نہ ہو ۔
سیاسی فنڈنگ کے مسئلہ کو بدعنوانیوں سے پاک بنانے کی بظاہر ہر سیاسی جماعت وکالت کرتی ہے لیکن اس معاملہ میں سنجیدہ کوئی بھی نظر نہیں آتی ۔ گذشتہ انتخابات سے قبل جب ملک میں لوک پال بل کے مسئلہ پر احتجاج ہوا تو سبھی سیاسی جماعتوں نے عوام کے موڈ کو دیکھتے ہوئے کرپشن کو ختم کرنے میں اپنے اپنے رول کے تعلق سے بلند بانگ دعوے کئے تھے لیکن خود ان کے کام کاج میں موجود عدم شفافیت کو دور کرنے کے تعلق سے کسی نے بھی سنجیدگی سے کوئی کام نہیں کیا ہے ۔ صرف عام آدمی پارٹی نے اب تک تو مثال پیش کی ہے ۔ اس نے اسے ملنے والے عطیات کی تفصیل ‘ عطیہ دینے والوں کی تفصیلات اور عطیہ میں ملنے والی رقومات وغیرہ کو اپنی ویب سائیٹ پر پیش کردیا ہے ۔ حالانکہ اس پر بھی سوال اٹھائے گئے اور شبہات ظاہر کئے گئے ہیں لیکن کم از کم اس جماعت نے اس سلسلہ میں دوسری جماعتوں کیلئے ایک مثال ضرور قائم کی ہے ۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے پاس بھی فنڈنگ کا مسئلہ شفاف نہیں ہے حالانکہ وہ بھی کرپشن کے خلاف اور شفافیت کیلئے آگے آگے رہنے کا دعوی کرتی ہیں۔ ان جماعتوں میں تاہم ایک بات ضرور ہے کہ فنڈز کے معاملہ میں مرکوزیت پائی جاتی ہے اور ان میں پارٹی قائدین خود پارٹی سے تنخواہ یافتہ ہوتے ہیں۔ جہاں تک ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی کا سوال ہے ان میں فنڈنگ کے مسئلہ پر مکمل عدم شفافیت پائی جاتی ہے ۔ ان جماعتوں نے خود اپنے طور پر بھی اس عمل کو شفاف بنانے اور اس پر پائے جانے والے شبہات کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے ۔
گذشتہ انتخابات میں مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خود بی جے پی کو ملنے والے عطیات میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ کانگریس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بی جے پی نے کروڑ ہا روپئے کے عطیات حاصل کئے ہیں۔ کانگریس چونکہ ان دنوں انتخابی شکستوں سے دو چار ہے ایسے میں اسے ملنے والے عطیات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے ۔ تاہم ان دونوں جماعتوں کو ہی سب سے زیادہ عطیات موصول ہوئے ہیں۔ اب جبکہ وزیر فینانس ارون جیٹلی سیاسی فنڈنگ کے کام کو شفاف بنانے اور مختلف تجاویز کو قبول کرنے پر رضامندی کا اظہار کر رہے ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پہلے اپنی پارٹی میں اس سلسلہ میں مثال قائم کریں۔ ملک کے عوام کو پارٹی کو ملنے والے عطیات ‘ عطیہ دہندگان کی شناخت اور عطیات کی جملہ مالیت سے واقف کروایا جائے ۔ ان تفصیلات کو پارٹی ویب سائیٹ پر پیش کیا جائے ۔ اس کے بعد دوسروں کو تلقین کی جاسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT