Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / سیاسی قائدین مسلم ٹوپی پہنتے ہیں لیکن اس کا احترام نہیں کرتے: نجمہ ہبت اللہ

سیاسی قائدین مسلم ٹوپی پہنتے ہیں لیکن اس کا احترام نہیں کرتے: نجمہ ہبت اللہ

پٹنہ۔ 22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر برائے اقلیتی اُمور نجمہ ہبت اللہ نے آج کہا کہ ’’بیشتر سیاسی قائدین مسلم انداز کی ٹوپی تو پہنتے ہیں لیکن یہ صرف ’دکھاوا‘ ہوتا ہے، وہ ٹوپی کا احترام نہیں کرتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاست داں مسلمانوں سے دیانت دار نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف ٹوپیاں پہنی ہیں اور دکھاوا کررہے ہیں، لیکن ان ٹوپیوں کا

پٹنہ۔ 22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر برائے اقلیتی اُمور نجمہ ہبت اللہ نے آج کہا کہ ’’بیشتر سیاسی قائدین مسلم انداز کی ٹوپی تو پہنتے ہیں لیکن یہ صرف ’دکھاوا‘ ہوتا ہے، وہ ٹوپی کا احترام نہیں کرتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاست داں مسلمانوں سے دیانت دار نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف ٹوپیاں پہنی ہیں اور دکھاوا کررہے ہیں، لیکن ان ٹوپیوں کا احترام نہیں کرتے۔ ورنہ بہار کے مسلمان اتنے پسماندہ نہ ہوتے۔ وہ آر جے ڈی صدر لالو پرساد اور جے ڈی (یو) صدر نتیش کمار پر تنقید کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے مسلمانوں کو ٹوپیوں کی نہیں روزگار اور غذائی اجناس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کرنا ان کے ساتھ کھانا کھانا اور چائے پینا کافی نہیں ہے۔ سیاسی قائدین کو ان کاموں کے علاوہ اقلیتوں کو دیئے گئے اپنے تیقنات کی تکمیل بھی کرنی چاہئے۔ ستمبر 2011ء میں اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی نے مسلم انداز کی ٹوپی پہننے سے انکار کیا تھا جبکہ سدبھاؤنا بھوک ہڑتال کے دوران احمدآباد میں ایک مسلم عالم دین نے انہیں ٹوپی پہنانے کی کوشش کی تھی۔ ان کے حریف نتیش کمار جو اُس وقت چیف منسٹر بہار تھے، ملک پر حکومت کرنے کی بات کہہ رہے تھے۔ نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان، وزیراعظم مودی اور بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں، کیونکہ انہیں احساس ہوگیا ہے کہ ان کے جیسی ٹوپی پہننے والے سیاست داں انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔ انہوں نے عزیز پور دیہات میں فرقہ وارانہ فسادات کی بنیاد پر حکومت بہار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام کی جانوں کی حفاظت ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ریاستی حکومت اس میں ناکام رہی ہے۔ ہبت اللہ نے کہا کہ ہر ایک سے کہہ دینا چاہتی ہیں کہ مودی نے اپنے قول و فعل میں لوگوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتا۔انہوں نے کہا کہ مودی کو مسلمانوں کو غذا، لباس اور روزگار کے اعتبار سے مستحقہ مقام حاصل نہ ہونے پر تشویش ہے۔

ملک بھر میں اوقافی جائیدادوں کو رجسٹریشن کروانے کا منصوبہ۔ مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ کا انکشاف
پٹنہ۔/22جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر اقلیتی اُمور نجمہ ہپت اللہ نے آج کہا ہے کہ ملک بھر میں واقع مسلم سنی اور شیعہ وقف بورڈس کی جائیدادوں کا رجسٹریشن کرواتے ہوئے فروغ دیا جائے گا تاکہ ان جائیدادوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر صرف کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک گیر سطح پر 6لاکھ ایکڑ اوقافی اراضیات پائی جاتی ہیں اور سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق ان جائیدادوں کو ڈیولپ کیا جائے گا جس کے ذریعہ سالانہ 20تا25ہزار کروڑ کی آمدنی ہوگی اور یہ رقومات ملک بھر میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے خرچ کی جاسکتی ہیں اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب وقف بورڈس کی تشکیل جدید اوراوقافی جائیدادوں کا رجسٹریشن کروایا جائے اور وقف بورڈس کی سرگرمیوں میں شفافیت لانے کیلئے انہیں ’ آدھار ‘ نمبر سے مربوط کیا جائے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ بعض لوگوں کو یہ اقدامات پسند نہیں آئیں گے لیکن مسلمانوں کے حق میں کارآمد ثابت ہو گے۔ چونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس منصوبہ کو عملی شکل دینے کی ہدایت اور اختیار دیا ہے

جس کے بعد مرکزی وزارت اقلیتی بہبود نے ریاستوں کے وقف بورڈس کے ساتھ مشاورت اور مذاکرات شروع کردیئے ہیں اور پٹنہ میں آج یہ کام انجام دیا گیا۔ انہوں نے جہاں بی جے پی ہیڈکوارٹر پر ایک تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے ملک کی 6بڑی اقلیتوں مسلم، سکھ، عیسائی، بدھسٹ، جین اور پارسیوں کی فلاح بہبود کیلئے مرکز کی جانب سے شروع گئی اسکیمات پر روشنی ڈالی اور اقلیتوں بالخصوص بہار میں مسلمانوں کی پسماندہ حالت پر فکرو تردد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکالر شپس، لڑکیوں کی تعلیم، مختلف پیشوں میں مہارت کے فروغ کیلئے مرکز نے خاطر خواہ فنڈس فراہم کئے ہیں لیکن حکومت بہار اس فنڈ کے استعمال میں ناکام ہوگئی۔ محترمہ نجمہ ہپت اللہ نے بتایا کہ اقلیتوں کی فلاحی اسکیمات کیلئے منظورہ فنڈس میں سے 50فیصد بھی استعمال نہیں کیا گیا جبکہ دستیاب فنڈس اور مصارف میں زبردست تفاوت پایا گیا۔ انہوں نے یہ بتایا کہ فلاحی اسکیمات کیلئے مختص فنڈس اور اخراجات اور دیگر تفصیلات کو آن لائن کردیا گیا ہے تاکہ حقیقی صورتحال معلوم ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کا یہ نعرہ ہے کہ’’ سب کا ساتھ۔ سب کا وکاس (ترقی ) ‘‘۔

جس کو عملی شکل دیتے ہوئے مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے غریب اقلیتوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی کیلئے بیڑہ اٹھایا ہے۔انہوں نے بتایاکہ نریندر مودی اس بات پر غم و غصہ میں ہیں کہ آزادی کے 67سال بعد بھی مسلمان اپنے بنیادی حقوق غذا، کپڑے اور روزگار سے محروم ہیں اور ملک کی ترقیاتی سرگرمیوں میں اقلیتوں کو بھی شامل کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی یہ خواہش ہے کہ مسلمان ایک ہاتھ میں قرآن مجید اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر رکھیں۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ وہ ملک بھر میں دورہ کرتے ہوئے اقلیتوںکی فلاح و بہبود کیلئے مرکزی حکومت کی اسکیمات سے واقف کروا رہی ہیں اور ہماری تمام تر توجہ اقلیتی نوجوانوں کی تعلیم اور مہارتوں کے فروغ پر مرکوز ہے تاکہ مسلم نوجوان روزگار حاصل کرتے ہوئے خود کفیل بن جائیں۔ اگر ان کے ہاتھ میں قلم اور اسکیمات کو روبہ عمل لانے کی صلاحیت پیدا ہوجائے تو انہیں ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس موقع پر بی جے پی کے ریاستی صدر منگل پانڈے ، قومی صدر بی جے پی اقلیتی مورچہ عبدالرشید انصاری، رکن پارلیمنٹ راما دیوی، ایم ایل سی سنجے میوک موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT