Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / سیاسی قائدین نے جمہوریت کو اپنے خاندان تک محدود کردیا

سیاسی قائدین نے جمہوریت کو اپنے خاندان تک محدود کردیا

سیاسی جماعتیں اور سربراہان اصلی جمہوریت میں تبدیل ، غدر پر حملہ کی یاد میں جلسہ ، جناب ظہیرالدین علی خاں و دیگر کا خطاب

سیاسی جماعتیں اور سربراہان اصلی جمہوریت میں تبدیل ، غدر پر حملہ کی یاد میں جلسہ ، جناب ظہیرالدین علی خاں و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔6اپریل(سیاست نیوز) سیاسی قائدین نے جمہوریت کو اپنے خاندانوں تک محدو د کرکے رکھ دیا ہے باپ کے بعد بیٹا اور اسکے بعد پوترے کو رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ بنانا ہی سیاسی جماعتوں او ر اس کے سربراہان کے لئے اصلی جمہوریت بن کر رہ گئی ہے۔ ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی‘ مسلم فرنٹ کے زیر اہتمام انقلابی گلوکار غدر پر سترہ سال قبل ہوئے قاتلانہ حملے کی یاد میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خان ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ جے اے سی چیرمین پروفیسرکودنڈارام‘ نائب صدر واسٹیٹ کوارڈینٹر تلنگانہ پرجافرنٹ ایم ویدا کمار‘ صدر ٹی این جی اوز دیوی پرساد‘ صدر ٹی ایم اے سی وٹھل‘ پروفیسر گھنٹہ چکرا پانی‘ پروفیسر ہرا گوپال‘ پروفیسر انور خان‘ بلیا نائک‘ اندیسری‘ صدر ٹی یو ایف ویملا‘ ثناء اللہ خان کے علاوہ دیگر نے بھی اس جلسہ عام سے خطاب کیا۔ کنونیر فرنٹ سی ایل یادگیری نے جلسہ کی کاروائی چلائی۔ اپنی تقریر کے سلسلے کو جار ی رکھتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ تلنگانہ تحریک جو تلنگانہ حامی طلبہ کی قربانیوں کی مرہون منت ہے کا سہارا اپنے سر باندھتے ہوئے اپنے افراد خاندان کو اقتدار سے نوازنے کا کام کیا جارہا ہے جبکہ علیحدہ تلنگانہ جدوجہد میںاپنی قیمتی زندگیوں کی قربانی دینے والے نوجوانوں کا تعلق پسماندگی کاشکار ایس سی‘ ایس ٹی اور بی سی طبقات سے ہے اور تلنگانہ کی سیاسی جماعتیں ان معصوم بچوں کی قربانیوں کو فراموش کرتے ہوئے اپنے افراد خاندان کو اقتدار پر فائز کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ پچھلے 56سالوں سے ناانصافیوں کے شکار تلنگانہ کی عوام کے ساتھ مزید دھوکے بازی اور ناانصافی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ پسماندگی کاشکار تمام طبقات کا اتحاد ہی مجوزہ ریاست تلنگانہ میں مزید ناانصافیوں کو ختم کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے انقلابی گلوکار غدر کے ساتھ مل کر پسماندہ طبقات کے اتحاد کی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ سترہ سال قبل انقلابی گلوکار غدر پر جان لیوا حملہ سے ہوا تھا اور مجوزہ ریاست تلنگانہ میںبرسراقتدارآنے والی سیاسی جماعت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذکورہ حملے کی تحقیقات کرواتے ہوئے خاطیوں کو سزا دے۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انقلابی گلوکار غدر نے جمہوریت کے مفہوم کوہی بدل دینے کا سیاسی قائدین پر الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ایوانوں میںآبادی کے تناسب سے تمام طبقات کو نمائندگی نہیںدی جائے گی تب تک حق تلفی اور ناانصافیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے اپنے روایتی انداز میںاسمبلی اور پارلیمنٹ کی تعداد اور پسماندہ طبقات کے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہاکہ جن طبقات کی تعداد آبادی کے تناسب سے نہایت کم ہے وہ لوگ ایوان اسمبلی اور پارلیمنٹ میں زیادہ تعداد میں ہے جبکہ آبادی کے تناسب سے جن طبقات کی تعداد زیادہ ہے ان کی تعدادایوانوں میں صفر کے مترادف ہے ۔ تمام شعبوں میں آبادی کے تناسب سے پسماندہ طبقات کو مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بالخصوص ایوانوں میںپسماندہ طبقات کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی کی پسماندگی کاشکار طبقات کی حالت زار میںسدھار کے لئے موثر اقدام ہوگا۔ دیگر مقررین نے بھی اپنے خطاب میںانقلابی گلوکارغدر پر سترہ سال قبل ہوئے قاتلانہ حملے کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کو لازمی قراردیا تاکہ اصل خاطیو ںکو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے۔ اس موقع پر ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ کی جانب سے غدر کو تہنیت بھی پیش کی گئی اور فرنٹ کی جانب سے سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ حیات حسین حبیب‘ اسلم عبدالرحمن‘ وائی راملو‘ راجندر ریڈی‘ جہانگیر گوڑ‘ پجاری نرسنگ رائو کے علاوہ فرنٹ کے دیگر قائدین اور جلسہ میں مدعو مہمانِ خصوصی کی موجودگی میں انقلابی گلور غدر نے نئی زندگی ملنے کی خوشی میںبرتھ ڈے کیک کاٹا۔

TOPPOPULARRECENT