Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / سیاسی قائدین کی دختروں کا کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کیلئے قسمت آزمائی

سیاسی قائدین کی دختروں کا کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کیلئے قسمت آزمائی

سروے ستیہ نارائنا اور جی سائنا کی بیٹیوں پر سب کی نظریں ، انتخابی مہم میں شدت

سروے ستیہ نارائنا اور جی سائنا کی بیٹیوں پر سب کی نظریں ، انتخابی مہم میں شدت
حیدرآباد ۔ یکم ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : سکندرآباد کنٹونمنٹ بورڈ ( ایس سی بی ) انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سیاستدانوں کی بیٹیاں حصہ لینے کا مستحکم ارادہ کرلیا ہے ۔ اس بات کی اطلاع ہے کہ سینئیر کانگریس قائد سروے ستیہ نارائنا کی دختر ایس سہاسینی اور کنٹونمنٹ رکن اسمبلی جی سائنا کی دختر ایل نندیتا نے ایس سی بی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ سینئیر قائدین عام طور پر اس کو نظر انداز کردیا تھا تاہم اب سب کی نظریں یہیں مرکوز ہیں ۔ سہاسینی اور نندیتا نے مجوزہ انتخابات میں حصہ لینے کا اس وقت ارادہ کیا جب چند سینئیر قائدین نے اپنی لڑکیوں کو یہاں سے مقابلہ کے لیے میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے ۔ ایس سی بی میں تین وارڈس غیر محفوظ ہیں جب کہ 8 وارڈس خواتین کے لیے محفوظ ہیں جس کے باعث بورڈ کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے خاتون امیدواروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ۔ 114 امیدوار انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں ۔ جس میں سے 38 خاتون امیدوار ہیں ۔ سیاست داں یہاں کے محفوظ حلقوں پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ سیاست داں اپنی بیویوں کو سیاسی قسمت آزمانے کے لیے انتخابی میدان میں اتارتے ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر یہاں کے انتخابات میں بیویوں کی قسمت آزمانے کے بجائے اپنی دختروں کو مقابلہ کے لیے میدان میں اتارے ہیں ۔ یہاں کی ایک امیدوار اور مقامی سینئیر سیاستداں ایم گوپال کی دختر ایم رویتا جو کہ ایم بی اے گریجویٹ ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں کی طویل عرصہ سے زیر التواء مسائل کو حل کرنے سے دلچسپی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چونکہ تعلیم یافتہ ہیں ہر ایک مسئلہ کو اچھی طرح سے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اس لحاظ سے وہ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام خواتین کی عمریں 20 سال کے اندر ہیں تاہم تمام تعلیم یافتہ ہیں ۔ یہ خواتین یہاں کے مجوزہ انتخابات کے لیے مہم چلانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے پر سبقت لے جارہے ہیں اور مقامی عوام کے دل جیتنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ دوران مہم مسائل سے نہ صرف واقف ہورہے ہیں بلکہ انتخاب کی صورت میں ان کی شکایتوں کا ازالہ اور دیرینہ مسائل کی یکسوئی کا تیقن دے رہے ہیں ۔ کنٹونمنٹ کے وارڈ نمبر 4 سے ڈی دیویندر سینئیر کانگریس لیڈر کی بیٹی ڈی امبیکا مقابلہ کررہی ہے ۔ لیکن عوام کی نظریں ایل نندیتا اور سہاسینی پر مرکوز ہیں کیوں کہ ان کے انتخاب پر بورڈ کے نائب صدر کی حیثیت سے انتخاب اور ان کے مسائل کو حل کرنے سے متعلق ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے عوام کو تیقنات دے رہے ہیں تاہم کانگریس اور تلگو دیشم کے درمیان سخت مقابلہ آرائی نظر آرہی ہے کیوں کہ اپنے اپنے والدین کی سیاسی ساکھ اور ان کی دیرینہ خدمات کی لاج رکھنے کے لیے ان کے انتخاب سے متعلق سخت آزمائش ثابت ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT