Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / سیاسی قائدین کی مداخلت پر کلکٹرس کے تبادلے

سیاسی قائدین کی مداخلت پر کلکٹرس کے تبادلے

مقامی ارکان اسمبلی سے عدم تعاون پر دیوا پرساد ، پریتی مینا ، وکاٹی ارونا، دیویا، پرشانت جیون پاٹل اور مرلی کو چیلنج کے طور پر اندرون ایک ہفتہ تبادلے
حیدرآباد ۔ 4 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے اہم آئی اے ایس افسران کو ایسے مقامات پر تقرر کیا تھا جہاں کی عوام تعلیم ، روزگار اور صحت جیسے اہم مسائل سے دوچار تھے ۔ نئے اضلاع کی تشکیل کے بعد جئے شنکر کلکٹر کی حیثیت سے مرلی کرشنا نے جائزہ حاصل کیا تھا ۔ جو 8 ماہ کے عرصے میں عوام سے قریب ہوچکے تھے اور روزانہ سیکل پر سوار ہو کر عوام کے مسائل سے واقفیت حاصل کرتے تھے ۔ اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے ذرائع بناکر انہیں ملازمت حصول میں تعاون کررہے تھے ، غریب و پسماندہ لڑکیوں کے لیے کلیان لکشمی اسکیم کے ذریعہ شادی بیاہ کے موقعے پر کافی امداد حاصل کروائی ، کلکٹر مرلی نے اپنی اہلیہ کی زچگی ایک سرکاری دواخانے میں کروا کر مثال پیش کرتے ہوئے مقامی لوگوں میں یہ پیغام دیا کہ ایک کلکٹر کے عہدے پر ہونے کے باوجود ایک سرکاری دواخانے سے علاج کے لیے رجوع ہوا اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ سرکاری دواخانے اور سرکاری اسکیمات سے استفادہ کریں گے ۔ کلکٹر مرلی عوام کے درمیان اچھے تعلقات پیدا کرتے ہوئے انہیں فلاحی اور بھلائی کی جانب راغب کروا رہے تھے لیکن اچانک مقامی سیاسی قائدین بالخصوص تلنگانہ اسمبلی اسپیکر مدھوسدن چاری کے درمیان کلکٹر کی لفظی جھڑپ کا واقعہ پیش آیا۔ اس دوران مدھوسدن نے اس بات کا چیلنج کیا کہ وہ کلکٹر کو اندرون ایک ہفتہ یہاں سے کہیں دور نامعلوم مقام تبادلہ کروا دیں گے اور ہوا بھی وہی جو مدھوسدن چاری چاہ رہے تھے ۔ مزید ایک کلکٹر دیوا پرساد جنگاؤں اور رکن اسمبلی متی ریڈی کے درمیان ایک ایسا تنازعہ منظر عام پر آیا جس میں کلکٹر نے مقامی رکن اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کروایا جس پر برہم ہو کر رکن اسمبلی نے کلکٹر کا تبادلہ کروا ڈالا ۔ وقار آباد کلکٹر دیویا کو ریاستی وزیر مہیندر ریڈی نے چیلنج کے طور پر تبادلہ کروا ڈالا ۔ محبوب آباد رکن اسمبلی شنکر نائک اور مقامی کلکٹر پریتی مینا کے درمیان کچھ ماہ قبل نازیبا برتاؤ کا واقعہ پیش آیا ۔ جس میں پولیس کیس درج کیا گیا اور مقامی رکن اسمبلی کے خلاف کیس درج کرنے کے باوجود بھی کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ پریتا مینا کو یہاں سے تبادلہ کردیا گیا ۔ ایسے ہی ورنگل رولر کلکٹر پرشانت جیون پاٹل اور سیول سپلائی چیرمین پی سدرشن ریڈی کے بیچ کافی ٹکراؤ دیکھنے میں آئی ۔ کلکٹر کے عدم تعاون پر پرشانت جیون کو سزا کے طور پر تبادلہ کردیا گیا ۔ ان افسران کا قصور صرف اتنا ہی ہے کہ یہ عوام کے درمیان رہتے ہوئے ان کے مسائل کو راست سنتے ہوئے ان کے حل کے لیے اقدامات اٹھا رہے تھے اور بغیر کسی سیاسی دباؤ کے خدمات انجام دیتے ہوئے حکومت کے فلاحی اسکیمات کی عمل آوری کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہے تھے لیکن انہیں اس کے انعام کے بجائے سزاء دیتے ہوئے انہیں غیر متعلقہ شعبہ جات میں تبادلہ کردیا گیا ۔ حکومت کے اس اقدام سے عوام میں کافی ناراضگی دیکھی جارہی ہے اور لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت آخر غیر ذمہ دار سیاسی قائدین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے دیانت دار افسران کے خلاف کیوں ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT