Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سیاسی قائدین کے تیور میں جھکاؤ ، طرز گفتگو تبدیل

سیاسی قائدین کے تیور میں جھکاؤ ، طرز گفتگو تبدیل

: مجوزہ بلدیہ انتخابات کا بھوت :

حلیف و حریف کا خیال آگیا ، انتخابی موضوعات کا انتخاب اور حکمت عملی
حیدرآباد ۔ 4 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : دونوں شہروں میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے مجوزہ انتخابات کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے تیاریاں شروع ہوچکی ہیں اور طرز گفتگو میں بھی تبدیلی دیکھی جانے لگی ہے ۔ سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کو نشانہ تو بناتی ہی ہیں لیکن جب انتخابات قریب آنے لگتے ہیں تو اس میں شدت بھی پیدا ہوجاتی ہے اور سیاسی قائدین ایسی صورت میں اپنے حلیف و حریف کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے بیان جاری کرنے لگتے ہیں ۔ یہی کچھ صورتحال حیدرآباد میں دیکھی جانے لگی ہے ۔ جی ایچ ایم سی انتخابات میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی ، کانگریس ، بھارتیہ جنتا پارٹی ، تلگو دیشم ، مجلس ، لوک ستہ ، مجلس بچاؤ تحریک کے علاوہ بعض دیگر جماعتیں بالخصوص عام آدمی پارٹی اور بائیں بازو جماعتیں بھی اپنی قسمت آزمانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ کانگریس کی جانب سے ٹی آر ایس کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر ، چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو نشانہ بناتے ہوئے شہری امور کے علاوہ 12 فیصد تحفظات پر سوال کرنے لگے ہیں ۔ اسی طرح تلگودیشم پارٹی صدر جی ایچ ایم سی مسٹر ماگنٹی گوپی ناتھ رکن اسمبلی ، اسمبلی حلقہ واری اساس پر اجلاس منعقد کرتے ہوئے کیڈر کو مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور وہ بھی ٹی آر ایس کو نشانہ بنا رہے ہیں اور حکومت کی ناکامیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ تلگو دیشم کا مقابلہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی سے رہے گا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ، ٹی آر ایس کو بعض امور پر تنقید کا نشانہ بنارہی ہے لیکن کھل کر شدید مخالفت سے گریز کیا جارہا ہے ۔ شائد اس لیے کہ دوستی کی صورت میں شرمندگی نہ ہو ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے تنہا مقابلہ کی بات کھل کر نہیں کی جارہی لیکن تلگو دیشم و بی جے پی دونوں ہی تنہا مقابلہ پر غور کررہے ہیں ۔ لوک ستہ بھی ٹی آر ایس کو حزب مخالف تصور کررہی ہے اور بائیں بازو جماعتیں بھی برسر اقتدار جماعت کو نشانہ بنانے لگی ہیں ۔ صدر مجلس اسد الدین اویسی نے بابری مسجد کی شہادت کی 23 ویں برسی کے سلسلہ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دینے کی اپیل کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ حکومت کے حلیف ہیں اور جی ایچ ایم سی انتخابات کے دوران کانگریس اور بی جے پی کی شکست کو یقینی بنانا ان کا مقصد ہے ۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران یہ بھی ادعا کیا کہ گذشتہ بلدیہ میں کانگریس کے مئیر کی دو سالہ میعاد کے دوران کوئی ترقیاتی کام انجام نہیں دئیے گئے جب کہ مجلس کے 3 سال کے دوران ترقیاتی کام انجام دئیے گئے ہیں ۔ گذشتہ بلدیہ کے دوران کانگریس کی حمایت سے مجلس کے مئیر نے 3 سال مکمل کئے تھے ۔ مجلس بچاؤ تحریک کی جانب سے مجلس کو اپنا روایتی حریف تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن اس مرتبہ ایسا لگ رہا ہے کہ بلدی انتخابات کے دوران تحریک کے قائدین آلیر میں ہوئے 5 مسلم نوجوانوں کے انکاونٹر اور مجلس کی جانب سے مہاراشٹرا اور بہار انتخابات میں حصہ لینے کے عمل کو موضوع بحث بنائے گی ۔ لوک ستہ اور عام آدمی پارٹی کی جانب سے حکومت کو حریف اور مخالف شفاف حکمرانی قرار دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیئے جانے کا امکان ہے ۔ اس صورتحال میں عوام کو یہ اندازہ کرنا دشوار نہیں ہوگا کہ کونسی سیاسی جماعت کس جماعت کی راست یا بالواسطہ مدد کرے گی اور کس جماعت کی کامیابی کے شہر پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT