Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / سیاسی مستقبل کے تعلق سے ایم نرسمہلو کا غیر یقینی موقف

سیاسی مستقبل کے تعلق سے ایم نرسمہلو کا غیر یقینی موقف

آئندہ دنوں میں ورکرس اور بااعتماد رفقا سے تبادلہ خیال کرنے کا امکان
حیدرآباد۔ 10 جون (سیاست نیوز) تلگو دیشم سے خارج سینئر لیڈر ایم نرسمہلو جنہوں نے مسلسل دو تین یوم تک صدر تلگو دیشم چندرا بابو نائیڈو پر تنقید کی اور پھر خاموشی اختیار کرلی تھی، اب ان کی خاموشی سے صورتحال غیرواضح ہے۔ تاہم نرسمہلو ٹی آر ایس میں شامل ہونے یا آزادانہ موقف رکھتے ہوئے چندرا بابو پر تنقید کا نشانہ بنانے حکمت عملی مرتب کرنے پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں۔ نرسمہلو کے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی اطلاع ہیں۔ نرسمہلو واقعی ٹی آر ایس میں شامل ہونگے تو وہ چندرا بابو کے خلاف اپنی مہم نہیں چلاسکیں گے۔ اسی دوران نرسمہلو کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ آزادانہ موقف رکھتے ہوئے چندرا بابو کے خلاف مہم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ابھی تک انہوں نے قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اسی دوران ایم نرسمہلو نے سیاسی مستقبل کے متعلق لائحہ عمل کو قطعیت دینے 13 جون کو ضلع یادادری کے حلقہ اسمبلی آلیر میں حامیوں اور ورکروں کے ساتھ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں کیڈر سے تجاویز حاصل کرکے 15 یا 16 جون کو قریبی رفقاکے ساتھ مشاورتی اجلاس طلب کرنے کا امکان ہے۔ ان دو اجلاسوں کے بعد نرسمہلو سیاسی مستقبل سے متعلق فیصلہ کا اعلان کرنے کی توقع ہے۔ اگر ٹی آر ایس میں شامل ہوئے تو کوئی عہدہ دیا جائے گا یا نہیں اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جائے گا یا نہیںاس کا بھی وہ جائزہ لے رہے ہیں، بہرصورت نرسمہلو کے سیاسی مستقبل کے متعلق آئندہ ہفتہ 10 دن میں کوئی واضح شکل سامنے آجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT