Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / سیاسی مفادات کے لئے بی جے پی اور ہندوتوا طاقتیں سرگرم

سیاسی مفادات کے لئے بی جے پی اور ہندوتوا طاقتیں سرگرم

ساکشی مہاراج کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ: رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین

ساکشی مہاراج کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ: رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین
حیدرآباد /16 ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کی جانب سے دینی مدارس کو دہشت گردی کے مراکز قرار دینے کی سخت مذمت کی۔ انھوں کہا کہ مرکز میں نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت تشکیل پانے کے بعد ہندوتوا طاقتوں کے ناپاک عزائم میں اضافہ ہوا ہے اور ایک منظم سازش کے تحت سارے ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ چنانچہ ممبئی میں آئی ٹی پروفیشنل مسلم نوجوان پر حملہ کیا گیا، کرناٹک میں مساجد کی اذان پر اعتراض کیا گیا، کبھی کشمیر کا مسئلہ اٹھایا گیا تو کبھی یکساں سیول کوڈ کو چھیڑا گیا۔ اسی طرح بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری مرلیدھر راؤ نے ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کا اعلان کیا اور آر ایس ایس سربراہ نے سارے مسلمانوں کو ہندو قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اب ’’لوجہاد‘‘ کا تنازعہ پیدا کیا جا رہا ہے اور ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں حصہ نہ لینے والی بی جے پی کو مسلمانوں اور دینی مدارس کے خلاف کچھ کہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے، کیونکہ جنگ آزادی میں دینی مدارس کے علماء اور مسلمانوں نے دیگر ابنائے وطن کے ساتھ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے اور آج بھی ملک سے وفاداری نبھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کے لئے بی جے پی اور ہندوتوا طاقتیں ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، تاہم وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور نہ ہی کانگریس پارٹی انھیں کامیاب ہونے دے گی۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ساکشی مہاراج کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرائے۔

TOPPOPULARRECENT