Tuesday , January 16 2018
Home / دنیا / سیاہ فام نوجوان کو ہلاک کرنے والے سفید فام افسرکیخلاف کوئی مقدمہ نہیں

سیاہ فام نوجوان کو ہلاک کرنے والے سفید فام افسرکیخلاف کوئی مقدمہ نہیں

واشنگٹن۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک اور سفید فام پولیس آفیسر جس نے مارچ میں ایک غیرمسلح سیاہ فام نوجوان کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا اور جس کی وجہ سے پورے امریکہ میں زبردست احتجاج منظم کیا گیا تھا، اس پولیس آفیسر پر فوجداری کا کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا گیا ہے۔ 19 سالہ ٹونی رابنسن جونیر کو سفید فام پولیس آفیسر میٹ کیتی نے 6 مارچ کو ونک

واشنگٹن۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک اور سفید فام پولیس آفیسر جس نے مارچ میں ایک غیرمسلح سیاہ فام نوجوان کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا اور جس کی وجہ سے پورے امریکہ میں زبردست احتجاج منظم کیا گیا تھا، اس پولیس آفیسر پر فوجداری کا کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا گیا ہے۔ 19 سالہ ٹونی رابنسن جونیر کو سفید فام پولیس آفیسر میٹ کیتی نے 6 مارچ کو ونکانسن کے میڈیسن نامی مقام پر گولی مارکر ہلاک کردیا تھا جس کے بعد وہاں احتجاج کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ایسے کم و بیش 14 واقعات رونما ہوچکے ہیں جہاں سفید فام پولیس آفیسر نے کسی سیاہ فارم کو گولی مارکر ہلاک کیا ہو۔ بالٹی مور میں ایسے واقعات ہوچکے ہیں جس کے بعد گزشتہ ماہ یہاں بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کئے گئے تھے۔ دوسری طرف ڈین کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی اسمعیل روزین نے

سیاہ فام نوجوان کی موت پر افسوس کا اظہار ضرور کیا لیکن یہ بھی کہا کہ پولیس نے جو بھی کام کیا ہے، وہ قانون کے دائرے رہ کر ہی کیا ہے لہٰذا فائرنگ کرنے والے پولیس آفیسر کے ساتھ کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی اور اس فیصلہ کا ونکاسن پروفیشنل پولیس اسوسی ایشن نے بھی خیرمقدم کیا ہے تاہم مقتول سیاہ فام نوجوان کے رشتہ داروں نے اس فیصلہ پر اظہار تاسف کیا ہے جہاں نوجوان کی دادی شیرون الووین نے کہا کہ اسے انصاف نہیں بلکہ سیاست کہتے ہیں۔ رابنسن کی والدہ اینڈریا اروین نے کہا کہ اب ہم محکمہ پولیس کے خلاف سیول مقدمہ دائر کریں گے لہذا اس کے لئے شکاگو کی ایک قانونی فرم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو اس معاملے کی دوبارہ تحقیقات کرے گی جس میں مقتول کی نعش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جانا بھی شامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT