Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / سیدنا امام جعفر صادقؓ ،اقوال وارشادات

سیدنا امام جعفر صادقؓ ،اقوال وارشادات

مولانا حافظ محمدمجیب خان نقشبندی

٭  جو شخص اپنے عیب کے وقت حیاء نہ کرے بڑھا پے کے وقت بُرائیوں سے باز نہ آئے اور بن دیکھے اکیلے میں اللہ سے نہ ڈرے تو اُس شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
اصل حیاء وشرم یہ ہے کہ آدمی گناہ اور عیب دارکاموں کے وقت حیاء کرے اور کم از کم بڑھاپے میں تو جرم اور گناہ سے باز آجائے اسی طرح بِن دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اُسکو خیر وبھلائی نصیب ہوتی ہے ۔
٭  آپ نے  اپنے صاحبزادے حضرت امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت فرمائی : اے میرے پیارے بیٹے :ا گر تم کسی سے ملنا چاہتے ہو تو اچھوں سے ملو ‘بروں سے مت ملو کیونکہ بُرے ایسی چٹان کے مانند ہیں جس سے پانی نہیں نکلتا اور ایسے درخت کی طرح ہیں جس کے پتّے ہرے نہیں ہوتے   اور ایسی زمین کی طرح ہیں جس سے گھاس نہیں نکلتی‘ حضرت علی رضا     رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے والد حضرت موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وصال تک اس نصیحت کو نہیں چھوڑے۔
٭  توبہ کے بغیر ‘ عبادت فضول ہے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کو عبادت سے پہلے رکھا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے :اَلتَّائِبُوْنَ الْعَابِدُونَ تو بہ کرنے والوں اور عبادت کرنے والوں کو (خوش خبری ہے)واضح ہوکہ اس آیت مبارکہ میں عبادت کرنے والو ں کا ذکر بعد میں آیا ہے اور توبہ کرنے والوں کا ذکر پہلے آیا ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ توبہ کے ذریعہ بندہ پاکیزہ ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد عبادت کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو پھر عبادت کا نوراُس پاکیزہ بندے کے قلب وبدن پر چڑھ جاتا ہے اسی لیئے فرمایا گیا کہ توبہ پہلے ہے ‘عبادت بعد میں ہے۔
٭  ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیاکہ صبر کرنے والا درویش بہتر ہے یا شکر گذار دولتمند بہتر ہے آپ نے فرمایا صبر کرنے والا درویش شکر گزار دولتمند سے بہتر ہے کیونکہ اس کا دل خدا کیساتھ ہوتا ہے جب کہ شکر گزار دولتمند کا دل اور اُس کاخیال اپنی دولت کیساتھ ہوتا ہے اس لیئے صابر فقیر کا درجہ بلند ہے ۔

TOPPOPULARRECENT