Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / سیدنا علی ؓ بن ابی طالب خلیفہ چہارم اور سرچشمہ فیضان ولایت

سیدنا علی ؓ بن ابی طالب خلیفہ چہارم اور سرچشمہ فیضان ولایت

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اورپروفیسرسید محمدحسیب الدین حمیدی کے لکچرس
حیدرآباد ۔17؍اپریل( پریس نوٹ)  حضرت علی کرم اللہ وجہٗ علم و حکمت کے بحربے کنار، فصاحت و بلاغت میں یکتاے روزگار تھے حضرت علی المرتضیٰؓ کے خطبات علم و حکمت، تدبر و دانائی، زبان و بیان، روانی و سلاست ،جامعیت اور تاثیر ہر لحاظ سے شاہکار ہوا کرتے تھے اس عہد میں لکھنے کا بہت کم رواج تھا اس کے باوجود حضرت علی ؓ  کو تحریر میں کمال حاصل تھا۔شجاعت و بہادری کا کوئی تذکرہ ہو حضرت علی ؓ کے نام مبارک کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ آپ نے تبوک کے سوا تمام غزوات مقدسہ میں اپنی بے پناہ قوت ، دلاوری، جراء ت و حوصلہ مندی، مہارت حرب کا سکہ بٹھا دیا اور اپنی سیف کے جوہر دکھاے۔ باب علم، شیر خدا حضرت علی  ؓ حضور رحمتہ للعلمین ؐ کے چہیتے اور ابن عم،خلیفہ چہارم اور خلفاے ثلاثہ کے رفیق، مشیر و معاون، فاتح خیبر، قاضی یمن اور سلاسل طریقت کے امام اور سر چشمہ فیضان ہیں۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ’1195‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے علی الترتیب پہلے سیشن میں احوال انبیاء علیھم السلام کے تحت حضرت ذوالکفل علیہ السلام کے مقدس حالات اوردوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے ضمن میں امیرالمومنین حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ ا کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا۔بعد ازاں انھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حیات مبارکہ کے مختلف نورانی پہلو پیش کرتے ہوے کہا کہ حضرت علی کی نسبی شرافت مسلمہ ہے وہ رسول اللہ ؐ کے چچا سردار ابو طالب کے فرزند جلیل اور سردار مکہ مکرمہ حضرت عبدالمطلب کے پوتے تھے اور بچپن میں حضور اکرم ؐ نے کفالت فرمائی ساری زندگی رسول اللہؐ کی خدمت اقدس میں گزارنے کا شرف پایا رسول اللہ ؐ  کی چھوٹی صاحبزادی شہزادی کونین سیدۃ النساء عالمین خاتون جنت حضرت بی بی سیدہ فاطمہ ؓ  زہرا سے تزوج آپ کے کلاہ افتخار کا امتیازی طرہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بعثت شریف سے تقریباً دس سال قبل13؍ ماہ رجب المرجب کو حضرت علی ؓ کی ولادت با سعادت ہوئی ۔ کم عمری میں سعادت ایمان سے ممتاز ہوے اور پھر نصرت دین کے لئے وقف ہو گئے۔ شب ہجرت بستر رسول ؐ پر استراحت کا شرف پایا۔ بعدازاں خود بھی ہجرت کی۔نگران اجلاس ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوے کہا کہ حضرت علیؓ شیر خدا نے غزوئہ بدر میں شجاعت و بسالت کے پرچم لہراے ، احد میں ثابت قدم صحابہ میں نمایاں رہے ، جملہ غزوات میں سواے تبوک کے حضرت علیؓ کی دلیری اور بہادری کے ڈنکے بجتے رہے۔ اپنے پیش رو خلفاء کے مشیر خاص تھے۔ حضرت امیر المومنین عثمان غنی  ؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ کے دست مبارک پر مسلمانوں نے بیعت کی اور بحیثیت امیر المومنین آپ نے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے ذریعہ ملت اسلامیہ کی مخلصانہ خدمت کے تسلسل کو باقی رکھا اور ماہ رمضان المبارک 40 ھ میں شہادت کا جام نوش فرمایا۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے کہا کہ اطاعت الٰہی، اتباع رسالتؐ، تقویٰ و پرہیزگاری، عبادت و ریاضت، صبرآزما مجاہدات، تزکیہ نفس، عزم، استقلال، اخلاص فکر و عمل اور علوم و فنون مختلفہ میں حضرت علی ؓ بے نظیر تھے اور آپ کی عبقری شخصیت گزشتہ چودہ صدیوں سے ارباب فکر و نظر کی توجہات کا مرکزہے مسلمانوں کے ہر طبقہ میں حضرت علی ؓ کی مقبولیت، اہمیت اور محبوبیت ایک واقعہ ہے۔ حضور اکرم ؐ نے حضرت علی المرتضیٰ ؓسے فرمایا کہ تم مجھ سے اس درجہ میں ہو جو ہارونؑ کو موسیٰ  ؑسے تھابجز اس کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں خاتم النبیین ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رسالت و نبوت کے سلسلہ کو ختم فرما دیا ہے اب میرے بعد قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آے گا ۔

TOPPOPULARRECENT