Friday , September 21 2018
Home / Mera Column / سید عبدالقدوس

سید عبدالقدوس

میرا کالم مجتبیٰ حسین
کہتے ہیں کہ حیدرآباد دن بہ دن بڑا شہر بنتا جارہا ہے لیکن میرے لئے تو یہ دن بہ دن چھوٹا ہوتا جارہا ہے۔ چنانچہ آج صبح جب حمایت اللہ نے حیدرآباد سے فون پر اطلاع دی کہ یار طرحدار مونس و غمخوار عبدالقدوس ایڈوکیٹ اس دنیا سے گزر گئے تو میرے حق میں حیدرآباد اچانک کچھ اور بھی چھوٹا ہوگیا۔ وہ گنے چنے احباب جن کی وجہ سے میں حیدرآباد جانے کا جواز ڈھونڈا کرتا تھا ، ان میں عبدالقدوس بھی تھے ۔ عمر میں وہ مجھ سے بہت چھوٹے تھے بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ یہ ان کے نہیں مجھ جیسوں کے مرنے کے دن تھے ۔ چودہ پندرہ برسوں کا فرق تو ہوگا ہی ۔
پچھلے سال حیدرآباد میں میرا ایک چھوٹا سا آپریشن ہونے والا تھا ۔ آپریشن سے دو دن پہلے کچھ احباب نے عزیز آرٹسٹ کے گھر پر ملنے کا پروگرام بنایا ۔ قدوس میاں کو بھی آنا تھا مگر وہ اچانک کسی ایسی مصروفیت میں الجھ گئے کہ نہ آسکے ۔ دوسرے دن اپنے نہ آنے کی معذرت کرنے آئے تو میں نے یوں ہی سنجیدگی اور خفگی کی اداکاری کرتے ہوئے کہا ’’قدوس میاں ! کل تمہارے نہ آنے کا شخصی طور پر مجھے بے حد افسوس ہے ۔ کئی احباب نے کہا کہ تم اب بدل گئے ہو بلکہ ایک دوست نے تو یہاں تک کہا کہ اگر خدانخواستہ پرسوں آپریشن کے دوران تمہیں کچھ ہوگیا تو قدوس تمہارے جنازے میں بھی نہیں آئیں گے‘‘۔
غصہ سے بولے ’’یہ کس نے کہا ؟ مجھے اس کا نام تو بتایئے ‘‘ میں نے کہا ’’نام جان کر کیا کروگے ۔ میں خود بھی یہی بات محسوس کرنے لگا ہوں۔ کل میرا آپریشن ہونے والا ہے۔ اگر خدانخواستہ مجھے کچھ ہوگیا تو کیا عجب کہ تم میرے جنازے میں بھی نہ آؤ‘‘۔ بولے ’’آپ کیسی باتیں کرتے ہیں ۔ یہ آپ نے سوچا ہی کیسے ؟‘‘ میں نے بعد میں اسی ڈھنگ سے کچھ دیر تک اپنی اداکاری اور بحث جاری رکھی ۔ پھر تان اس سوال پر توڑی ’’سچ سچ بتاؤ۔ اگر کل مجھے کچھ ہوگیا تو تم میرے جنازے میں آؤ گے یا نہیں ؟ مجھے ہاں یا نا میں تمہارا دو ٹوک جواب چاہئے ‘‘۔ قدوس نے ہڑ بڑا کر بے دھیانی سے کہہ دیا ۔ ’’کیسے نہیں آؤں گا۔ ضرور آؤں گا‘‘۔ میں نے کہا ’’تو پھر ایک اسٹامپ پیپر پر یہی بات لکھ دو تاکہ سندر ہے اور وقتِ ضرورت کام آوے‘‘۔ جب قدوس کو اچانک احساس ہوا کہ میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ ان سے مذاق کر رہا ہوں تو زوردار قہقہہ لگا کر بولے ’’آپ نہایت خطرناک آدمی ہیں۔ موت کے ساتھ مذاق کرنے سے بھی نہیں چوکتے‘‘۔
میںنے کہا ’’قدوس میاں ! جب زندگی بے توقیر اور بے معنی ہوجاتی ہے اور آدمی زندگی کے ساتھ کچھ کر نے کے قابل نہیں رہ جاتا تو وہ بسا اوقات اپنی موت کے ساتھ ہی مذاق کرنے لگ جاتا ہے ۔ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جن میں زندگی کے مقابلہ میں موت زیادہ مونس و ہمدرد نظر آنے لگتی ہے‘‘۔ یہ سن کر قدوس  بہت دیر تک ہنستے رہے ۔ آج جب قدوس کے گزر جانے کی اطلاع آئی تو احساس ہوا کہ اگر میں نے مذاق مذاق میں ان سے اسٹامپ پیپر پر یہ بات لکھوا  بھی لی ہوتی تو اس کا کیا فائدہ تھا۔ کسی کا کچھ پتہ نہیں کہ کون کسے چھوڑ کر چلا جائے۔
میں قدوس کو اس وقت سے جانتا تھا جب وہ کالج میں پڑھتے تھے اور اردو کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے ۔ میں نے خود ساختہ (Self Made) انسان بہت کم دیکھے ہیں۔ قدوس صد فیصد خود ساختہ انسان تھے ۔ نہایت نامساعد حالات میں انہوں نے تعلیم حاصل کی تھی ۔ اکثر لوگ کامیاب زندگی کے راستہ پر گامزن ہونے کے بعد کبھی پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھتے مگر قدوس بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ لیا کرتے تھے ۔ یہی ان کی خوبی تھی۔ پرانے دوستوں ، پرانے رشتوں ، پرانے جذبوں کا پاس و لحاظ رکھنے والے ، پرانی صعوبتوں اور مشکلات کو ہر دم یاد رکھنے والے قدوس ایک کامیاب وکیل تو تھے ہی لیکن اردو زبان و ادب سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے ۔ ادبی محفلوں میں پابندی سے شرکت کر  نے کے علاوہ اردو زبان کے فروغ کیلئے چلائی جانے والی تحریکوں میں سرگرم حصہ لیا کرتے تھے ۔ حیدرآباد کے سارے ادیبوں ، فنکاروں اور شاعروں سے ان کی دوستی تھی اور وہ سب کے محبوب تھے ۔ قدوس باضابطہ ادیب تو نہیں تھے البتہ کبھی کبھار سماجی ، سیاسی اور قانونی موضوعات پر مضامین بھی لکھ لیا کرتے تھے ۔ ان کی کامیاب وکالت نے ان کے اندر بیٹھے ہوئے ادیب کو پنپنے کا موقع نہ دیا ۔ وہ بے حد رواں دواں ، مدلّل اور خوبصورت زبان لکھتے تھے ۔ پانچ چھ برس پہلے قدوس کا مجھے ایک طویل خط ملا تھا حالانکہ خط وہ کم لکھتے تھے اور ز یادہ تر فون پر بات کرلیتے تھے ۔ پتہ نہیں وہ کونسا لمحہ تھا جس میں قدوس نے میرے نام یہ طویل خط لکھا تھا ۔ بے حد دلنشین ، اثر آفرین ، شگفتہ اور ساتھ ہی گمبھیر بھی ۔ میں نے اس کا جواب تو نہ دیا البتہ دو چار دن بعد میرا حیدرآباد جانا ہوا تو قدوس نے مجھ سے اس خط کے بارے میں پوچھا ۔ میں نے کہا ’’قدوس !  بے حد پیارا اور دل میں اُتر جانے والا خط تھا ۔ تم توجانتے ہو کہ میں اقبال متین کے اسلوب کا شروع ہی سے قائل اور گرویدہ ہوں‘‘۔ حیرت سے بولے ۔ ’’یہ کیا بات ہوئی۔ میں اپنے خط کی بات کر رہا ہوں اور آپ اقبال متین کے اسلوب کی تعریف کر رہے ہیں‘‘۔ میں نے کہا ’’سچ بتاؤ ۔ کیا یہ خط تم نے اقبال متین سے نہیں لکھوایا تھا ۔ خط کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ اقبال متین کا لکھا ہوا ہے‘‘۔
بولے ’’خدانخواستہ میں کیوں اقبال متین سے خط لکھوانے چلا ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں اردو نہیں لکھ سکتا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں بھی اقبال متین کا مدّاح ہوں ۔ ہوسکتا ہے    میرے خط میں ان کے خیالات میرے خیالات سے ٹکرا گئے ہوں‘‘۔ میں نے کہا ’’دو بڑے لوگوں کے خیالات ہی تو آپس میں ٹکراتے ہیں۔ کبھی تم نے سنا ہے کہ کسی ہوائی جہاز کی ٹکر آٹو رکشا سے ہوئی ہے ‘‘۔
زوردار قہقہہ لگا کر بولے ’’آپ سے یہی مشکل ہے کہ سنجیدگی اور بردباری کو کبھی اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتے ۔ میں نے اتنی محبت سے آپ کو خط لکھا اور آپ اسے بھی مذاق میں ٹالے جارہے ہیں‘‘۔
قدوس بے حد ذہین آدمی تھے ۔ ذہین تو اور بھی بہت سے لوگ ہوتے ہیں لیکن ان میں عام سوجھ بوجھ کا فقدان ہوتا ہے ۔ قدوس کی عام سوجھ بوجھ نہایت طاقتور تھی ۔ ماضی کے تجربات ، جدوجہد اور سنگھرشوں نے انہیں عام سوجھ بوجھ کی یہ دولت عطا کی تھی ۔ شعر و ادب کا نہایت نکھرا ستھرا ذوق رکھتے تھے ۔ اردو ادب کی تحریکوں ، نزاکتوں اور باریکیوں سے وہ ہم جیسوں سے زیادہ واقف تھے ۔ اردو کے کئی رسالوں کے خریدار تھے ۔ جب بھی دہلی آتے تو مکتبہ جامعہ اور جامع مسجد کے اردو کتب فروشوں کے ہاں سے ڈھیروں کتابیں خریدتے تھے ۔ اپنے بچوں کو اردو پڑھنے کی نہ صرف ترغیب دیتے تھے بلکہ ان کیلئے بھی کتابیں خرید کر لے جاتے تھے ۔ ایک بار تو انہوں نے سارا دن اس کام میں لگا دیا کہ مکتبہ جامعہ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بچوں کی جتنی کتابیں شائع کی ہیں ، وہ سب کی سب انہیں فراہم ہوجائیں ۔ میں جب بھی حیدرآباد جاتا تو اپنے بچوں کی اردو دانی کا بڑے فخر کے ساتھ ذکر کیا کرتے تھے ۔
میں نہیں جانتا کہ قدوس کی کامیاب وکالت کے پیچھے کیا عوامل تھے ۔ تاہم میں اپنے دوستوں سے اکثر کہا کرتا تھا کہ قدوس کی کامیاب وکالت کا بڑا راز یہ ہے کہ خدا نے قدوس کو ایک وکیل کی خداداد آواز عطا کی ہے۔ نہایت پاٹ دار ، گرجدار ، گونج دار اور گھن گرج والی ۔ بیشتر جج حضرات تو قدوس کی قانونی موشگافیوں سے کہیں زیادہ ان کی گرجدار آواز سے ہی مرعوب ہوکر ان کے موکل کے حق میں فیصلہ کردیتے ہوں گے ۔ اکیلے قدوس جب بولتے تھے تو لگتا تھا ایک جلسہ عام بول رہا ہے ۔ قدوس جیسی آواز ہر آدمی کو عطا ہوجائے تو بخدا مائیکرو فون بنانے والی کمپنیوں کا کاروبار بند ہوجائے ۔ وہ سچ سچ ایک منفرد آواز تھی ۔ افسوس کہ اب کان اس آواز کو سننے کیلئے ترستے رہ جا ئیں گے ۔ وہ ایک کامیاب وکیل ، بہترین مقرر ، سلجھے ہوئے دانشور اور اچھے ادیب تھے ۔ اقلیتوں کے مسائل کو وہ وسیع تناظر میں دیکھنے کے قائل تھے کیونکہ وہ وسیع المشربی ، رواداری اور کھلے دل و دماغ والے آدمی تھے ۔ ان کی کامیاب پریکٹس نے انہیں خوشحالی عطا کی تو اسے انہوں نے اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا ۔ اپنے رشتہ  داروں ، اپنے احباب اور سماج کو بھی اس کا حصہ دار بنایا ۔ میں پچھلے سال نومبر میں حیدرآباد گیا تھا تو مجھے ان کی صحت کمزور نظر آئی تھی ۔ میں نے وجہ پوچھی تو کام کے بوجھ کاحوالہ دیا ۔ اپنی صحت اپنے مسائل اور اپنی پریشانیوں کا ذکر وہ احباب سے نہیں کرتے تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے چہروں پر بھلے ہی تنہائی میں اداسی اور پژمردگی طاری رہتی ہو لیکن جب یہ سماج کے روبرو آتے ہیں تو اپنے چہروں پر شگفتگی ، شادابی ، تازگی اور بشاشت کو ایک اہم سماجی ذمہ داری کے طور پر سجا لیتے ہیں ۔ قدوس کا معمول تھا کہ دس پندرہ دنوں میں ایک بار ضرور صبح صبح مجھے فون کرلیا کرتے تھے ۔ مگر ادھر ایک مہینہ سے ان کا فون نہیں آیا تھا ۔ میں نے کچھ دوستوں سے ان کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ خیریت سے ہیں۔ آج صبح صبح فون کی گھنٹی بجی تو سوچا کہ ضرور قدوس کا فون ہوگا۔ مگر افسوس کہ فون قدوس کا نہیں تھا بلکہ قدوس کے بارے میں تھا ، اس حیدرآباد کے بارے میں تھا جو میرے لئے دن بہ دن چھوٹا ہوتا جارہا ہے ۔ نہ جانے وہ کونسا غم تھا جو قدوس کو اس دنیا سے لے گیا ۔ ظالم نے کچھ بتایا بھی تو نہیں ۔ ایک خود ساختہ انسان اور خوددار دوست کی حیثیت سے اس کی محبتیں ، اس کی دلداریاں ، اس کی رفاقتیں ہمیشہ یاد آتی رہیں گی۔
(5 مارچ 2000 ء )
TOPPOPULARRECENT