Wednesday , May 23 2018
Home / مضامین / سید وقارالدین کی 50 سالہ خدمات کا اعتراف

سید وقارالدین کی 50 سالہ خدمات کا اعتراف

عرب لیگ کی جانب سے ایوارڈ کی پیشکشی

مقبول احمد
سید وقارالدین چیف ایڈیٹر روزنامہ رہنمائے دکن و چیرمین انڈو عرب لیگ حیدرآباد کو 1967 ء سے 2017 ء تک نصف صدی پر مشتمل ، ہند عرب تعلقات کے فروغ و خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ نے اپنے 73 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس ایوارڈ کے تعلق سے معلوم ہوا کہ الجیریا کے سفیر نے سید وقارالدین کو ایوارڈ دینے کیلئے عرب لیگ کو تجویز پیش کی ۔ عرب لیگ کی نمائندہ تنظیم نے اس سے اتفاق بھی کیا ۔ اس اتفاق کے پس منظر میں سید وقارالدین کی وہ خدمات ہیں جو 50 سال سے ہند۔عرب تعلقات کو فروغ دینے کیلئے انہوں نے اپنے شباب کو قربان کیا اور علحدہ ریاست فلسطین کی جدوجہد کیلئے ہندوستان میں نمائندہ شناخت کی مثال بنائی ۔ ہند۔ عرب ممالک کے عوام کو ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے اور انہیں مستحکم بنانے کے علاوہ ہندوستان کے سیکولر امیج کو ابھارا، جس کی بنیاد ہندوستان کے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے رکھی تھی اور آزادی ہند کی تحریک کے دوران فلسطین کے تعلق سے کہا تھا کہ فلسطین کی ریاست ناگزیر ہے ، جس طرح برطانیہ ، برطانوی شہریوں کیلئے ہے ، بالکل اسی طرح ہندوستان ، ہندوستانیوں کیلئے ہے اور فلسطین، فلسطینیوں کیلئے ہے ، اسی نقطہ نظر کو ہندوستان کے مختلف وزرائے اعظم جیسے مسرز اندرا گاندھی ، اندر کمار گجرال ، وی پی سنگھ ، دیوے گوڑا ، نرسمہا راؤ اور اٹل بہاری واجپائی کے علاوہ صدور مملکت گیانی ذیل سنگھ ، شنکر دیال شرما نے ہمیشہ فلسطین کی علحدہ ریاست کی تشکیل کیلئے سید وقارالدین چیرمین انڈو عرب لیگ حیدرآباد کی میٹنگوں میں شرکت و مخاطبت کا شرف حاصل کر کے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی و وابستگی کا اظہار کیا ۔ 50 سال سے وقارالدین صاحب ان تعلقات کو مسلسل اونچائیوں تک پہنچاتے رہے ، خواہ مرکز میں کسی بھی پارٹی کی حکومت رہے۔

سید وقارالدین، ہند۔عرب تعلقات کو حیدرآباد سے ناطہ جوڑنے کیلئے جدوجہد کی شناخت بنائی، ان کی خدمات کا اعتراف ہندوستان اور عرب ممالک سبھی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وقار صاحب کی مسلسل جدوجہد ، و تڑپ کو دیکھتے ہوئے عرب لیگ نے انہیں متفقہ طور پر ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس اعزازی فیصلے کے تعلق سے معلوم ہوا کہ عرب لیگ ایسے افراد کا انتخاب کرتی ہے ، جن کی خدمات سبھی کیلئے متفقہ طور پر قابل قبول ہوں۔ دنیا کی مختلف شخصیتوں کا جائزہ لیا گیا ، جائزہ لینے کے بعد جو سب سے نمایاں شخصیت نظر آئی وہ سید وقارالدین صاحب کی تھی ، جن کی خدمات ہند۔ عرب کیلئے انمول رہی ہیں، اس لئے طئے پایا کہ 2017 ء میں عرب لیگ کا باوقار ایوارڈ ’’عرب لیگ کے یوم تاسیس کے موقع پر دیا جائے۔
سید وقارالدین کی شخصیت ، ہند۔عرب تعلقات کے فروغ کیلئے محتاج تعارف نہیں، انہیں ہندوستان بھر میں مختلف اداروں کی جانب سے بے شمار ایوارڈ مل چکے ہیں۔ بیرونی ممالک سے ملنے والے ایوارڈس میں مراقش کی جانب سے ملنے والا ایوارڈ ، جو راشٹرپتی بھون میں پیش کیا گیا تھا ، اہم ہے ، اس کے علاوہ فلسطین کی جدوجہد آزادی کی تحریک کے علمبردار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، یاسر عرفات مرحوم آپ کی دعوت پر دو مرتبہ حیدرآباد آئے اور انڈو عرب لیگ کے چیرمین وقارالدین صاحب کئی عرب ممالک کے سربراہوں کی دعوت پر مہمان بھی رہے ، جن میں قابل ذکر سعودی عرب ، عراق ، لیبیا ، سوڈان ، مراقش اور فلسطین اور کئی ممالک شامل ہیں، آپ نے حیدرآباد سے بھی کئی شخصیتوں کو اپنے دو روں میں ساتھ رکھا ۔
بانی تنظیم انڈو عرب لیگ کی خدمات کے سلسلے میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے چیرمین و صدر فلسطین محمود عباس نے فلسطین کیلئے عظیم خدمات کیلئے ’’ستارہ نجم‘‘ پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور وقار صاحب کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث اس ایوارڈ کو محمود الحباش ، سپریم کورٹ ، فلسطین جج کے ذریعہ حیدرآباد روانہ کر کے آپ کو پیش کیا جو ہندوستان بالخصوص حیدرآباد کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ اس کے علاوہ آپ کی عظیم خدمات کے پیش نظر اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین ریاست کا درجہ ملنے والے گولڈ مڈل کو بھی فلسطین سفیر ابوالحائجہ نے پیش کیا ۔ اس طرح اعزازات کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا ۔ یہ اعزاز حیدرآباد کیلئے بھی بہت بڑا ہے۔
فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی قائم کرنے کے سلسلے میں ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو قائل کروانے میں وقار صاحب کا اہم رول رہا ہے ، تاج کرشنا اور تاج دکن ہوٹلوں میں منعقدہ میٹنگوں کے ذریعہ ہندوستان کے سابق وزیر بنڈارو دتاتریہ نے تیقن دیا تھا کہ آپ کی بات کو نریندر مودی تک پہونچائیں گے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے فلسطین کیلئے دو ریاستی حل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور امریکہ کی جانب سے تل ابیب سے یروشلم سفارتخانہ کی منتقلی کو تسلیم نہیں کیا اور فلسطینیوں کو ہندوستان کی جانب سے دی جانے والی امداد میں تین گنا اضافہ کیا، اس طرح ہند۔عرب تعلقات کے فروغ و استحکام میں اضافہ ہوا ، اسی لئے سید وقارالدین 22 عرب ممالک کے ایوارڈ کے حقیقی مستحق خیال کئے گئے ، اسی وجہ سے سفارتخانہ عمان میں 2 اپریل کو ایوارڈ پیش کیا گیا ۔ سفارتخانہ کو بہت ہی خوبصورت انداز میں روشن یوں سے سجایا گیا تھا ، جیسے ہی سید وقارالدین صاحب سفارتخانہ عمان پہنچے ، ان کا سرخ قالین کے ذریعہ تمام سفراء نے پرجوش استقبال کیا ۔ اس موقع پر حیدرآباد سے خصوصی طور پر ڈاکٹر کیشو راؤ جنرل سکریٹری ٹی آر ایس ڈاکٹر میر اکبر علی خان نائب صدر انڈو عرب لیگ ، مقبول احمد اسکالر اور ڈاکٹر سید محی الدین حبیبی اراکین عاملہ انڈو عرب لیگ کے علاوہ جمیل احمد خاں اور ڈاکٹر فا ضل حسین پرویز نے شرکت کی ۔
اس ایوارڈ تقریب کے موقع پر سعودی سفیر ڈاکٹر سعود محمد الساطی نے وقارالدین کو ہز ایکسلنسی کی حیثیت سے مخاطب کرتے ہوئے ان کی نصف صدی پر محیط خدمات کی ستائش کی اور کہا کہ انہوں نے ہند۔ عرب کے درمیان روابط کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ایسے ہی عرب لیگ مشن کی چیف عالیہ غانم نے بھی آپ کی تاریخی خدمات کی ستائش کی ۔ ایوارڈ کی پیشکشی کے موقع پر ہندوستان کی جانب سے ایم جے اکبر مرکزی مملکتی وزیر خاجہ بھی موجود تھے ، اس کے بعد تمام عرب سفراء نے اپنے اپنے ملکوں کے کھانوں سے ضیافت کا اہتمام کیا جس سے مدعوئین بہت محظوظ ہوئے۔ رات دیر گئے تک سید وقارالدین کوایوارڈ کی مبارکبادی کا سلسلہ جاری رہا ۔ عرب لیگ کی جانب سے ایوارڈ کی پیشکشی نہ صرف ہندوستان بلکہ حیدرآباد کیلئے ایک عظیم اعزاز ہے جو آپ کی 50 سالہ خدمات کا اعتراف بھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT