Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / سیرت محمدیؐ کو عام کرنا اُمت مسلمہ کی ذمہ داری

سیرت محمدیؐ کو عام کرنا اُمت مسلمہ کی ذمہ داری

21 تا 23 فبروری سہ روزہ سیرت نبویؐ کانفرنس، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 18 فروری (سیاست نیوز) برادران وطن سے بہتر تعلقات استوار کرتے ہوئے سیرت محمدی ﷺ کو عام کرنا اُمت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ پُرآشوب دور میں دین اسلام کی صحیح تعلیمات کو اُمت اور دیگر ابنائے وطن تک پہنچاتے ہوئے اُن میں پھیل رہی غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری میں شامل ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے 21 تا 23 فروری منعقد ہونے جارہے سہ روزہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کانفرنس کے سلسلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ اُنھوں نے بتایا کہ برادران وطن میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ملک بھر میں بولی جانے والی مختلف زبانوں میں دین اسلام کے متعلق مواد بالخصوص سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مختلف پہلوؤں کو عوام کے درمیان لائے جانے کی ضرورت ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ہمراہ اس موقع پر جناب اقبال احمد انجینئر، جناب محمد جعفر چیرمین نظام گروپ آف انسٹی ٹیوشنس، مولانا محمد عمر عابدین قاسمی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بتایا کہ دنیا بھر میں اسلام کو بدنام کرنے کی جو ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں اُن کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنا دینی کردار دنیا کے سامنے رکھنا چاہئے۔ اُنھوں نے بتایا کہ سہ روزہ سمینار کے دوران 7 اجلاس منعقد ہوں گے اور اِن اجلاسوں میں قومی و بین الاقوامی سطح کے علمائے کرام خطاب کریں گے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بتایا کہ 21 فروری سے شروع ہونے والے اِس سہ روزہ سمینار کی صدارت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کریں گے۔ اِن اجلاسوں کے دوران ملک کے نامور علماء ڈاکٹر مولانا سیدالرحمن اعظمی ندوی مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء، مولانا سید ولی رحمانی امیر شریعت بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ، الدکتور شیخ محمد ابدل استاذ جامعہ اُم القریٰ مکہ مکرمہ، مولانا محمد صفیان قاسمی مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند، مولانا سید شاہد علی حسینی امین عام جامعہ مظاہرالعلوم سہارنپور ، مولانا سید اکبر مفتاحی، مولانا محمد رفیق قاسمی، مفتی احمد دیولوی ، مولانا مفتی اشرف علی باقوی، الدکتور شیخ عبداللہ بن محمد الغامدی رابطہ عالم اسلامی، مولانا عباس علی جینا صدر جمعیت علماء جنوبی افریقہ، مولانا عبداللہ معروفی دارالعلوم دیوبند، مولانا سید کاکا سعید عمری، مولانا سید محمود اسعد مدنی، جناب اسدالدین اویسی، پروفیسر سعود عالم قاسمی کے علاوہ دیگر شرکت کریں گے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید بتایا کہ 23 فروری کو جلسہ عام منعقد ہوگا جوکہ عیدگاہ بلالی ہاکی گراؤنڈ مانصاحب ٹینک میں بعد نماز مغرب منعقد ہوگا۔ افتتاحی اجلاس اتوار 21 فروری صبح 9.30 بجے شروع ہوگا جو المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوگا جس میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی مہمان خصوصی ہوں گے۔ اس کے علاوہ مختلف نشستیں علیحدہ علیحدہ عنوانات کے تحت منعقد ہوں گی جن میں پیغمبر اسلام اور غیر مسلموں کے اعترافات،  عصر حاضر کے مسائل اور اُسوۂ نبوی ﷺ ، پیغمبر اسلام ﷺ اور اعدائے اسلام کی طرف سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیاں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم اور دیگر مذہبی کتابیں شامل ہیں۔ ان عنوانات کے تحت مختلف مدعو علماء اظہار خیال کریں گے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید کہاکہ اِس سہ روزہ سمینار کے دوران داعش کے متعلق عالمی سطح کے علمائے کرام کی رائے و تبصرے بھی ہوں گے۔ اُنھوں نے واضح طور پر کہاکہ داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے چونکہ اسلام شدت پسندی کی تعلیم نہیں دیتا اور نہ ہی قتل و غارت گری کا حکم دیتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہندوستان میں فی زمانہ جو ارباب اقتدار ہیں وہ مسلم دشمنی اور متعصبانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس طرح کی حکومت کی سرپرستی میں کسی طرح کے پروگرامس کا انعقاد کرنا درحقیقت اُمت سے بے وفائی کے مترادف ہے۔ اِسی لئے جو لوگ ایسا کررہے ہیں اُنھیں بجائے اختلافات کو ہوا دینے کے اُمت واحدہ کے درس کو عام کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT