Saturday , August 18 2018
Home / Top Stories / سیرنج اور نیڈلس کی قیمت پر 1251فیصد تک منافع کا حصول

سیرنج اور نیڈلس کی قیمت پر 1251فیصد تک منافع کا حصول

دواخانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے آلات پر ڈسٹری بیوٹرس کی لوٹ کھسوٹ ، غریب مریضوں کیلئے مشکلات

نئی دہلی 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں سیرنج اور نیڈلس (سوئی) بنانے والی کمپنیوں اور میڈیکل اسٹورس بے تحاشہ منافع کمارہی ہیں۔ سیرنج اور نیڈلس پر 214% سے 1251% تک منافع کمایا جارہا ہے۔ تمام طرح کے سیرنج کی ریٹیل قیمت اُس قیمت سے اوسطاً 664 فیصد زیادہ ہے جس قیمت پر ڈسٹری بیوٹرس اُسے خریدتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھاریٹی (این پی پی اے) کی ایک سروے رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ان پراڈکٹس کے ٹریڈ مارجن کے بارے میں دستیاب تفصیلات کا تجزیہ کیا گیا ہے جس کے ذریعہ پتہ چلا کہ نیڈلس کی ریٹیل قیمت اوسطاً 356 فیصد زیادہ ہے۔ اگر اس میں سیرنج کی مثال لیں تو اس میں 16 روپئے قیمت والی سیرنج کو اوسطاً 97 روپئے میں فروخت کیا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 200 روپئے تک بھی فروخت ہوتا ہے۔ چند مہینے قبل ملک میں سیرنج اور نیڈلس بنانے والی بعض کمپنیوں نے اپنے پراڈکٹس کی قیمت کم کرنے کا فیصلہ اپنے طور پر کیا تھا تاکہ ڈرگس پرائسنگ ریگولیٹری کی جانب سے قیمتوں پر پابندی کا سامنا اُنھیں نہ کرنا پڑے۔ اِن میں سے کچھ مینوفیکچررس کا دعویٰ ہے کہ اُن کا یہ فیصلہ اُن کے لئے کافی مہنگا ثابت ہوا۔ این پی پی اے کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیرنج کی ایم آر پی اوسطاً 214 سے 664 فیصد سے بڑھادیا گیا ہے۔ مثلاً بناء نیڈل کے 50 ایم ایل کے ہائیپوڈرمک ڈسپوزل سیرنج کی اوسط قیمت برائے ڈسٹری بیوٹرس 16.96 روپئے دکھایا گیا جبکہ اس کی اوسط ایم آر پی 97 روپئے ہے۔ نیڈل کے ساتھ 0.5ml کی ہائیپوڈرمک آٹو ڈائزیبل سیرنج کی اوسط پی ٹی ڈی 2.60 روپئے ہے۔ جبکہ اس کی اوسط ایم آر پی 12 روپئے ہے۔ کئی میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لابی گروپ میڈیکل ٹیکنالوجی اسوسی ایشن آف انڈیا کے پریسڈنٹ پون چودھری کا کہنا ہے کہ چند سال قبل مارکٹ کا توازن خراب ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ زیادہ تر کمپنیاں زیادہ ٹریڈ مارجن کے رجحان پر چلے بناء اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی تھیں۔ تاہم اُنھوں نے کہاکہ اِس قدر قیمتوں میں اضافہ جائز نہیں ہے۔ پیشنٹ اکٹیوسٹ گروپ آل انڈیا ڈرگ ایکشن نیٹ ورک سے وابستہ مالنی اسولا کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ قیمتیں جان بوجھ کر بڑھائی جارہی ہیں جن کا مینوفیکچرنگ سے کوئی ربط ضبط نظر نہیں آتا۔ اُنھوں نے کہاکہ سیرنج اور نیڈلس عام استعمال کے آلات ہیں، ان کا بل کافی آجاتا ہے اور ہاسپٹل بِل بڑھانے کے لئے اِن آلات کا اندھا دھند استعمال کرتے ہیں جس کی زیادہ تر مریضوں کو خبر ہی نہیں ہوپاتی۔

TOPPOPULARRECENT