Sunday , May 27 2018
Home / Top Stories / سیریا میں قتل عام۔ مختلف عقائد کے لوگوں نے ساتھ مل کر امن کے لئے دعا کی۔

سیریا میں قتل عام۔ مختلف عقائد کے لوگوں نے ساتھ مل کر امن کے لئے دعا کی۔

چینائی۔ سیریا کے گھاؤٹا‘ حلب اور دیگر شہروں میں کئی بے قصور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیاجارہا ہے۔ مذکورہ شہر خطرناک ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک پر ا س پر مذمت اور کاروائی کے بجائے یواین او میں قراردادیں ہی پیش کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس بربریت پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

مسلم ممالک کے سربراہان کو اس بات کی توفیق نصیب نہیں ہے وہ اس بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ تاہم انسانیت اب بھی عام لوگوں میں باقی ہے۔
چینائی کے گرجا گھر میں ایک مشترکہ دعائیہ اجتماع منعقد کیاگیا جس میں مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے سیریا کے مظلوموں کے دعاء کی۔

اور سیریا پر بمباری کو روکنے کی بھی ان ممالک سے اپیل کی۔حیدرآباد کے یاقوت پورہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد سیریا میں جاری فضائی حملوں کے خلاف ریالی نکالی گئی ۔ مذکورہ ریالی میں معصو م بچے ہاتھوں میں’’ سیریا کے لئے دعا‘‘ پر مشتمل پلے کارڈس تھامے دیکھائی دئے۔

یہا ں پر اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سیریا میں جاری خانہ جنگ یمیں اب تک 4.5لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔درایں اثناء علی گڑہ مسلم یونیورسٹی( اے ایم یو) کے طلبہ نے بھیجمععہ کے روز سیریا میں جاری انسانی سوز حرکتوں کے خلاف احتجاج منظم کیا۔

سینکڑوں کے تعداد میںیونیورسٹی طلبہ سڑکوں پر جمع ہوکراور اقوام متحدہ کے بشمول بربریت پر خاموش ممالک کے خلاف نعرے بازی کی۔

ایک احتجاجی نے کہاکہ وہ صدر جمہوریہ ہند کو اس ضمن میں ایک میمورنڈم پیش کریں گے جس کی ایک کاپی وزیر اعظم نریندر مودی‘ خارجی امور کی وزیر سشما سوارج اور دہلی میں موجود سیریا سفارت خانے کے بھی حوالے کی جائے گی۔مزیدکہاکہ’’ امریکہ او رروس معصوم بچوں پر جاری بمباری کو بند کرے‘اور حکومت ہند اقوام متحدہ میں اس مسلئے کواٹھائے‘ ہم سیریا کے سفارت خانہ کا بھی گھیراؤ کریں گے‘‘.۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے تیس روز تک جنگ بندی کی ہدایت کے باوجود سیریا کے ایسٹرن گھوٹاؤ میں فضاء حملوں اور شلباری کا سلسلہ مانو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پچھلے اٹھ مہینوں میں شدید فضاء حملوں کی وجہہ سے یہاں کے حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں ۔

سینکڑوں کی تعداد میں نعشیں عمارتو ں کے ملبے میں دبے ہیں جبکہ زخمیوں کا علاج کرنے والے ندارد ہیں۔ فبروری 19کے بعد سے اب تک ہوئی فضائی حملو ں میں 500لوگوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے جبکہ پندرہ سو سے زائد لوگ زخمی ہیں

TOPPOPULARRECENT