Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / سیلاب اور گورکھپور سانحہ نے ایس پی کو متحرک کردیا

سیلاب اور گورکھپور سانحہ نے ایس پی کو متحرک کردیا

عوامی مسائل پر یوگی حکومت کی بے حسی نے مشکلات بڑھادیئے، اکھلیش کی پارٹی کا موقف
لکھنؤ 17 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں تباہ کن سیلاب اور گورکھپور کے سرکاری اسپتال میں درجنوں بچوں کی موت کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال نے یکایک اپوزیشن سماج وادی پارٹی کو حرکت میں لادیا ہے۔ زعفرانی لہر کے سبب اقتدار سے بیدخل ہونے کے بعد ایس پی بیتابی سے جدوجہد کررہی ہے کہ اپنا کھوا مقام دوبارہ حاصل کیا جائے۔ زعفرانی لہر نے اِس سال کے اوائل 403 رکنی اسمبلی میں بی جے پی اور اُس کے حلیفوں کو 325 نشستیں دلائیں جو غیرمعمولی اکثریت ہے۔ ایس پی کو اپنے بعض ایم ایل سی ارکان کے حالیہ استعفوں اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کے چچا شیوپال یادو کے ساتھ تلخیوں نے مشکلات میں ڈال رکھا ہے اس وجہ سے اُنھیں عوام کے ساتھ اپنا تال میل دوبارہ قائم کرنے کے لئے کچھ اضافی جدوجہد کرنی پڑرہی ہے۔ 7 اور 11 اگسٹ کے درمیان گورکھپور کے بی آر بی میڈیکل کالج ہاسپٹل میں زائداز 60 بچوں کی موت جو ظاہر طور پر آکسیجن کی سپلائی مسدود ہونے کے سبب ہوئی، یہ اکھلیش کے لئے ایک موقع بن گیا کہ عوام کے ساتھ دوبارہ راست طور پر جڑ جائیں۔ اُنھوں نے نہ صرف متاثرین و مہلوکین کے ورثاء کے پاس پہنچ کر اُنھیں تسلی دی بلکہ پارٹی فنڈ سے ہر متوفی کی فیملی کو 2 لاکھ روپئے کے معاوضے کا اعلان بھی کیا۔ سابق چیف منسٹر نے یوگی ادتیہ ناتھ حکومت پر سخت تنقید کی کہ وہ اپنے آبائی ضلع میں ہی ناکام ہوچکے ہیں اور ایس پی قائدین کی ایک ٹیم تشکیل دی جس نے اسپتال کا دورہ کیا اور ایک رپورٹ تیار کی تاکہ حکومت کو اُس کی مبینہ بے حسی پر جھنجوڑا جاسکے۔

اکھلیش نے کہاکہ حکومت بے حس ہے اور ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اِس لئے موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے کہ وہ اِس کا سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ حکومت سچائی سے صرف نظر کررہی ہے حالانکہ پہلے ہی کہا جاچکا ہے کہ بچوں کی اموات آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ہوئی۔ ایس پی نے مہلوکین کے خاندانوں کو فی کس 20 لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ سیلاب سے پیدا شدہ سنگین صورتحال کا بھی نوٹ لیتے ہوئے ایس پی نے مختلف اضلاع میں ٹیمیں تشکیل دیئے ہیں جن کی سربراہی پارٹی کے سینئر قائدین کررہے ہیں تاکہ ضرورت مندوں کے لئے موقع پر دستیاب رہ سکیں۔ شدید متاثرہ اضلاع جیسے بارہ بنکی، گولڈا، سدھارتھ نگر ، مہاراج گنج، بلرام پور اور بہرائچ میں فلڈ ریلیف کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں جو متاثرین کو راحت پہنچائیں گی۔ پارٹی کے ترجمان راجندرن چودھری نے کہاکہ ہمارے صدر پارٹی عوام کی پریشانیوں کے تعلق سے حساس موقف رکھتے ہیں۔ وہ پارٹی کیڈر سے چاہتے ہیں کہ عوام کی مدد کریں اور بی جے پی حکومت کی بے حسی کو نمایاں کریں جو کلیدی مسائل کی یکسوئی نہیں کررہی ہے۔ لکھنؤ میں شکشا متر اور پولیس جاب کے خواہاں افراد پر لاٹھی چارج کا معاملہ ہو یا گورکھپور مسئلہ سے نمٹنا، حکومت عوام کے سامنے پوری طرح آشکار ہوگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT