Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / سیلاب سے متاثرہ کشمیری بچوں میں اسکول بیاگس اور تعلیمی مواد کی تقسیم کا فیصلہ

سیلاب سے متاثرہ کشمیری بچوں میں اسکول بیاگس اور تعلیمی مواد کی تقسیم کا فیصلہ

مکانات تعمیر کرنے اور نوجوانوں کو ووکیشنل کورس سکھانے ادارہ کے قیام کا منصوبہ ، جائزہ اجلاس میں جناب زاہد علی خان کا اعلان

مکانات تعمیر کرنے اور نوجوانوں کو ووکیشنل کورس سکھانے ادارہ کے قیام کا منصوبہ ، جائزہ اجلاس میں جناب زاہد علی خان کا اعلان
حیدرآباد ۔ 9 اکٹوبر (سیاست نیوز) ہندوستان یا دنیا کے کسی بھی مقام پر مسلمانوں پر کوئی ظلم ہوتا ہے یا ان کی تباہی و بربادی کے سامان کئے جاتے ہیں یا پھر آفات سماوی میں انہیں کسی قسم کا انقصان پہنچتا ہے تو ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے شہری ان کی مدد کیلئے بے چین ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک مصیبت زدہ مسلمانوں کی مدد کا سوال ہے حیدرآبادی مسلمان ہمیشہ سے ہی مدد کے معاملہ میں سارے ہندوستان میں آگے رہے ہیں اور یہ دراصل ان پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے۔ وادی کشمیر میں حالیہ سیلاب نے زبردست تباہی مچائی، ہزاروں کروڑ روپئے مالیتی قالین کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا۔ کشمیری شال کا کاروبار ایک طرح سے تباہ ہوکر رہ گیا۔ خشک میوں کی دکانات گودام میں سیلابی پانی داخل ہونے سے بے شمار متمول تاجرین دیکھتے ہی دیکھتے غریب ہوگئے۔ مکانات بہہ گئے۔ کئی علاقوں میں کئی دنوں تک نعشوں کا پتہ نہ چل سکا۔ سیلاب کے باعث 300 سے زائد لوگ فوت ہوئے اور ہزاروں مکانات کو نقصان پہنچا۔ عمر عبداللہ حکومت نے مرکزی حکومت کو نقصانات کا جو تخمینہ پیش کیا ہے اس کے مطابق وادی کشمیر میں تاریخ کے اس بھیانک سیلاب کے باعث 44000 ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ کے موقع پر 745 کروڑ روپئے کی امداد کا اعلان کیا جو کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ دوسری جانب غیرسرکاری تنظیموں نے بھی کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہوئی تباہی پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کی اپیلیں جاری کی ۔ حیدرآبادسے سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ نے کشمیری بھائیوں کی مدد کا بیڑہ اٹھایا اور شہر حیدرآباد سے کثیر مقدار میں ادویات بشمول انسولین انجکنش، ملک پاوڈر، گرم کپڑے اور دیگر اشیاء روانہ کیں۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جس میں ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کے ذمہ داران شامل تھے۔ وادی کشمیر کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا، متاثرین سے ملاقات کی اور خاص طور پر ان سلم علاقوں کا دورہ کیا ۔ اس وفد نے جس میں فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری جناب افتخار حسین، منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیرالدین علی خان اور فیض عام ٹرسٹ کے ٹرسٹی جناب رضوان حیدر شامل تھے۔ تباہ شدہ اسکولوں کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کو آندھراپردیش ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس بلال نازکی کے فرزند محفوظ نازکی ایڈوکیٹ، لندن کے سجاد شیخ ایڈوکیٹ بنڈی پورہ کے ڈسٹرکٹ کلکٹر ڈاکٹر شاہ فیصل (یہ وہی شاہ فیصل ہیں جنہوں نے سال 2009ء میں سارے ہندوستان میں سیول سرویس امتحان میں اول مقام حاصل کیا تھا اور رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ کشمیریوں نے ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے کئے گئے راحت کاری اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے اہلیان حیدرآباد کے حق میں دعا کی۔ آج دفتر سیاست میں ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں متاثرہ علاقوں کے بچوں میں اسکول بیاگس، پنسلیں، پن اور کاپیاں تقسیم کرنے، کم از کم 5 مکانات تعمیر کرنے، غریب و پسماندہ بستیوں کے نوجوانوں میں مہارت کو فروغ دینے ادارہ کے قیام اور ایک تباہ شدہ اسکول کی ازسرنو تعمیر کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے بتایا کہ ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے جن کشمیری علاقوں کی نشاندہی کی گئی وہاں کے 1000 بچوں میں اسکول بیاگس کاپیاں اور پن وغیرہ تقسیم کئے جائیں گے اور ہر بچہ کو ان اشیاء کی فراہمی پر فی کس 600 روپئے کے مصارف آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ آزمائشی بنیاد پر ابتدائی مرحلہ میں 5 مکانات تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک مکان کی تعمیر پر 3 تا 4 لاکھ روپئے کی لاگت آرہی ہے۔ نوجوانوں میں مہارت پیدا کرنے کیلئے ادارہ برائے فروغ مہارت کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کیلئے ایک عمارت کرائے پر لی جائے گی جس میں طلبہ کیلئے اسپوکن انگلش کورس کے علاوہ ووکیشنل کورس کا انتظام رہے گا جبکہ ڈل جھیل کے قریب ایک متاثرہ علاقہ میں اسکول کے قیام پر بھی غورکیا گیا۔ جناب افتخار حسین کے مطابق کشمیر میں راحتی کاموں کو وسعت دینے کیلئے وہاں سرگرم این جی اوز سے بات چیت جاری ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے اس بات پر بارگاہ رب العزت میں شکر بجا لایا کہ حیدرآباد میں مسلمانوں کے تعاون سے یہ اہم کام انجام دیئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT