Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / سیلاب کا قہر ، بہار میں 153 اموات، یو پی میں فوج طلب

سیلاب کا قہر ، بہار میں 153 اموات، یو پی میں فوج طلب

نئی دہلی ۔ /18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) بہار میں سیلاب سے اموات کی تعداد آج 153 ہوگئی ۔ ریاست کے 17 اضلاع الگ تھلگ ہوگئے جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہوگئی لیکن آسام اور مغربی بنگال میں جہاں موسلادھار بارش کا سلسلہ بند ہوچکا ہے صورتحال بہتر ہونے کی اطلاع ہے ۔ محکمہ موسمیات کے بموجب بہار کے چند اضلاع میں کل بارش ہوگی یا گرج چمک کے ساتھ چھیٹے پڑیں گے ۔ قومی آفات سماوی خدمات کی 28 ٹیمیں جو 1152 افراد پر مشتمل ہیں راحت رسانی اور بچاؤ کارروائی میں مصروف ہیں ۔ دریں اثناء یو پی میں سیلاب سے نمٹنے کیلئے فوج طلب کرلی گئی ہے ۔ شمالی بنگال میں سیلاب کی صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے بموجب اڈیشہ میںآئندہ 24 گھنٹوں میں موسلادھار بارش کا اندیشہ ہے ۔ ہماچل پردیش میں زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے ۔ جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمد و رفت میں خلل پیدا ہوا ۔

مشرقی یو پی میں سیلاب کی صورتحال ابتر
فوج سے مدد طلب، 105 دیہات متاثر، 35 زیر آب
گورکھپور۔18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مشرقی یو پی کے اضلاع میں جو نیپال سے متصل ہے، سیلاب کی صورتحال آج مسلسل بارش اور دریائوں سے پانی چھوڑے جانے کے نتیجہ میں ابتر ہوگئی ہے جبکہ ضلع نظم و نسق نے یہاں راحت اور بچائو کاموں میں فوج کی مدد چاہی ہے۔ نظم و نسق کے ذرائع نے کہا کہ نیپال کی طرف گورکھپور۔سوناولی روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت مفلوج ہوچکی ہے کیوں کہ دریائے روہین کے پانیوں نے منی رام ٹائون شپ اور قومی شاہراہ کو زیر آب کر رکھا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راجیو روتیلا نے کل تک تمام اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا اور بچائو و راحت کاری آپریشنس میں آرمی سے مدد طلب کی ہے۔ اس دوران حکام نے دریائے روہین کے پشتہ میں شگافوں کو بند کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ ضلع کے 105 دیہات سیلاب کی زد میں آئے اور ان میں سے 35 پوری طرح زیر آب ہیں۔ دیہاتیوں کو محفوظ تر مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ 169 کشتیوں کی مدد سے متاثرین کو غذا فراہم کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT