Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / سیما۔آندھرا کیلئے کانگریس امیدواروں کی فہرست جاری

سیما۔آندھرا کیلئے کانگریس امیدواروں کی فہرست جاری

نئی دہلی ۔ 13 ؍ اپریل ( پی ٹی آئی) کانگریس نے سیما آندھرا میں لوک سبھا کے لئے 20 اور اسمبلی کے لئے 139 امیدواروں کا اعلان کی ہے ۔ لوک سبھا کے لئے کانگریس امیدواروں کی فہرست میں بشمول وی کشور چندر دیو ‘ ایم ایم پلم راجو ‘ پناباکا لکشمی اور کے سوریہ پرکاش ریڈی متعدد مرکزی وزراء بھی شامل ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ کے قیام کے لئے ریاست کی تقسیم کے بع

نئی دہلی ۔ 13 ؍ اپریل ( پی ٹی آئی) کانگریس نے سیما آندھرا میں لوک سبھا کے لئے 20 اور اسمبلی کے لئے 139 امیدواروں کا اعلان کی ہے ۔ لوک سبھا کے لئے کانگریس امیدواروں کی فہرست میں بشمول وی کشور چندر دیو ‘ ایم ایم پلم راجو ‘ پناباکا لکشمی اور کے سوریہ پرکاش ریڈی متعدد مرکزی وزراء بھی شامل ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ کے قیام کے لئے ریاست کی تقسیم کے بعد آندھراپردیش میں پہلی مرتبہ لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات منعقد ہو رہے ہیں ۔ آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی سابق سربراہ بوتسہ ستیہ نارائنا اور دیگر کئی ریاستی وزراء اسمبلی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ لوک سبھا کے لئے کشور چندرا دیو (مرکزی وزیر قبائیلی امور) کو حلقہ اراکو سے دوبارہ نامزد کیا گیا ہے ۔ پلم راجو (وزیر فروغ انسانی وسائل ) کو کاکیناڈا ‘ پنابکا لکشمی (مملکتی وزیر ٹکسٹائیلس ) کو باپٹلہ (ایس سی) اور کوٹلہ جئے سوریہ پرکاش ریڈی (مملکتی وزیر ریلوے ) کو کرنول سے امیدوار بنایا گیا ہے ۔

لوک سبھا کے لئے کانگریس کے دیگر اہم امیدواروں میں حلقہ سریکاکلم سے کلی کرپا رانی ‘ بوتسہ ستیہ نارائینا کی شریک حیات جھانسی لکشمی حلقہ وجیانگرم ‘ کے باپی راجو نرسا پورم اور ڈاکٹر چنتا موہن تروپتی (ایس سی) شامل ہیں ۔ کانگریس جو گذشتہ دس سال سے آندھراپردیش میں برسراقتدار رہی ہے لیکن ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر اس مرتبہ اس کو سیما ۔ آندھرا میں سخت چیالنج کا سامنا ہے ۔ سیما ۔ آندھرا کے لئے معلنہ کانگریس کے 139 امیدواروں میں حلقہ کڑپہ سے محمد اشرف ‘ رائے چوٹی سے شیخ فضل الٰہی ‘ سری سیلم سے مسز شبانہ کرنول سے احمد علی خان ‘ ادھونی سے منیار یونس ‘ ہند پور سے ایم ایچ عنایت اللہ ‘ پلیرو سے جی شاہنواز علی خان ‘ مدن پلی سے جہاں باشاہ شامل ہیں ۔ سیما۔ آندھرا میں حکمراں کانگریس کو نہ صرف حریف جماعتوں سے سخت مقابلہ ہے بلکہ جماعت میں گروپ بندیوں سے بھی ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران کئی اہم قائدین دیگر جماعتوں میں شامل ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT