سیما آندھرا اور تلنگانہ ریاستوں میں مسلم اقلیتوں کیساتھ انصاف رسانی مطالبہ

حیدرآباد۔ 20 جنوری (پریس نوٹ) جناب فاروق حسین ایم ایل سی نے سکریٹری ریاستی قانون ساز مقننہ کو مرکزی حکومت کے موسومہ آندھراپردیش ریاستی تنظیم جدید مسودہ قانون بابت 2013ء پر اپنی تحریری رائے دی ہے، جس میں نئی تشکیل پانے والی دونوں ریاستوں میں مسلم اقلیت کے ساتھ ہر محاذ پر انصاف اور 40 فیصد تحفظات کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا جو مسلسل نا

حیدرآباد۔ 20 جنوری (پریس نوٹ) جناب فاروق حسین ایم ایل سی نے سکریٹری ریاستی قانون ساز مقننہ کو مرکزی حکومت کے موسومہ آندھراپردیش ریاستی تنظیم جدید مسودہ قانون بابت 2013ء پر اپنی تحریری رائے دی ہے، جس میں نئی تشکیل پانے والی دونوں ریاستوں میں مسلم اقلیت کے ساتھ ہر محاذ پر انصاف اور 40 فیصد تحفظات کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا جو مسلسل ناانصافی کا شکار ہیں چاہے یہ سرکاری و غیر سرکاری، سماجی اور معاشی زمرہ وغیرہ میں ہی کیوں نہ ہو جس کی جسٹس سچر، جسٹس رنگاناتھ مشرا، جسٹس پنو سوامی اور جسٹس سبرامنیم نے بھی نہ صرف تصدیق کی ہے بلکہ اس کے ازالہ کی سفارش کی ہے۔ اس عدم مساوات کے عمل کو ملحوظ رکھتے ہوئے مستقبل میں اس کا دوبارہ اعادہ نہ ہونے دیں۔ جناب فاروق حسین نے بتایا کہ 20 فروری 1956ء کو آندھرا اور تلنگانہ قائدین کے درمیان طئے پائے انضمام کے مشروط معاہدہ کے 15 نکات پر جسے شریفانہ معاہدہ سے موسوم کیا گیا، دونوں علاقوں کے قائدین بشمول وزرائے اعلیٰ اور وزراء بھی شامل تھے، دستخط کئے جس میں دونوں علاقے بالخصوص علاقہ تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ اور اس کے ساتھ انصاف پر اتفاق کیا گیا تھا مگر کوئی مثال ایسی نہیں ملتی کہ تلنگانہ کے ساتھ کسی نے انصاف پر غور کرنے کی زحمت کی ہو۔ اس میں سب سے زیادہ ناانصافی مسلمانوں کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ ناانصافی انجانے میں نہیں بلکہ دانستہ طور پر کی گئی ہے۔ اس کے وہ سب ذمہ داری ہیں جو یکم ؍ نومبر 1956ء سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے روانہ کردہ آندھراپردیش تنظیم جدید بل ۔2013ء کی تائید کی۔ انہوں نے پولاورم کی طرح پرانہیتا ۔ چیوڑلہ پراجکٹ کو قومی درجہ دینے اور پورے تلنگانہ میں آبادی کے حساب سے مزید یونیورسٹیز کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ قدرتی وسائل سے مالامال علاقہ ہے جہاں کوئلہ (سنگارینی کالریز کمپنی لمیٹیڈ)، معدن، ہمہ نوعیت کے پتھر، دریائیں، جنگلات، پہاڑ غرض اس قسم کے کئی قدرتی تحفے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست آندھراپردیش کا لسانی بنیاد پر وجود عمل میں لایا گیا۔ تینوں علاقوں کی زبان آپس میں ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتی۔

اس لسانی ریاست میں اردو دوسری بڑی زبان ہے مگر اسے بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ آندھراپردیش کے تین علاقہ جات میں رقبہ کے اعتبار سے تلنگانہ سب سے بڑا ہے جو کل علاقہ میں 41.47 فیصد کا احاطہ کرتا ہے۔ اسی طرح ریاست میں قیام پذیر جملہ آبادی میں 40.54 فیصد ہے اس طرح ریاستی آمدنی میں 76 فیصد تلنگانہ کی شراکت داری ہے جو مرکزی حکومت کے تعاون کے علاوہ ہے۔ جناب فاروق حسین نے کہا کہ ہاں یہ سچ ہیکہ مقننہ اداروں (اسمبلی، کونسل، لوک سبھا، راجیہ سبھا) کیلئے دستور میں شناخت کردہ طبقات کو محفوظ حلقہ جات سے ہی انتخابات میں مقابلہ کا حق دیا گیا ہے، اس میں ہم کچھ نہیں کرسکتے مگر سیاسی توازن کی برقراری کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت دوسرے طبقات کے ساتھ کم از کم انصاف تو کیا جاسکتا ہے۔ یہ نئی ریاست کیلئے مضبوط بنیاد ہوگی۔ آخر میں انہوں نے شریمتی سونیا گاندھی، وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور ان کی کابینہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے علحدہ ریاست تلنگانہ مسودہ بل کو منظور کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT