Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / سیما آندھرا میں انتخابی مہم سے ’ برادران ‘ کیوں ہوئے دور؟

سیما آندھرا میں انتخابی مہم سے ’ برادران ‘ کیوں ہوئے دور؟

’ حکم میرے آقا ‘ کا نعرہ لگانے والے ’ جن ‘ کی خدمات کا حصول چہ معنی دارد

’ حکم میرے آقا ‘ کا نعرہ لگانے والے ’ جن ‘ کی خدمات کا حصول چہ معنی دارد

حیدرآباد ۔ 6 ۔ مئی : ہندوستانی سیاست میں نجومیوں کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ سیاست داں باباوں عاملوں اور سوامیوں کے اڈوں کے چکر کاٹتے رہتے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ خود ساختہ بابائیں عوام کو بیوقوف بنانے والے سیاستدانوں کو بھی بے وقوف بناکر چھوڑتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں ایک کہانی بہت مشہور ہے ۔ علا الدین کا چراغ اس کہانی میں چراغ گھستے ہی ایک دیوہیکل جن اچانک منظر عام پر آکر ’ حکم میرے آقا ‘ کہتا ہے لیکن اس کا انداز اس قدر بھیانک ہوتا ہے کہ بے چارہ علا الدین کچھ دیر کے لیے ڈر جاتا ہے ۔ ہیبت کے مارے اس پر کپکپی تیار ہوجاتی ہے لیکن جو جادوگر اسے جادوئی غار میں بند رکھتے ہوئے جادوئی چراغ و انگوٹھی حاصل کرنے کا خواہاں ہوتا ہے اسے ناکامی ہوتی ہے جب کہ الہ الدین اس چراغ کے ذریعہ جن سے مختلف کام کرواتا رہتا ہے ۔ ریاست کی سیاسی جماعتوں میں ایک جن بہت زیادہ مشہور ہے ۔ اگرچہ وہ بے چارہ ایک عوامی نمائندہ ہے اس کے باوجود چھوٹے بھائی اور بڑے بھائی جب بھی چراغ گھستے ہیں تو وہ حکم میرے آقا کہتے ہوئے خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے ۔ اب یہ سیاسی جن سیما ۔ آندھرا میں اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا ستارہ مہم جو بن گیا ہے ۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کے قائدین اب استفسار کرنے لگے ہیں کہ چھوٹے بھائی اور بڑے بھائی جو تلنگانہ خاص کر شہر میں پارٹی کی انتخابی مہم میں خود کو مرکز توجہ بنائے ہوئے تھے ۔ آخر سیما ۔ آندھرا کی انتخابی مہم میں سرگرمی کیوں نہیں دکھائی جب کہ وہاں لوک سبھا کی 25 اور اسمبلی کی 175 نشستوں کے لیے رائے دہی ہونے والی ہے ۔ ان بھائیوں کی پارٹی نے سیما ۔ آندھرا کے اہم ترین علاقوں کڑپہ ، کرنول ، چتور کے حلقوں آلور ، ادونی ، رائے چوٹی ، نندیال ، مدناپلی ، کدری ، اننت پور ، ہندو پور سے اپنے امیدوار کھڑا کئے ہیں ۔ اس کے باوجود اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سے گریز سیاسی حلقوں میں کئی ایک سوالات اٹھا رہا ہے ۔ یہ سوالات بھی کئے جارہے ہیں کہ یہ امیدوار آخر کس مقصد کے لیے ٹھہرائے گئے ہیں ؟ ویسے بھی آج کل انتخابات میں خفیہ معاملتیں عام ہوگئیں جو سیاسی نظام کی خوبیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑی ہوشیاری سے بوتل کے جن کو باہر نکالا گیا اور برادران ملت کے ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرنے والے برادران نے خود کو انتخابی مہم سے دور کرلیا ۔ شہر میں یہ قیاس آرائیاں بھی زوروں پر ہیں کہ سیما ۔ آندھرا کی انتخابی مہم سے دوری کا مطلب کیا ہے کیوں کہ ہمارے ملک کی سیاست میں لین دین اور سوٹ کیس کلچر عام ہوگیا ہے ۔ جس طرح معاشرہ جہیز اور لین دین کی لعنت سے متاثر ہے اسی طرح سیاست کو بھی معاملتوں کی لعنتوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاملتیں کس سے کی گئی ہیں ۔ جگن کی وائی ایس آر یا پھر کانگریس سے ان کا اندرونی اتحاد ہوا ہے ۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ۔ شہر میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ جب بھی سوٹ کیسوں کی ضرورت پڑتی ہے چراغ گھسا جاتا ہے ۔ جس کے ساتھ ہی حکم میرے آقا کی صدائیں لگاتے ہوئے جن پورے ادب و احترام کے ساتھ بوتل سے برآمد ہو کر آقاؤں کا منشا و مقصد معلوم کر کے وہاں سے رفو چکر ہوجاتا ہے واپسی میں اس کا وجود وزنی سوٹ کیسوں تلے دب کر رہ جاتا ہے لیکن بیچارہ حرف شکایت زباں پر نہیں لاتا بلکہ اپنے ہاتھ مسل کر رہ جاتا ہے ۔ پر دل ہی دل میں وہ ضرور کہتا ہوگا کہ ہائے میں کہاں پھنس گیا ہوں ۔ بہر حال سیما ۔ آندھرا انتخابات میں کچھ حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمان بادشاہ گر کا رول ادا کرسکتے ہیں لیکن ان کے ووٹوں کے نام پر کوئی اور سودا کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ ویسے بھی سیما ۔ آندھرا انتخابات میں دولت پانی کی طرح بہائی جارہی ہے ۔ اس نئی ریاست میں جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر سی پی اور بی جے پی ۔ تلگو دیشم اتحاد کے درمیان اصل مقابلہ ہے ۔ کانگریس کا وہاں کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسمبلی کے 2241 اور لوک سبھا کے لیے 333 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 16 مئی کو ہوجائے گا لیکن جو جماعت یا اتحاد شکست سے دوچار ہوگی وہ تاریخ کا ایک حصہ بن جائے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT