Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / سیما آندھرا میں مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی پر زور

سیما آندھرا میں مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی پر زور

تجویز پر عدم عمل پر مسترد ووٹ استعمال کرنے کا انتباہ ، یونائٹیڈ مسلمس فورم کا بیان

تجویز پر عدم عمل پر مسترد ووٹ استعمال کرنے کا انتباہ ، یونائٹیڈ مسلمس فورم کا بیان

حیدرآباد۔/6 مارچ(سیاست نیوز) یونائٹیڈ مسلمس فورم نے آج سیاسی پارٹیوں کو انتباہ دیا کہ اگر منقسمہ ریاست آندھرا پردیش میں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے مسلمانوں کو خاطر خواہ نمائندگی نہ دی جائے تو مسلمان آئندہ عام انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال تو کریں گے مگر تمام امیدواروں کو مسترد کئے جانے کی سہولت سے استفادہ کریں گے۔ مسرز سید صابر حسین، سید حامد، عبدالغنی عمری ، ایوب علی خان، امتیاز الحق اور تراب علی خالد نے آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں بھی اگرچہ مسلمانوں کو ان کا مستحقہ مقام نہیں ملا تاہم حیدرآباد اور تلنگانہ میں کسی حد تک مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی حاصل تھی۔ متحدہ ریاست میں حیدرآباد کو مسلمانوں کے مرکز کی حیثیت حاصل تھی تاہم ریاست کی تقسیم کے بعد سیما آندھرا علاقہ میں مسلمانوں مختلف شعبہ حیات میں مناسب نمائندگی کی ضرورت ہے بصورت دیگر منقسمہ ریاست میں مسلمانوں کی پسماندگی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تو مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ان کی حکومت تشکیل پانے کی صورت میں مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور توقع ہے کہ وہ عہد پر کار بند رہیں گے چونکہ انہوں نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا تو جو پورا ہوا تاہم سیما آندھرا علاقہ میں بھی مسلمانوں کو پسماندگی سے بچانے بہ لحاظ آبادی تحفظات فراہم کرنے اور مسلم غلبہ والے اسمبلی حلقوں میں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیتے ہوئے انہیں سیاسی نمائندگی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر ایواب علی خان نے بتایا کہ سیما آندھرا علاقہ میں کرنول کو مسلمانوں کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے اس لئے ہم تمام سیاسی پارٹیوں سے خواہش کرتے ہیں کہ کرنول حلقہ اسمبلی سے مسلم امیدواروں کو ہی میدان میں اتارا جائے۔ اسی طرح مسلم غالب آبادی والے علاقے جیسے نندیال، ادونی، اننت پور، نیلور اور کدری وغیرہ سے بھی مسلمانوں کو ٹکٹ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف علاقوں سے مختلف سیاسی پارٹیاں مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارتی ہیں تو اس صورت میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کے امکانات موہوم ہوجاتے ہیں اور نتیجتاً یہ صورتحال پیدا ہوسکتی ہے کہ نئی اسمبلی میں مسلم نمائندگی صفر ہی رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرنول اسمبلی حلقہ میں رائے دہندگان کی مجموعی تعداد تقریباً 2.22 لاکھ ہے جبکہ مسلم رائے دہندگان کی تعداد 82 ہزار ہے۔ کرنول میں مسلمان اقلیت میں نہیں بلکہ اکثریت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی پارٹیاں مسلم غالب آبادی والے حلقوں سے مسلم امیدواروں کو نہیں ٹھہرایا جائے تو مسلمان متحدہ طور پر رائے دہی میں تمام امیدواروں کو مسترد کردیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT