Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / سیما آندھرا میں وائی ایس آر کانگریس کو اکثریت !

سیما آندھرا میں وائی ایس آر کانگریس کو اکثریت !

حیدرآباد ۔19 ۔ مارچ (سیاست نیوز) جیسے جیسے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کی تاریح قریب آرہی ہے اہم سیاسی جماعتوں نے عوامی تائید حاصل کرنے کیلئے مہم میں شدت پیدا کرلی ہے ۔ مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے وقتاً فوقتاً اوپنین پول سروے منظر عام پر آرہے ہیں اور خود سیاسی پارٹیاں بھی اپنا موقف جاننے کیلئے سروے کرا رہی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے م

حیدرآباد ۔19 ۔ مارچ (سیاست نیوز) جیسے جیسے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کی تاریح قریب آرہی ہے اہم سیاسی جماعتوں نے عوامی تائید حاصل کرنے کیلئے مہم میں شدت پیدا کرلی ہے ۔ مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے وقتاً فوقتاً اوپنین پول سروے منظر عام پر آرہے ہیں اور خود سیاسی پارٹیاں بھی اپنا موقف جاننے کیلئے سروے کرا رہی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور تلگو دیشم کو تلنگانہ میں عوامی تائید کے بارے میں متضاد رپورٹس منظر عام پر آئیں۔ تاہم تازہ ترین سروے کے مطابق وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور تلگو دیشم دونوں میں تلنگانہ اضلاع میں بھی اپنا موقف مستحکم کیا ہے۔ انٹلیجنس کے ایک سروے کے مطابق تلنگانہ میں معلق اسمبلی ہوگی جبکہ سیما آندھرا میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئے گی۔ مختلف میڈیا اداروں اور انٹلیجنس کی رپورٹس کی بنیاد پر پیش قیاسی کی جارہی ہے کہ مجوزہ انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی تلنگانہ میں بہتر مظاہرہ کرے گی۔

باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تشکیل تلنگانہ کے حق میں پارلیمنٹ میں بل کی منظوری اور صدر جمہوریہ کی جانب سے یوم تاسیس کے تعین کے بعد ابتداء میں تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو تلنگانہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رائے دہندوں تک ان جماعتوں کی رسائی آسان ہوچکی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف سروے رپورٹس میں سیما آندھرا میں وائی ایس آر کانگریس حکومت کی پیش قیاسی کی گئی اور تلگو دیشم کو عوامی تائید کے بارے میں رپورٹس تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سروے کے مطابق کانگریس پارٹی کی جانب سے جس طرح قائدین کی اکثریت تلگودیشم میں شمولیت اختیار کی گئی ہے، اس سے پارٹی کو فائدہ کے بجائے نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے پارٹی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے قائدین اور کارکن نئے قائدین کی آمد سے ناراض ہے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں ان سے ناانصافی ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف تلنگانہ کی 119 اسمبلی نشستوں میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی تقریباً 40 نشستوں پر بہتر مظاہرہ کے موقف میں ہے جبکہ لوک سبھا کی 17 کے منجملہ 7 نشستوں پر وہ حریف جماعتوں کو سخت مقابلہ دے سکتی ہے۔

اس سروے میں ایک طرف تلنگانہ حامی جماعتوںکو الجھن میں مبتلا کردیا تو دوسری طرف وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے کیڈر کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ سروے کے مطابق ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں شروع فلاحی اسکیمات کا عوام میں مثبت اثر پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کی موت کے بعد اگرچہ کانگریس پار ٹی ہی برسر اقتدار رہی لیکن فلاحی اسکیمات کو موثر انداز میں نافذ نہیں کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ کے غریب اور متوسط طبقات ریاست کی تقسیم کے مسئلہ سے زیادہ فلاحی اسکیمات کی بنیاد پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی تائید کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف سروے رپورٹس کی بنیاد پر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے پارٹی قائدین کو ہدایت دی کہ وہ تلنگانہ میں اقلیتوں اور نوجوان رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کریں۔ تلنگانہ ہر اسمبلی حلقہ میں نوجوان رائے دہندوں کی تعداد 30 فیصد بتائی جاتی ہے۔ طلباء کیلئے شروع کردہ اسکالرشپ،

فیس باز ادائیگی اسکیمات اور مختلف طبقات کیلئے اقامتی ہاسٹلس کے علاوہ اقلیتوں کو تعلیم و روزگار میں چار فیصد تحفظات کی فراہمی جیسے مسائل کی بنیاد پر وائی ایس آر کانگریس پار ٹی رائے دہندوں سے رجوع ہو گی۔ کھمم میں جگن موہن ریڈی کی کامیاب ریالی کے بعد پارٹی نے محبوب نگر سے تلنگانہ علاقوں میں انتخابی مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ میں جگن موہن ریڈی اور شرمیلا کے دوروں کے پروگرام کو قطعیت دی جارہی ہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ سیما آندھرا میں جگن موہن ریڈی کے دورہ کے موقع پر اقلیتیں کھل کر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی تائید اعلان کر رہی ہے۔ سروے میں اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ تلگو دیشم اور ٹی آر ایس میں دیگر جماعتوں سے قائدین کی بڑے پیمانہ پر شمولیت سے داخلی ناراضگی میں اضافہ ہوگا اور اس کا اثر نتائج پر پڑسکتا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے تحت 15 اسمبلی حلقوں میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی تقریباً 6 حلقوں میں اپنا مضبوط کیڈر رکھتی ہے اور آج بھی حیدرآباد میں اقلیتیں وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے وابستہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT