Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / سیما آندھرا میں پولنگ کیلئے وسیع تر سکیوریٹی انتظامات

سیما آندھرا میں پولنگ کیلئے وسیع تر سکیوریٹی انتظامات

مرکزی نیم فوجی دستوں کی 272 کمپنیوں کی طلبی ، چیف الکٹورل آفیسر بھنور لعل کا بیان

مرکزی نیم فوجی دستوں کی 272 کمپنیوں کی طلبی ، چیف الکٹورل آفیسر بھنور لعل کا بیان

حیدرآباد ۔ 3 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاستی چیف الکٹورل آفیسر مسٹر بھنور لعل نے کہا کہ مستقل سکونت رکھنے کے باوجود فہرست رائے دہندگان سے ناموں کو نکالدئیے جانے ( حذف کردینے ) کی انہیں متعدد شکایتیں وصول ہوئی ہیں ۔ ان شکایات کی باقاعدہ تحقیقات کروائی جارہی ہیں اور بعد تحقیقات خاطی پائے جانے والے عہدیداروں اور ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں ایسے افراد جن کے نام فہرست رائے دہندگان سے نکالدئیے گئے ہیں ۔ وہ آن لائن اپنی تفصیلات پیش کریں تاکہ تحقیقات کروانے میں اور بھی مدد حاصل ہوسکے ۔ ریاست میں پہلے مرحلہ کے تحت علاقہ تلنگانہ کے اضلاع میں انتخابات کا انتہائی پرامن انداز میں انعقاد عمل میں لایا گیا ہے ۔ کوئی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ جس کی وجہ سے پہلے مرحلہ کے تحت کسی ایک مرکز رائے دہی پر دوبارہ رائے دہی کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ جس کے لیے ریاستی چیف الکٹورل آفیسر نے انتخابی فرائض کی انجام دہی میں اپنی خدمات انجام دینے والے تمام عہدیداروں و ملازمین کے ساتھ کے ساتھ عوام کی زبردست ستائش کی اور اظہار تشکر کرتے ہوئے 7 مئی کو سیما آندھرا علاقہ میں دوسرے مرحلہ کے تحت 25 لوک سبھا اور 175 اسمبلی حلقہ جات کے لیے منعقد ہونے والے انتخابات میں 90 فیصد رائے دہی کی قوی توقع کا اظہار کیا ۔ آج یہاں اپنے چیمبر واقع سکریٹریٹ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی چیف الکٹورل آفیسر مسٹر بھنور لعل نے کہا کہ دوسرے مرحلہ کے تحت منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 25 لوک سبھا حلقوں کے لیے 333 امیدوار اور 175 اسمبلی حلقوں کے لیے 2243 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں ۔ جب کہ رائے دہی کے لیے سیما آندھرا میں جملہ 40708 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں ۔ مختلف نوعیت کے مسائل پائے جانے والے 23 ہزار مراکز رائے دہی میں لائیو ویب کاسٹنگ کی جائے گی ۔ ماباقی پولنگ اسٹیشن میں ویڈیو گرافی کروائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا میں رائے دہندوں کی تعداد 3.67 کروڑ پائی جاتی ہے ۔ الیکشن شناختی کارڈ نہ رہنے کے باوجود الیکشن عہدیداروں کی جانب سے جاری کردہ ووٹر سلپ یا دیگر شناختی کارڈز پیش کرنے پر رائے دہندوں کو حق رائے دہی سے استفادہ فراہم کرنے کا موقعہ دینے کے لیے پھر ایکبار متعلقہ عہدیداروں کو سخت ہدایات دی جائیں گی ۔ مسٹر بھنور لعل نے کہا کہ سیما آندھرا کے 13 اضلاع میں رائے دہی کے دن تمام سرکاری محکمہ جات ، خانگی اداروں کو بااجرت تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ہر ووٹر اپنے حق رائے دہی کا آزادانہ طور پر استعمال کرسکیں ۔ انہوں نے بتایا کہ انتہا پسندانہ سرگرمیوں سے متاثرہ اراکو اور پاڈیرو حلقہ جات میں رائے دہی کے اوقات 7 بجے صبح تا 4 بجے شام پاروتی پورم ، سالور ، کروپم ، رمپاچوڈاورم ، ہداکورا پاڈو ، ونوکونڈا ، گرجالا ، اور ماچرلہ اسمبلی حلقہ جات میں رائے دہی کے اوقات صبح 7 بجے تا 5 بجے شام رہیں گے ۔ ماباقی 165 حلقہ جات اسمبلی میں رائے دہی کے اوقات 7 بجے صبح تا 6 بجے شام تک رہیں گے اور اختتامی وقت سے قبل مرکز رائے دہی کے احاطہ میں پائے جانے والے تمام رائے دہندوں کو قطار کے ختم ہونے تک حق رائے دہی سے استفادہ کا موقعہ فراہم کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ پولنگ بوتھس کے پاس رائے دہندوں کی رہنمائی کے لیے 41 ہزار ین ایس ایس والینٹرس تعینات کئے جارہے ہیں ۔ علاوہ ازیں سیکوریٹی انتظامات کے تحت 272 مرکزی نیم فوجی دستوں کی کمپنیوں کو تعینات کرنے کے علاوہ 1.10 لاکھ ریاست کے ملازمین پولیس و عہدیداروں کی خدمات حاصل کر کے تعینات کیا جارہا ہے ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں فنی خرابیوں کا انسداد کرنے کے لیے اب تک ہی وسیع تر اقدامات کئے گئے ہیں اور بتایا کہ 60 ہزار بیالٹ یونٹس اور 41 ہزار کنٹرول یونٹس کا استعمال کیا جارہا ہے اور زائد الیکٹرانک مشینس بھی فراہم کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ریاست میں 140 کروڑ روپئے 74 کیلو سونا ضبط کیا گیا ہے اور 4.99 لاکھ لیٹر شراب بھی ضبط کی گئی ہے ۔ شراب کی منتقلی میں بعض سیاسی قائدین کا ہاتھ کارفرما رہنے سے متعلق ا طلاعات کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی اور تحقیقات مکمل ہونے پر ان کے ناموں کا بھی انکشاف کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا ۔ بھنور لعل نے کہا کہ ملک بھر میں اب تک 270 کروڑ روپئے ضبط کئے گئے ہیں ۔ ریاست آندھرا پردیش رقومات کی ضبطی میں سرفہرست ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ علاقہ تلنگانہ میں پہلے مرحلہ کے تحت منعقدہ انتخابات میں رائے دہی کا قطعی اوسط 70.85 فیصد رہا ۔ جب کہ سال 2009 کے انتخابات سے تقابل کیا جائے تو ان انتخابات میں رائے دہی کے اوسط میں صرف 2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اضلاع میں رائے دہی مناسب انداز میں ہوئی ہے لیکن حلقہ جات لوک سبھا حیدرآباد ، سکندرآباد اور ملکاجگری میں رائے دہی کا اوسط اطمینان بخش نہیں ہے لیکن سال 2009 انتخابات کے مقابلہ میں کسی قدر بہتر ضرور ہے ۔

TOPPOPULARRECENT